بھارتی پروپیگنڈا نیٹ ورک کو ضرار کھوڑو نے ڈان نیوز پر ایک سال قبل ہی بےنقاب کردیا تھا

11 دسمبر 2020

حالیہ روز میں سامنے آنے والے پاکستان مخالف بھارتی پروپیگنڈا نیٹ ورک کا سینیئر صحافی ضرار کھوڑو ڈان نیوز پر ایک سال قبل ہی بھانڈا پھوڑ چکے ہیں۔

گزشتہ سال نومبر میں ڈان نیوز کے پروگرام 'ذرا ہٹ کے' میں بھارتی پروپیگنڈا نیٹ ورک کے حوالے سے یورپی یونین کی ڈِس انفو لیب کے حالیہ انکشافات سامنے لاتے ہوئے ضرار کھوڑو نے بتایا تھا کہ 'اس حوالے سے تقریباً دس ماہ قبل ریڈِٹ ڈاٹ کام پر پاکستان کے تھریڈ میں کسی نے تحقیقات کی تھیں، ٹائمز آف جنیوا کی صرف ایک انٹرویو لینے والی خاتون ہیں جو صرف انگریزی بولتی ہیں جبکہ ویب سائٹ کا اپنا مواد صرف وہ ہوتا ہے جو پاکستان بالخصوص بلوچستان سے متعلق ہو اور یہ مواد منفی ہوتا ہے۔'

انہوں نے بتایا تھا کہ 'جس سرور پر ٹائمز آف جنیوا ہوسٹڈ ہے اسی سرور پر کچھ مبینہ جعلی پاکستانی این جی اوز بھی ہوسٹڈ ہیں جو وقتاً فوقتاً پاکستان کے خلاف رپورٹس اور ویڈیوز جاری کرتی ہیں، جسے پھر ٹائمز آف جنیوا چلاتا ہے جسے پھر یہ مبینہ جعلی این جی اوز ری ٹوئٹ کرتی ہیں۔'

ضرار کھوڑو نے بتایا تھا کہ اس بھارتی پروپیگنڈا نیٹ ورک نے پاکستان مخالف مواد شائع کرنے کے لیے صرف جعلی نیوز آؤٹ لیٹس ہی نہیں بنائیں بلکہ ان نیوز ویب سائٹس کو بھی خرید لیا جو بند ہوچکی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر لابی کرنے والا بھارتی نیٹ ورک بے نقاب

سینیئر صحافی کے مزید انکشافات کو یہاں سنا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل یورپی گروپ نے غلط معلومات پھیلانے والے ایسے بھارتی نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تھا جو سال 2005 سے ایسے ممالک، جن کے دہلی کے ساتھ اختلافات ہوں بالخصوص پاکستان، کو بدنام کرنے کے لیے کام کر رہا تھا۔

گزشتہ برس یورپی یونین کی ڈِس انفو لیب نے 65 ممالک میں بھارتی مفادات کے لیے کام کرنے والے 265 مربوط جعلی مقامی میڈیا آؤٹ لیٹس کا نیٹ ورک بے نقاب کیا تھا جس میں متعدد مشتبہ تھنک ٹینکس اور این جی اوز بھی شامل تھیں۔

بھارتی کرونیکل کے عنوان سے تحقیقات میں ایک اور بھارتی نیٹ ورک بے نقاب ہوا جس کا مقصد بھارت میں پاکستان مخالف (اور چین مخالف) جبکہ بھارت کے حق میں جذبات کو تقویت دینا تھا۔

بین الاقوامی سطح پر یہ نیٹ ورک بھارت کی قوت کو مستحکم اور تشخص کو بہتر بنانے کے ساتھ حریف ممالک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے کام کررہا تھا تاکہ بھارت کو یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کی مزید حمایت سے فائدہ حاصل ہو۔

اس کام کے لیے نیٹ ورک نے انتقال کر جانے والے انسانی حقوق کے کارکن اور صحافیوں کی جعلی شخصیت کا استعمال کیا اور میڈیا اور پریس کے اداروں مثلاً یورپی یونین آبزرور، دی اکنامسٹ اور وائس آف امریکا کی نقالی کی بھی کوشش کی۔

اس کے علاوہ نیٹ ورک نے یورپی پارلیمان کے لیٹر ہیڈ، جعلی نمبروں کے ساتھ اوتار کے تحت رجسٹرڈ ویب سائٹس کا استعمال کیا اقوامِ متحدہ کو جعلی پتے فراہم کیے اور اپنے تھنک ٹینکس کی کتابوں کی اشاعت کے لیے اشاعتی ادارے قائم کیے۔

جمعہ کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے انڈین کرونیکلز کے نام سے شائع دستاویز نے بے نقاب کردیا ہے کہ بھارت، پاکستان کے تشخص کو متاثر کرنے کے لیے کیا کچھ کر رہا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیر خارجہ کے 'انڈین کرونیکلز' نامی دستاویز کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات

انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ شائع ہو چکی ہے، یہ 'یورپی یونین ڈس انفو' لیب کی تحقیق کے بعد یہ حقائق سامنے آئے ہیں اور یہ حقائق نشاندہی کرتے ہیں کہ پچھلے 15سالوں سے آن لائن اور آف لائن ہندوستان نے پاکستان کے تشخص کو متاثر، اپنی اچھائیوں اور سوچ کو جھوٹا سچا کرنے کے لیے کیا کیا تھا اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر متاثر کرنے کے لیے جو ان کا کردار تھا وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جعلی حکمت عملی اپنے اسٹریٹجک مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے کی جا رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا مقصد اپنے ملک کے بارے میں سوچ کو مضبوط کرنا اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا تھا اور یہ جو کارروائی ہوئی اس کا دائرہ 116 ملکوں تک پھیلا ہوا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جعلی نیوز ویب سائٹس ترتیب دیں اور ان کا استعمال کرتے ہوئے 750 ایسی نیوز ویب سائٹس کی نشاندہی ہو چکی ہے جنہیں ہندوستان استعمال کرتا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ 10 کے لگ بھگ جعلی این جی اوز جو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے منسلک تھیں، بھارت ان کو استعمال کرتا رہا اور ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا رہا، جعلی تھنک ٹینکس بنائے جن کو استعمال کیا جاتا رہا۔

تبصرے (2) بند ہیں

یمین الاسلام زبیری Dec 11, 2020 09:43pm
شاباش ضرار کھوڑو۔
علی Dec 12, 2020 12:55am
بہت شاندار ضرار۔ یہ رپورٹ یورپی یونین نے سال پہلے بھی شائع کی تھی۔ ہمارے صحافیوں کو یہ کرنا چاھیے تھا مگر وہ تو پتا نہی کس دنیا میں مگن ہیں۔