اشتعال انگیز تقاریر کیس: ایم کیو ایم کے 5 رہنما الزامات سے بری

ای میل

سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت ہوئی۔---فوٹو: ڈان نیوز
سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت ہوئی۔---فوٹو: ڈان نیوز

کراچی میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے 2015 میں لندن میں مقیم پارٹی کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے اشتعال انگیز تقاریر کرنے میں مبینہ طور پر سہولت فراہم کرنے اور سننے سے متعلق مقدمے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے 5 سینئر رہنماؤں کو الزامات سے بری کردیا۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار، وسیم اختر، قمر منصور، خواجہ اظہارالحسن اور رؤف صدیقی سمیت پارٹی کے 200 کارکنوں کے ساتھ ملک کے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف الطاف حسین کی جانب سے نفرت انگیز تقریر کی سہولت اور سننے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: اشتعال انگیز تقاریر کیس: ایم کیو ایم رہنماؤں پر فرد جرم عائد

سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت ہوئی۔

اے ٹی سی کے جج نے دونوں فریقوں سے شواہد اور حتمی دلائل ریکارڈ کرنے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

جج نے نوٹ کیا کہ استغاثہ ایم کیو ایم رہنماؤں پر لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

جج نے ایم کیو ایم کے پانچ رہنماؤں کی جانب سے فوجداری ضابطہ اخلاق کی دفعہ K256 کے تحت دائر درخواستوں کو قبول کرلیا اور سہراب گوٹھ پولیس اسٹیشن میں درج دو ایک جیسے مقدمات میں بریت کی درخواست کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیس، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

استغاثہ کے مطابق شکایت کنندہ ہاشم خان اور حبیب اللہ حاجی نے الزام لگایا تھا کہ 12 جولائی 2015 کو مختلف چینلز نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی ملک اور اس کی مسلح افواج کے خلاف تقریر کی۔

استغاثہ نے مزید الزام لگایا کہ الطاف حسین نے ملک میں دہشت گردی کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی۔

شکایت کرنے والوں نے ڈاکٹر فاروق ستار، وسیم اختر، روف صدیقی، خواجہ اظہارالحسن، قمر منصور، ریحان ہاشمی، عامر خان، خالد مقبول صدیقی، راشد گوڈیل، گل فراز خٹک، سلمان مجاہد، عبدالقادر خانزادہ، خوش بخت شجاعت، شاہد پاشا، قمر منصور اور کنور نوید سمیت 200 پارٹی کارکنان کے نام درج تھے۔

امسال جنوری میں اے ٹی سی نے بانی ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقاریر سے متعلق مقدمات میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں پر فرد جرم عائد کردی تھی۔

مزیدپڑھیں: اشتعال انگیز تقریر مقدمہ، ایم کیو ایم رہنماؤں کی عدالت میں پیشی

شہر قائد کی انسداد دہشت گردی میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے 27 مقدمات کی سماعت ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ 22 اگست 2016 کو ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مخالف تقریر اور میڈیا ہاؤس پر حملوں میں سہولت کاری پر فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی اور عامر لیاقت حسین سمیت دیگر پر کراچی کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے اور عدالت نے متعدد رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔

بعد ازاں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 23 اکتوبر 2018 کو اشتعال انگیز تقاریر کے 21 مقدمات میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں پر فرد جرم عائد کردی تھی۔