لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں تیز رفتار کورونا ٹیسٹ کا آغاز

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2020

ای میل

ہسپتال میں مقامی عوام کے علاوہ افغان باشندوں کو بھی کورونا وائرس کی مفت تشخیص اور علاج کی پیش کش کی گئی ہے، ترجمان - فائل فوٹو:ڈان
ہسپتال میں مقامی عوام کے علاوہ افغان باشندوں کو بھی کورونا وائرس کی مفت تشخیص اور علاج کی پیش کش کی گئی ہے، ترجمان - فائل فوٹو:ڈان

پشاور: خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید 10 اموات ریکارڈ کی گئیں جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال نے صوبے میں اینٹیجن ڈیٹیکشن ریپڈ ٹیسٹ (اے جی آر ڈی ٹی) کا آغاز کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کورونا وائرس کے 10 مریضوں کا مفت ٹیسٹ کیا گیا جس کے 30 منٹ کے اندر نتائج سامنے آگئے جن میں سے دو افغان شہری تھے۔

ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہسپتال میں مقامی عوام کے علاوہ افغان باشندوں کو بھی کورونا وائرس کی مفت تشخیص اور علاج کی پیش کش کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ویکسین ٹرائلز کیلئے نمونوں کا حجم تقریباً دگنا کردیا گیا

انہوں نے بتایا کہ اس وقت دو افغان شہری ہسپتال میں داخل ہیں۔

محمد عاصم نے کہا کہ اے جی آر ڈی ٹی نے کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی جلد جانچ کرتا ہے جس سے ہسپتال مثبت کیسز کو داخل کرنے اور دیگر کو گھر بھیجنے کے قابل ہوگا۔

دریں اثنا صحت عہدیداروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے 5 فیصد مریض افغان شہری ہیں جنہوں نے مفت تشخیص اور علاج سے فائدہ اٹھایا ہے۔

انہوں نے ڈان کو بتایا کہ ہسپتالوں میں کورونا کے علاج یا معالجے کے بارے میں افغانوں کا کوئی الگ ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق صوبے میں 5 فیصد مریض افغانستان سے آئے ہیں کیونکہ وہاں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وہ ملک جہاں 10 لاکھ افراد کو تجرباتی کورونا ویکسین استعمال کرائی گئی

ان کا کہنا تھا کہ دو سال قبل خیبر پختونخوا حکومت نے مقامی ہسپتالوں میں افغان مریضوں کے علاج پر پابندی عائد کردی تھی اور کہا تھا کہ اس مقصد کے لیے کوئی الگ بجٹ نہیں ملا ہے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ ہدایت کے بعد ہسپتالوں نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی جس کے تحت مریضوں سے قومی شناختی کارڈ طلب کیے گئے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ افغانوں کو سہولت حاصل نہیں ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو تقریبا ایک دہائی سے افغان مہاجرین کی صحت کی دیکھ بھال کے لیے بین الاقوامی ڈونرز خصوصاً یو این ایچ سی آر کی طرف سے کوئی مالی امداد نہیں ملی ہے جس کی وجہ سے انہیں دو سال قبل علاج پر پابندی عائد کرنی پڑی۔

تاہم ایک عہدیدار نے کہا کہ کورونا وائرس کے آغاز کے بعد سے ہی ہسپتالوں میں افغان مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے اور ان سے کوئی سوال نہیں پوچھا گیا کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ جنگ زدہ افغانستان میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک ایک لاکھ 25 ہزار ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جبکہ 44 ہزار میں مثبت تجربہ کیا گیا ہے۔

عہدیدار نے یہ کہا کہ کورونا وائرس سے ہونے والی ایک ہزار 600 اموات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ٹیسٹنگ کی سہولیات کم پیمانے پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب تک 3 ہزار صحت رضاکار اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں اور 65 اس سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔