فردوس بیگم: ایک شمع تھی جو بجھ گئی

17 دسمبر 2020

پاکستانی فلمی صنعت کی ایک مشہور ترین اداکارہ ’فردوس بیگم’ بھی رخصت ہوئیں۔ لیکن یہ کہنا یہاں غلط نہیں ہوگا کہ وہ فلمی منظرنامے کو بہت پہلے خیرباد کہہ چکی تھیں اور خود کو سماجی تعلقات میں بھی محدود کرلیا تھا، اور معاشرہ انہیں ان کی زندگی ہی میں فراموش کرچکا تھا۔ کسی بھی عظیم فنکارہ کی یہ کیسی کسمپرسی تھی، تصور کیجیے، دل کٹ جاتا ہے۔

فردوس بیگم اپنے فن میں کیسی ہنرمند اداکارہ تھیں، ان کا حُسن عالمی سنیما میں کن چہروں کی مانند تھا، کتنے فلم بین اور شائق تھے جو ان کی خوبصورتی کی تاب نہ لاسکتے تھے، اس تناظر میں بہت تفصیل سے میں نے کئی برس پہلے، ان کو یاد کرتے ہوئے، ان کی زندگی میں ہی ان کو خراج تحسین پیش کیا تھا، جس میں یہ بھی لکھا تھا، جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوں گی، تب زمانے کو یاد آئے گا۔

اب جو شور برپا ہے، وہ اس بات پر تصدیق کی مہر ثابت کر رہا ہے، لیکن اب کچھ کہنے سے کیا حاصل؟ سب رسمی کاروائی پوری کر رہے ہیں، وگرنہ کیفیت کا عالم یہ ہے کہ ایک چراغ تھا، جو گل ہوا، ایک شمع تھی، جو بجھ گئی بقول غالب

داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی

اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے

فردوس بیگم کی ذاتی اور فنی زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے، تو ہمیں ان کی شخصی محرومیوں اور فنی نشیب و فراز واضح طور پر دکھائی دیتے محسوس ہوتے ہیں۔

وہ لاہور کے ایک معروف شاہی بازار، جس کو عرفِ عام میں ‘ہیرا منڈی’ بھی کہا جاتا ہے، وہاں 1947ء کو پیدا ہوئیں اور ان کی پیدائش کا مہینہ اگست ہے، مگر تاریخ کے حوالے سے متضاد آرا ہیں۔ کہیں ان کی تاریخ پیدائش 4 اگست اور کہیں 8 اگست درج ہے، البتہ مہینہ اگست ہی کا ہے اور پھر 16 دسمبر 2020ء وہ تاریخ ثابت ہوئی، جب وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئیں۔

انہوں نے لاہور کے شاہی محل میں آنکھ کھولی، تو ان کا نام ’پروین’ رکھا گیا، لیکن ان کا ایک نام ’کوثر’ بھی بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے پیشے کے لحاظ سے کلاسیکی رقص کی تربیت حاصل کی، فطری طور پر فلم اور موسیقی کا ذوق بھی ان کی شخصیت کا خاصا تھا۔

پاکستانی فلمی صنعت کے فلم سازوں کی اکثریت اس شاہی بازار کا رخ کرتی تھی، تاکہ یہاں اپنی فلموں کے لیے ایسی خواتین دستیاب ہوسکیں، جنہیں فلم کے رموز سے آگاہی ہو اور وہ رقص و اداکاری میں کسی طرح کی جھجک کا مظاہرہ نہ کریں، کیونکہ ان کی تربیت انہی خطوط پر کی جاتی تھی، لہٰذا اسی سلسلے میں ایک پاکستانی فلم ساز ’بابا قلندر’ نے ان کو دریافت کیا۔

ان کی پہلی کاوش پنجابی فلم ’محلے دار’ تھی، جس میں فردوس بیگم نے فن اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اس فلم کے کچھ گیت بھی ان پر فلم بند ہوئے، مگر یہ فلم نامعلوم وجوہات کی بنا پر مکمل نہ ہوسکی، اسی لیے اس کی نمائش بھی ممکن نہ تھی، لیکن تکنیکی اعتبار سے فلم اسٹار فردوس کی یہ پہلی فلم ہے، جس کے ذریعے وہ فلمی دنیا میں داخل ہوئیں اور غالب گمان ہے، یہ 60ء کی دہائی کا ابتدائی زمانہ ہے، جیسا کہ ان کے ایک دیے گئے انٹرویو سے ظاہر ہوتا ہے، جس میں انہوں نے خود بتایا کہ انہوں نے اپنی فلم ’مے خانہ‘ سے پہلے بھی کئی ایک فلموں میں بھی کام کیا تھا۔

اسی طرح پھر ایک اور فلم ساز ’کیو ایم زمان’ اور ’منشی دل’ کی نظر ان پر پڑی۔ انہوں نے اپنی فلم ’گل بکاؤلی’ میں انہیں ایک مختصر کردار دیا، مگر یہ فلم ناکامی سے دوچار ہوئی۔ اس فلم کی نمائش 27 اکتوبر 1961ء کو کی گئی۔ یہ ان کی وہ پہلی فلم تھی، جو نمائش پذیر ہوئی۔

1963ء میں ایک اور فلم ساز ‘نخشب’ نے فلم ’فانوس’ میں ان کو شامل کیا۔ اس فلم میں فردوس بیگم مہمان اداکارہ تھیں، جبکہ اس فلم میں سلمان پیرزادہ، الیاس کشمیری، کومل اور ببو بیگم و دیگر فنکار شامل تھے، بہرحال اس فلم کو بھی باکس آفس پر ناکامی ہوئی، البتہ فردوس بیگم فلمی دنیا میں نمایاں ہوئیں اور اکثر یہی فلم ان کے فلمی کیریئر کے حوالے کی ابتدائی نمایاں فلم کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔

فردوس بیگم کی مستقل مزاجی دیکھیے کہ وہ فلمی دنیا میں ابھی تک گمنام تھیں، پھر بھی مسلسل کام کررہی تھیں۔ 60ء کی دہائی کی مزید وہ فلمیں، جن میں انہوں ابتدائی طور پر کام کیا، ان میں 1964ء میں نمائش کے لیے پیش کی جانے والی فلم ’خاندان’ تھی، جس میں انہوں نے ایک ثانوی کردار نبھایا۔ اس فلم میں محمد علی، سلطان راہی اور اکمل جیسے اداکار شامل تھے، لیکن پھر بھی فردوس کے حصے میں گمنامی ہی آئی۔

جو دیگر فلمیں نمائش پذیر ہوئیں، ان میں ‘مے خانہ’ اور ’غدار’ (1964ء) ہیں، جبکہ اسی سال نمائش کی جانے والی ایک فلم ’ملنگ’ میں بھی فردوس بیگم نے مرکزی کردار نبھایا، جس میں ان کے مدِمقابل علاؤالدین ہیرو تھے۔ یہ فلم بھی ناکامی سے دوچار ہوئی، مگر اس سے ان کی فلمی دنیا کی شناسائی میں اضافہ ہوا۔

اگرچہ فردوس بیگم کی ابتدائی پہلی فلم ادھوری اور بعد میں آنے والی 2 فلمیں ناکام ہوئیں اور ان فلموں میں ان کے کردار بھی مختصر تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری، اور قسمت بھی ان کے حق میں تھی کہ ابھی انہیں شہرت کی بلندی کا ملنا باقی تھا۔ بس ان کو فلمی دنیا میں جتنا اور جیسا کام بھی ملتا گیا، وہ کرتی چلی گئیں۔

1965ء میں شہرت کی دیوی اس حُسن کی دیوی پر مہربان ہوئی۔ یہ برس ان کے لیے بہت مبارک ثابت ہوا۔ اس سال ان کی سب سے پہلی مشہور فلم ‘ملنگی’ نمائش کی گئی، اس نے فردوس بیگم کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ فلم ایک ایسی دستک ثابت ہوئی، جس کے بعد ان پر فلمی دنیا اور فلمی شہرت کے دروازے کھلتے چلے گئے۔

اسی سال ریلیز ہونے والی فلم ’ہیر سیال’ بھی اس تناظر میں اہم فلم تھی کہ اسی کو دیکھتے ہوئے آگے چل کر، ان کو اپنی سب سے زیادہ شہرت یافتہ فلم ’ہیر رانجھا’ ملی، جس نے ان کو بامِ عروج دیا۔ اسی سال ان کی دیگر فلموں میں ‘جھانجھر’ اور ’ناچے ناگن بجے بین’ بھی شامل ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے، تو ان کی سب سے کلیدی فلم ’ملنگی’ ہے، جس کے بعد ان پر حقیقی معنوں میں شہرت کے دروازے کھلے۔

فلم ہیر سیال کا پوسٹر
فلم ہیر سیال کا پوسٹر

فلم ہیر رانجھا کا پوسٹر
فلم ہیر رانجھا کا پوسٹر

اس کے بعد فردوس بیگم کو کئی شاہکار فلمیں ملیں، جنہوں نے ان کے کیریئر کو مزید مضبوط کیا۔ ان فلموں میں

  • انسانیت، چاچا جی، اکبرا، مرزا جٹ (1967ء)
  • روٹی، پگڑی سنبھال جٹا، باؤ جی، پنج دریا (1968ء)
  • چن ویر، عشق نہ پچھے ذات، جنٹرمین (1969ء)
  • ماں پتر، دنیا مطلب دی (1970ء)

کی چند مقبول فلمیں اور پھر 1970ء میں ہی نمائش کی جانے والی ان کی پنجابی فلم ’ہیر رانجھا’ وہ فلم ہے، جس نے ان کو ناصرف پاکستانی بلکہ عالمی سنیما کی تاریخ میں بھی امر کر دیا۔

یہی وہ دور ہے، جب فردوس بیگم کی قدر و منزلت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا، وہ اردو اور پنجابی فلموں کے فلم سازوں کا اوّلین انتخاب بننے لگیں۔ اس دور کے بعد ان کی مزید چند مشہور فلموں میں

  • آنسو، عشق دیوانہ (1971ء)
  • خون پسینہ، ہیرا موتی (1972ء)
  • بنارسی ٹھگ (1973ء) سمیت کئی فلمیں شامل ہیں۔

فردوس بیگم کی کل فلموں کی تعداد میں متضاد آرا ہیں، البتہ پھر بھی ایک اندازہ ہے کہ ان کی کل فلموں کی تعداد 192 ہے، جن میں 155 فلمیں پنجابی اور 29 فلمیں اردو زبان میں بنیں، جبکہ ان کی 8 فلمیں پشتو میں بھی بنیں، بلکہ ان کی زندگی کی آخری فلم بھی پشتو تھی، جس کا نام ’جرمونو بادشاہ’ تھا، جس کی ریلیز کا سال 1991ء ہے۔

اس طرح ایک محتاط اندازے کے مطابق 60ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں بننے والی ان کی پہلی اور ادھوری فلم ’محلے دار’ تھی، یوں تقریباً ان کا فلمی کیریئر 3 دہائیوں پر مشتمل ہے، جس میں 60ء اور 70ء کی دہائی میں انہوں نے بے شمار کام کیا۔ 80ء کی دہائی میں کام میں کمی آئی اور 90ء کی دہائی سے عہدِ حاضر تک، وہ اگلے 30 برس تک گوشہ گمنامی میں رہیں۔

اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کی زندگی ہی میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا، لیکن ہمارے ہاں مردہ پرستی کی روایت مضبوط ہے، ہمیں کسی کے مرنے پر ہی اس کی خدمات یاد آتی ہیں، پھر ہم رسمی افسوس کا اظہار کرتے اور قلم برداشتہ لکھتے ہیں، یہ افسوسناک عمل ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ان کی کل فلموں کی تعداد 192 ہے
ایک اندازے کے مطابق ان کی کل فلموں کی تعداد 192 ہے

سرکاری اور ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ ایسے ادارے بنائے یا پھر جامعات کو سنجیدہ تحقیق کی طرف راغب کرے، جہاں ایسی شخصیات کی فنی خدمات کا احاطہ کیا جاسکے، ان سے منسوب فلموں اور دیگر چیزوں کو ثقافتی اور فلمی میوزیم میں رکھا جائے، مگر میوزیم بنے گا تو رکھیں گے اور سب سے بڑھ کر ان کی زندگی ہی میں ان کو خراج پیش کیا جائے، لیکن موجودہ منظرنامہ یہ ہے کہ نہ تو سرکار کی ترجیحی فہرست میں فلم اور فن وثقافت شامل ہے اور نہ ہی جامعات کی تحقیق کا محور فلم ہے، تو بس پھر فنکار کے حصے میں یہی کسمپرسی آئے گی۔

فردوس بیگم بھی اس اذیت سے دوچار ہوئیں۔ جب ان کا فنی عروج ختم ہوا، تو وہ زمینی حقائق کو برداشت نہ کرسکیں اور زندہ رہتے ہوئے بھی فلمی منظرنامے سے دُور چلی گئیں، معاشرے سے تعلق تقریباً ختم کرلیا، اس اذیت سے نکلنے کے لیے کئی طرح کے حیلے کیے، ہرچند کہ ان کی اولاد موجود تھی، معاشی طور پر بھی آسودہ تھیں، مگر پھر بھی خود اختیار کی ہوئی قیدِ تنہائی بھی ان کے غم کامداوا نہ کرسکی، گزرا ہوا وقت تو کسی صورت بھی واپس نہیں آسکتا، لیکن سرکار اور سماج ایسے فنکار کو تنہائی سے نکال سکتے ہیں۔

مغرب اور مغربی سنیما کے لیے آپ جو بھی سوچیں، مگر ان کے ہاں ‘صوفیہ لورین’ ہو چاہے ‘میرل اسٹریپ’ وہ شباب رخصت ہوجانے کے بعد بھی فلمی دنیا کی اہم شخصیات رہیں اور وہاں کے فلم سازوں نے ان سے کام لیا۔ ناجانے فردوس بیگم نے ہمارے بارے میں کیا سوچا ہوگا، جن لوگوں کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کے سنہری دن نچھاور کردیے، وہ ان کی نظروں سے اوجھل کیا ہوئیں، کسی نے پلٹ کر نہ پوچھا اور بالائے ستم یہ کہ اب رسمی تعزیت کا تانتا بھی بندھا ہوا ہے


حوالہ جات:

  • کتاب، فلمی الف لیلیٰ۔ مصنف، علی سفیان آفاقی

  • مضمون، مسعود رانا۔ پاکستان فلم میگزین۔ آن لائن ایڈیشن

  • مضمون، عقیل عباس جعفری، بی بی سی اردو

  • انٹرویو، انور مقصود۔ شو ٹائم، پی ٹی وی۔ آواز خزانہ، لطف اللہ خان

  • آئی ایم ڈی بی۔ آفیشل ویب سائٹ

  • اپڈیٹ تصویر کے گرافکس و حقوق۔ ظفر بخش

تبصرے (2) بند ہیں

WRM Dec 18, 2020 05:59pm
good write up and suggestions. artists shud be rewarded n acknowledged.
قاضی توقیر احمد Dec 18, 2020 11:06pm
فردوس پنجابی کی کوین تھیں- انہوں نے بے پناہ شہرت کمائی- ان کی فلمی جوڑی یوسف خان اور اعجاز کے ساتھ 70 کی دھائ میں بہت مقبول تھی- بڑی حیرانی کی بات ہے کہ ہمارے میڈیا، ناقدین اور حکومتوں نے ان کو 30 برس تک فراموش کیے رکھا- سنا یہ ہے کہ نور جہاں نے ان کے لیے گانا چھوڑ دیا تھا جو ان کے فلمی کیریئر کے خاتمے کا سبب بنا وجہ اس کی غالباً یہ تھی کہ فردوس کی اعجاز سے بہت گہری دوستی تھی- اعجاز نور جہاں کے سابقہ شوہر تھے- وللہ علم