امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے مواخذے کا بل پیش، 'بغاوت کیلئے اکسانے' کا الزام

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2021

ای میل

— فائل فوٹو: رائٹرز
— فائل فوٹو: رائٹرز

امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی تیاری ہورہی ہے جنہیں کیپٹل ہل میں ’بغاوت کے لیے اکسانے‘ کے الزام کا سامنا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کی رپورٹ میں آرٹیکلز کے ڈرافٹ کا حوالہ دے کر انکشاف کیا گیا کہ ارکان پارلیمنٹ اس قانون کو متعارف کرانے کے لیے تیار ہیں، جس میں اسپیکر نینسی پیلوسی کی ٹیم نائب صدر مائیک پینس اور کابینہ کے عہدیداروں سے اس قرارداد پر فوری ووٹ کا مطالبہ کرے گی جس میں 25ویں ترمیم کی درخواست کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: دباؤ کا شکار ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی دوسری تحریک کا خطرہ

مواخذے کا بل 4 صفحات پر مشتمل ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انتخابی شکست کے بعد جو بائیڈن کے بارے میں ’غلط بیانات‘ بھی شامل ہیں۔

مواخذے کے بل میں جارجیا میں ریاستی عہدیداروں پر ووٹ ’ڈالنے‘ کے لیے ان پر دباؤ، کیپٹل ہل کے محاصرے کے لیے وائٹ ہاؤس ریلی کا انعقاد جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے عمارت پر حملہ کرنے سے پہلے ہزاروں حامیوں کو ’جان مار کر لڑنے‘ کی ترغیب دینے کے حوالے بھی شامل ہیں۔

مجوزہ قانون سازی میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور اس کے سرکاری اداروں کی سلامتی کو بُری طرح خطرے سے دوچار کیا۔

رہوڈ آئلنڈ کے رکن ڈیوڈ سیسلائن، کیلیفورنیا کے ٹیڈ لیؤ، میری لینڈ کے جیمی راسکن اور نیو یارک کے جیرولڈ کی طرف سے بل میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ’جمہوری نظام کی سالمیت کو خطرے میں ڈالا، اقتدار کے پرامن منتقلی میں مداخلت کی‘ اور ’دھوکہ دہی سے اعتماد‘ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے باضابطہ طور پر صدارتی انتخاب میں شکست تسلیم کرلی

انہوں نے بل میں مزید کہا ہے کہ اگر انہیں عہدے پر رہنے کی اجازت ملتی تو وہ قومی سلامتی، جمہوریت اور آئین کے لیے مزید خطرہ بنتے۔

ایوان نمائندگان کے رکن ایڈم شیف نے نجی نشریاتی ادارے 'سی بی ایس' کو بتایا کہ ہمیں بھرپور انداز میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا کہ ایوان، قانون کے دائرے میں ٹرمپ کے خلاف مواخذہ کے لیے قانون سازی کرے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ، کیپیٹل ہل پر مہلک حملے کے بعد جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں۔

خیال رہے کہ مواخذے کی تحریک کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے گزشتہ ہفتے کیپیٹل ہل میں احتجاج اور پُرتشدد مظاہروں کے بعد سامنے آیا، جس میں ایک پولیس اہلکار سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے تیار کی گئی مواخذے کی تحریک میں کیپیٹل ہل کی عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا گیا ہے۔

کیپٹل ہل کشیدگی

واشنگٹن ڈی سی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج میں تبدیلی اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جگہ ڈونلڈ ٹرمپ کو برقرار رکھنے کی کوشش میں کیپیٹل ہل کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا اور پرتشدد واقعات کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے اس حملے کے دوران کیپیٹل ہل (امریکی ایوان نمائندگان) کی عمارت میں موجود قانون دان اپنی جانیں بچاتے ہوئے ڈیسکوں کے نیچے چھپنے پر مجبور ہو گئے۔

مزید پڑھیں: کیپیٹل ہل واقعہ، جوبائیڈن نے ٹرمپ کو بغاوت کا مرتکب قرار دے دیا

اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں کیپیٹل ہل کے اندر ایک خاتون ہلاک ہو گئیں جس کے بعد میئر نے تشدد میں کمی کے لیے شام کے وقت واشنگٹن میں کرفیو نافذ کردیا۔

امریکی دارالحکومت میں ناخوشگوار مناظر دیکھ کر دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان اور حکومت نے مذمت کی تھی جبکہ فیس بک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے سوشل میڈیا ایپس پر غیر معینہ مدت کے لیے بلاک کردیا تھا۔