کورونا ویکسین کی دستیابی تک حج معمول کے مطابق نہیں ہوگا، وزیر مذہبی امور

01 دسمبر 2020

ای میل

نورالحق قادری نے کہا کہ اگر ایس او پیز کے ساتھ حج ہوا تو لازمی طور پر اخراجات بڑھیں گے — فائل فوٹو / ڈان نیوز
نورالحق قادری نے کہا کہ اگر ایس او پیز کے ساتھ حج ہوا تو لازمی طور پر اخراجات بڑھیں گے — فائل فوٹو / ڈان نیوز

اسلام آباد: وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین جب تک دستیاب نہیں ہوجاتی تب تک معمول کے مطابق حج نہیں ہوگا۔

نجی چینل 'جیو نیوز' کے مارننگ شو ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نور الحق قادری نے کہا کہ 'آئندہ سال کے حج کے حوالے سے سعودی حکومت اور اداروں کے درمیان مشاورت جاری ہے اور انہوں نے ابھی کوئی حتمی اندازہ نہیں بتایا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'تاہم سعودی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک کورونا ویکسین دستیاب نہیں ہوتی اور مختلف ممالک تک وافر مقدار میں پہنچ نہیں جاتی تب تک معمول کےمطابق حج نہیں ہوگا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ویکسین کی عدم دستیابی تک ایس او پیز کے تحت ہی حج ہوگا اور جب ایسا ہوگا تو عازمین کی تعداد کم ہوگی۔'

یہ بھی پڑھیں: کورونا ویکسین کی فراہمی 2021 کی پہلی سہ ماہی تک ہو سکتی ہے، ڈاکٹر فیصل سلطان

نورالحق قادری نے کہا کہ 'اگر ایس او پیز کے ساتھ حج ہوا تو لازمی طور پر اخراجات بڑھیں گے، جبکہ عازمین حج کے لیے وزیر اعظم سے فی الحال سبسڈی کے امور پر بات یا مشاورت نہیں ہوئی۔'

واضح رہے کہ امریکا، برطانیہ، روس اور چین سمیت مختلف ممالک میں تیار ہونے والی متعدد کورونا ویکسینز کے انسانوں پر ٹرائل کے حتمی نتائج جاری کیے جاچکے ہیں اور ان میں سے بیشتر 95 فیصد تک موثر ثابت ہوئی ہیں۔

ان نتائج کے بعد کئی ممالک نے ویکسینز کے جلد از جلد حصول کی دوڑ تیز کردی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

کورونا وائرس کی ویکسین کے حصول کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے ذریعے 15 کروڑ ڈالر کی رقم کی منظوری دی گئی تھی اور آج کابینہ نے اس کی توثیق کردی۔

اس حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے پاکستان کو کورونا کی ویکسین کے حصول کے حوالے سے کہا ہے کہ توقع ہے کہ 2021 کی پہلی سہ ماہی میں اس کا پہلا مرحلہ شروع ہوگا۔

مزید پڑھیں: ایک اور کووڈ ویکسین تیار، استعمال کی اجازت کی درخواست جمع

انہوں نے کہا کہ ویکسین کی منظوری کے لیے 7 نکات کا خیال رکھا گیا اور اس کے تحت مختلف کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا اور ان کے ساتھ باقاعدہ ابتدائی گفتگو شروع ہوچکی ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی استعمال کی اولین ترجیح کووڈ کے علاج میں مصروف صف اول کے طبی عملہ ہوگا، اس کے بعد عمر کی وجہ سے جن کو زیادہ خطرات ہیں، پھر دیگر طبی عملہ اور بعد میں عوام کا نمبر ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کے حصول کے دوران شفاف طریقہ کار کو ممکن بنانے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی درخواست کی گئی تھی جس کی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔