ملک بھر میں پولیو ویکسین کی فراہمی کیلئے 5 روزہ مہم کا آج سے آغاز

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2020

ای میل

یہ مہم 5 روز تک جاری رہے گی — فائل فوٹو: اے پی پی
یہ مہم 5 روز تک جاری رہے گی — فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: ملک بھر میں پولیو سے تحفظ کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی 5 روزہ مہم کا آج سے آغاز ہوگیا، اس مہم کے دوران ملک میں پانچ سال سے کم عمر 3 کروڑ 90 لاکھ بچوں کو ٹیکے لگائے جائِیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 2 لاکھ 85 ہزار ہیلتھ ورکرز اپاہج کرنے والی اس بیماری سے بچوں کو بچانے کے لیے کووڈ-19 کے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے گھر گھر جائیں گے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کے لیے حکومت پرعزم ہے، ہم بچوں میں قوت مدافعت کے خلا کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں جہاں بدقسمتی سے کووڈ-19 کے دوران اہم سروسز کی فراہمی میں تعطل کی وجہ سے یہ خلا وسیع ہو گیا ہے، اور اس دوران بچوں کو بروقت اور سلسلہ وار پولیو کی ویکسینیشن کرانا یقینی بنانا، ان کے مدافعتی خلا کو دور کرنا اور انہیں پولیو سے بچانا ہمارے لیے مشکل ہوگیا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کی وبا و لاک ڈاؤن سے لاکھوں بچوں کی صحت داؤ پر لگ گئی

ان کا کہنا تھا 'میں تمام والدین اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والوں سے گزارش کرتا ہوں کہ مہم کے دوران باقاعدگی سے اپنے بچوں کی پولیو ویکسینیشن ضرور کرائیں'۔

پولیو مہم کے آغاز کے موقع پر ڈاکٹر فیصل سلطان نے امید ظاہر کی کہ 'مجھے یقین ہے ہم ساتھ مل کر اپنے بچوں کے لیے صحت مند، محفوظ اور پولیو سے پاک پاکستان بنانے کے اپنے ہدف کو حاصل کرلیں گے'۔

اعلامیے کے مطابق مہم کے دوران تربیت یافتہ فرنٹ لائن ورکر پولیو ویکسین لے کر ہر ایک بچے تک پہنچیں گے جبکہ وہ اس دوران کووڈ-19 کے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر سختی سے عمل کریں گے جیسے ماسک پہننا، ہینڈ سنیٹائزر کا استعمال کرنا اور مہم کے دوران بتائے گئے کم سے کم فاصلے کو برقرار رکھنا شامل ہے، یہ مہم افغانستان کے ساتھ مل کر تیار کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے لاکھوں بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کیلئے ویکسین کی فراہمی واحد حل

پولیو کے خاتمے کے ادارے، نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا کہنا تھا کہ 'بنیادی مدافعتی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھتے ہوئے یکے بعد دیگرے منصوبہ بندی کے تحت مہمات کو جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ جلد ہی پانچ سال سے کم عمر بچوں کی مدافعتی قوت کو فوری طور پر بڑھایا جاسکے'۔

ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اس مشکل قومی مدافعتی مہم کے دوران کوئی بچہ محروم نہ رہ جائے، مہم کا مقصد گزشتہ تین ماہ کے دوران بچوں میں کامیابی کے ساتھ قوت مدافعت پیدا کرنے کی کوششیں کرنا تھا'۔

ان کا کہنا تھا 'میں تمام پاکستانیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اسے قومی مہم سمجھیں اور فرنٹ لائن ورکرز کی مدد کریں جو اس ہفتے کے دوران ضروری پولیو ویکسین کے ساتھ تمام بچوں تک پہنچیں گے، کمیونٹیز، میڈیا، مذہبی رہنماؤں سوشل ایکٹوسٹ، شخصیات اور ڈاکٹرز سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو اس مہم میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ کوئی بچہ پولیو کی بیماری کا شکار ہوکر عمر بھر محتاج ہوجانے کے خطرے سے بچ سکے'۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں 5 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

یاد رہے پاکستان اپنے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ دنیا کے ان دو ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہیں اور حالیہ کچھ عرصے میں تیزی سے پولیو کیسز بڑھنے کی وجہ سے ملک کو پولیو کے خاتمے کے حوالے سے چیلنجنگ صورتحال کا سامنا ہے۔

رواں سال ملک میں اب تک مجموعی 82 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے جن میں بلوچستان سے 24، خیبر پختونخوا سے 22، پنجاب سے 14 اور سندھ سے 22 پولیو کے کیسز رپورٹ کیے گئے۔

دوسری جانب بلوچستان میں 5 روزہ پولیو مہم کے لیے تمام اقدامات مکمل کیے جاچکے ہیں۔

بلوچستان کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر ای او سی کے کوآرڈینیٹر راشد رزاق کا کہنا تھا کہ صوبے کے 33 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر 25 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا انتظام کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: انسدادِ پولیو، پاکستان میں ایک خطرناک مہم

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مہم میں حصہ لینے والے کارکنان اور ویکسینیٹرز کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

راشد رزاق کا کہنا تھا کہ مہم کے لیے 10 ہزار 585 ٹیمیں تیار کی گئی ہیں جن میں سے 8 ہزار 988 رضاکار گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی جبکہ 941 ویکسینیٹرز کی ٹیمیں ٹاؤن اور شہروں میں کیمپس لگا کر بیٹھیں گی، 594 ٹیمیں صوبے کی سرحدوں پر تعینات کی جائیں گی تاکہ والدین کے ساتھ صوبے میں آنے اور جانے والے بچوں کو قطرے پلائے جاسکیں۔

راشد رزاق کا کہنا تھا کہ 'اس مہم کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں جس میں بلوچستان کی لیویز فورس اور پولیس کے اہلکار قطرے پلانے والی ٹیموں کے ساتھ ساتھ رہیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مذہبی اسکالرز، قبیلے کے عمائدین اور دیگر وہ افراد جن کا اپنے علاقوں میں اثر و رسوخ ہے وہ والدین کو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے حوصلہ افزائی کریں۔


اس خبر میں کوئٹہ سے سلیم شاہد نے بھی معاونت کی۔

یہ خبر 30 نومبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔