کراچی: پاکستان اسٹیل ملز سے 4 ہزار 544 ملازمین برطرف

اپ ڈیٹ 27 نومبر 2020

ای میل

وفاقی کابینہ نے رواں برس جون میں پاکستان اسٹیل ملز کے تمام ملازمین کونکالنے کا فیصلہ کیا تھا—فائل/فوٹو: رائٹرز
وفاقی کابینہ نے رواں برس جون میں پاکستان اسٹیل ملز کے تمام ملازمین کونکالنے کا فیصلہ کیا تھا—فائل/فوٹو: رائٹرز

پاکستان اسٹیل ملز نے ڈی سی ایز ،منیجرز اور صحت عامہ سمیت مختلف شعبوں سے 4 ہزار 544 ملازمین کو نکالنے کی فہرست تیار کرلی۔

ترجمان پاکستان اسٹیل ملز محمد افضل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد کی ملازمت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ‘گروپ 2، 3، 4 اور جے او سیز ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے’۔

مزید پڑھیں: اسٹیل ملز کے ملازمین کی تعداد میں کمی کیلئے 19 ارب روپے سے زائد کی ضمنی گرانٹ منظور

پاکستان اسٹیل ملز کی ملازمت سے برطرفی کی زد میں آنے والے شعبوں میں ‘اساتذہ، لیکچرارز، اسکولوں اور کالجوں کا غیر تدریسی عملہ، ڈرائیورز، فائرمین، آپریٹرز، صحت عامہ اور سیکورٹی اسٹاف، چوکیدار، مالی، پیرا میڈیکل اسٹاف، باورچی، آفس اسٹاف، فنانس ڈائریکٹوریٹ کا عملہ، اے اینڈ پی ڈائریکٹوریٹ اور اے اینڈ پی ڈپارٹمنٹ شامل ہے’۔

ترجمان نے اپنے بیان میں آگاہ کیا کہ ‘ڈی سی ایز، ایس ای ڈی، جی ایم اور مینیجرز کو بھی فارغ کردیا گیا ہے’۔

انہوں نے بتایا کہ برطرف کیے گئے تمام ملازمین کو بذریعہ ڈاک خطوط بھیج دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی تعداد میں کمی کا عمل شروع کرنے کے لیے 19 ارب 65 کروڑ 60 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی گئی تھی۔

اس سے قبل جون میں وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل ملز کے تمام ملازمین کو برطرف کرنے کی منظوری دے دی تھی لیکن اس معاملے پر شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

پاکستان اسٹیل ملز کے حوالے سے کابینہ نے کہا تھا کہ سالہا سال سے غیر فعال ادارے کا سارا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی مفاد میں اصلاحاتی ایجنڈے کو مزید آگے بڑھایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے اسٹیل ملز ملازمین کو فارغ کرنے کے فیصلے کی توثیق کردی

ای سی سی نے 3 جون کو پاکستان اسٹیل ملز کے 9 ہزار 350 ملازمین (100فیصد) کو برطرف کرنے کی منظوری دی تھی۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا تھا کہ حالیہ فیصلے کے نتیجے میں حکومت اسٹیل ملز کے 100 فیصد ملازمین کو فارغ کردے گی جن کی تعداد 9 ہزار 350 ہے، کُل تعداد میں سے صرف 250 ملازمین کو اس منصوبے پر عمل درآمد اور ضروری کام کی انجام دہی کی خاطر 120 روز کے لیے برقرار رکھا جائے گا۔

ای سی سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد تمام ملازمین کو برطرفی کے نوٹس جاری کردیے جائیں گے۔

کابینہ میں کہا گیا تھا کہ اس منصوبے کا مالیاتی اثر 19 ارب 65 کروڑ 70 لاکھ روپے کے برابر ہوگا جو گریجویٹی اور پراوڈنٹ فنڈز کی ادائیگی کے لیے یکمشت جاری کیے جائیں گے۔

پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین نے برطرفی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ 15 اپریل کو ہیومن ریسورس بورڈ کے اجلاس میں ہوا۔

رپورٹ میں اقرار کیا گیا تھا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے 8 ہزار 884 میں سے 7 ہزار 784 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔

اسٹیل ملز انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں بتایا تھا کہ ’صرف ایک ہزار ملازمین کی گنجائش ہے‘۔

مزید پڑھیں: اسٹیل ملز سے ملازمین کو نکالنے کا معاملہ: عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت 9 جون مقرر کردی

علاوہ ازیں رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ موجودہ اور سابق ملازمین کو 40 ارب کی ادائیگیاں واجب الادا ہیں جبکہ سال 2009 سے 2015 تک بھاری نقصان پر اسٹیل ملز کو بند کرنا پڑا۔

اسٹیل ملز میں ملازمین کی تعداد سے متعلق بتایا گیا تھا کہ 1990 اور 2019 میں ملازمین کی تعداد بالترتیب 27 ہزار اور 9 ہزار 350 تھی۔

رپورٹ کے مطابق 2015 سے بند اسٹیل ملز کے ملازمین کو 30 ارب کی ادائیگیاں ہوچکی ہیں جبکہ وفاقی حکومت بیل آؤٹ پیکجز اور تنخواہوں کی مد میں اب تک 92 ارب روپے ادا کر چکی ہے۔

سپریم کورٹ کو پیش کردہ رپورٹ میں اقرار کیا گیا تھا کہ اسٹیل ملز کے مختلف منصوبوں کی مد میں قومی خزانے کو 229 ارب کا نقصان پہنچا۔