اتنی آگاہی پیدا کریں گے کہ کوئی توہین مذہب قانون کا غلط استعمال نہ کر سکے، طاہر اشرفی

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2020

ای میل

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں— فوٹو: اسکرین شاٹ
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں— فوٹو: اسکرین شاٹ

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے عوام میں اتنی آگاہی پیدا کریں گے کہ کوئی بھی توہین مذہب اور توہین رسالت قانون کا غلط استعمال نہ کر سکے۔

لاہور میں مسیحی برادری کے رہنماؤں اور پیشواؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ ہم ہندو، عیسائی، سکھ سمیت پاکستان کی تمام غیرمسلم قیادت کے ساتھ بیٹھیں اور مل کر اتنی آگاہی پیدا کریں گے کہ ملک میں کوئی بھی اس قانون کا غلط استعمال نہ کر سکے۔

مزید پڑھیں: مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے حکومت پاکستان کا کرتارپور پر گانا ریلیز

ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی وجہ سے رمشا مسیح آج زندہ ہے، اس قانون کی وجہ سے مسیحی ورکر پرسوں اپنے گھروں کو چلے گئے، اس کا غلط استعمال رکنا چاہیے اور وہ رکا بھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ علما بورڈ میں ہمارے پاس 104 کیسز آئے تھے، 100 کیسوں میں ہم نے لوگوں کو بے گناہ قرار دیا اور اپنی سفارشات دی۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے اس سلسلے میں تعاون پر تمام مکاتب فکر کے علما اور وکلا کا شکریہ ادا کیا۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ جب کورونا کا مرض آیا تو ہماری مسیحی برادری نے جس طریقے سے حکومت سے تعاون کیا اور لوگوں کا خیال رکھا، وہ قابل ستائش ہے اور اسی طرح کرسمز کی تقریبات میں بھی یہ تمام ایس او پیز اور احتیاطی تدابیر کا خیال رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں تین عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے ایک بیان آیا ہے لیکن ان عالمی اداروں اور تنظیموں کو خیال کرنا چاہیے کہ جب وہ کسی ملک کے بارے میں بات کررہے ہوں تو وہاں کے حقائق کو ضرور جان لیں۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ پاکستان میں گزشتہ جولائی سے اب تک 6 قادیانی قتل ہوئے، ان میں سے چار کے ملزم گرفتار ہو چکے ہیں، دو مقدمات کے ملزمان کی پولیس تحقیق کررہی ہے اور وہ ذاتی نوعیت کے مقدمات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا طاہر اشرفی مذہبی ہم آہنگی کیلئے وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی مقرر

انہوں نے کہا کہ میں واضح کہہ دینا چاہتا ہوں کہ کسی بھی پاکستانی کے قتل، اس کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، قانون موجود ہے، آئین موجود ہے اس کے تحت سب کو یہاں زندگی گزارنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان علما بورڈ نے اس بات کی توثیق کی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ دنیا جان لے کہ یہ جو 295-سی کا غلط استعمال ہے، اس پاکستان میں اب یہ نہیں ہو گا، قانون اور قانون داری پر عمل ہو گا۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم نے وزیر اعظم عمران خان کے اس وژن کی توثیق کی ہے کہ تمام آسمانی کتب، تمام انبیا اور توہین مذاہب کی قانون سازی اقوام متحدہ سے کی جائے اور اس بات کو اسلامی تعاون تنظیم نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومت کی صرف دو قانونی باڈیاں ہیں، ایک صوبے میں اتحاد بین المسلمین کمیٹی اور ایک مرکز میں قومی علما و مشائخ کونسل، اس کے علاوہ جو امن کمیٹیوں کے نام پر یہاں لوگوں کو تنگ کیا جاتا ہے، خرید و فروخت کی جاتی ہے، کوئی بین المذاہب کمیٹی سرے سے نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کا علما سے مذہبی ہم آہنگی کیلئے مثالی کردار ادا کرنے پر زور

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم مسیحی قیادت کے ساتھ ایک رابطہ کار کمیٹی بنا رہے ہیں اور اس کا کوآرڈینیٹر پادری ایمینوئیل کھوکھر کو بنایا جا رہا ہے، جبری مذہب کی تبدیلی، توہین مذہب، ناموس رسالت کے قانون کا غلط استعممال ہو یا کوئی اور مسائل ہوں، ہم کر حل کریں گے۔