پاکستانیوں کو کینیڈا کی اسٹوڈنٹ ڈائریکٹ اسٹریم میں شامل کرنے کا خیر مقدم

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2020

ای میل

پاکستانی ہائی کمشنر نے واضح کیا کہ ویزوں کے اجرا میں ہائی کمیشن کا کوئی کردار نہیں ہے—فائل فوٹو: ڈان
پاکستانی ہائی کمشنر نے واضح کیا کہ ویزوں کے اجرا میں ہائی کمیشن کا کوئی کردار نہیں ہے—فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: کینیڈا کے لیے پاکستان کے ہائی کمشنر بشیر تارڑ نے کینیڈا کی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں کو اسٹوڈنٹ ڈائریکٹ اسٹریم میں شامل کرنے کا خیر مقدم کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد پاکستانی طلبہ کی ویزا درخواستوں پر تیزی سے کارروائی کرانا ہے جو بائیومیٹرک اور اہلیت کے دیگر معیارات پر پورا اترنے کے بعد بہت کم وقت میں منظور ہوجاتی ہیں۔

اس سلسلے میں ایک مقامی ریڈیو چینل سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمشنر نے واضح کیا کہ پاکستانی طلبہ کو ویزوں کے اجرا میں ہائی کمیشن کا کوئی کردار نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کیلئے اب کینیڈا کے اسٹوڈنٹ ویزا کا حصول ’3 ہفتوں میں ممکن

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانیوں کو ویزوں کا اجرا صرف اور صرف کینیڈین حکومت کا استحقاق ہے۔

تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ہائی کمیشن نے کینیڈین حکام اور وزیر امیگریشن سے درخواست کی ہے کہ وہ ویزا مسترد ہونے کے معاملے کو دیکھیں۔

ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ کینیڈین حکام کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ ویزا درخواستیں ادھوری معلومات کے باعث مسترد ہوئیں۔

مزید پڑھیں: وہ ممالک جہاں جانے کے لیے پاکستانیوں کو ویزے کی ضرورت نہیں

ہائی کمشنر نے پاکستانی طلبہ کو مشورہ دیا کہ ویزا درخواستوں کو تمام درکار معلومات کے ساتھ احتیاط اور درست طریقے سے پُر کریں تا کہ ویزا درخواستیں درست معلومات اور دستاویز مانگنے پر تاخیر کا شکار یا مسترد نہ ہوں۔


یہ خبر یکم دسمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔