کورونا مریضوں کو آکسیجن استعمال کرنے سے قبل ڈاکٹروں سے مشورے کی تجویز

اپ ڈیٹ 04 جنوری 2021

ای میل

لوگوں کو اپنے مریضوں کا علاج خود کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد - فائل فوٹو:اے پی
لوگوں کو اپنے مریضوں کا علاج خود کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد - فائل فوٹو:اے پی

اسلام آباد: گزشتہ روز جہاں مزید 7 افراد کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے اپنی زندگی ہار گئے وہیں، دارالحکومت انتظامیہ نے وائرس کے مریضوں کو طبی امداد اور گھر میں خود علاج کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر زعیم ضیا نے ڈان کو بتایا کہ 'یہ دیکھا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کو ہسپتالوں میں اس وقت لایا جارہا ہے جب ان کی حالت تشویشناک ہو ورنہ اکثریت اپنے گھروں میں آئی سولیشن اور آکسیجن سلنڈر استعمال کررہے ہیں'۔

انہوں نے تجوز دی کہ 'اہلخانہ اپنے مریضوں کا مستقل مشاہدہ کریں اور کسی مسئلے کی صورت میں کسی ڈاکٹر سے رجوع کریں، گھر پر آکسیجن کا بندوبست کرنا اور مریضوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا بہتر ہے تاہم ہم تجویز کرتے ہیں کہ اگر صحت سے متعلق کوئی مسئلہ ہے تو مریض کو چیک کرنے کے لیے ایک ڈاکٹر کو بلایا جائے، بدقسمتی سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہسپتالوں میں تشویشناک حالت میں ہی مریضوں کو لایا جارہا ہے جس سے طبی عملے کے لیے انہیں بچانا بہت مشکل ثابت ہورہا ہے'۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے ایک غیر معمولی اثر کی ممکنہ وضاحت سامنے آگئی

انہوں نے کہا کہ 'لوگوں کو اپنے مریضوں کا علاج خود کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، تجویز ہے کہ اگر مریض کو سانس لینے میں تکلیف کا سامنا ہو تو ڈاکٹر سے رابطہ کیا جانا چاہیے'۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا کہنا تھا کہ 'ہم مشورہ دیتے ہیں کہ آکسیجن کا انتظام ہونے کے باوجود گھر میں آئیسولیشن میں جانے سے قبل کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، علامات خراب ہوں تو ہسپتال جائیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس وقت ہم مریضوں کو تشویشناک حالت میں ہی داخل کر رہے ہیں کیونکہ مریض گھر میں ہی رہتے ہیں اور وہ طبی مدد نہیں لیتے ہیں'۔

دریں اثنا اسلام آباد میں اتوار کے روز 3 اموات اور 126 مزید کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

ڈاکٹر زعیم ضیا نے بتایا کہ ہفتے کے روز 4 ہزار 43 ٹیسٹ ہوئے جن میں سے 126 مثبت کیسز سامنے آئے جو 3.3 فیصد کا مثبت تناسب ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے کورونا وائرس کے 3 مریضوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اچھی بات یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں روزانہ کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے'۔

راولپنڈی

راولپنڈی میں کورونا وائرس سے مزید چار مریض دم توڑ گئے اور مزید 53 مریض وائرس کا نشانہ بنے جبکہ کسی بھی مریض کو ہسپتال سے فارغ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں آکسفورڈ کے بعد مقامی کووڈ ویکسین استعمال کرنے کی منظوری

اعدادوشمار کے مطابق، اس ضلع میں 942 فعال کیسز ہیں جن میں ہسپتالوں میں 365 اور 577 گھروں میں آئیسولیشن میں ہیں جبکہ کم از کم 419 افراد گزشتہ تین روز سے اپنے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔

ضلع راولپنڈی میں مارچ کے بعد سے 12 ہزار 951 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے ایک ہزار 46 ضلع سے باہر کے رہنے والے تھے۔

ضلع میں 11 ہزار 457 مریض صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتالوں سے فارغ جبکہ 552 انتقال کرگئے۔

کمشنر (ر) کیپٹن محمد محمود نے ڈان کو بتایا کہ تشویش ناک حالت میں مریضوں کی تعداد بتدریج بڑھتی جارہی ہے کیونکہ 5 وینٹیلیٹرز پر ہیں، 72 کو آکسیجن کی ضرورت ہے اور 10 کو عام درجہ حرارت پر رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کو اپنانے کے لیے لوگوں میں شعور پیدا کرنے پر کام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈویژن میں 15 ہزار 500 افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں راولپنڈی میں 12 ہزار 951، اٹک میں ایک ہزار 83، جہلم میں ایک ہزار 55 اور چکوال میں 510 ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 13 ہزار 675 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں اور 660 اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔