31 سال پرانے اغوا کے مقدمے میں یاسین ملک سمیت 10 افراد پر فرد جرم عائد

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2021

ای میل

یاسین ملک سمیت 10 افراد پر فرد جرم عائد کردی گئی — فائل فوٹو: اےا یف پی
یاسین ملک سمیت 10 افراد پر فرد جرم عائد کردی گئی — فائل فوٹو: اےا یف پی

بھارت کی خصوصی عدالت نے 31 سال پرانے اغوا کے مقدمے میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک سمیت 10 افراد پر فرد جرم عائد کردی۔

بھارت کی خصوصی عدالت ٹاڈا کے جج نے 1989 میں اس وقت کے یونین ہوم منسٹر کی صاحبزادی ربیعہ سعید کے اغوا کے الزام میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک سمیت 10 افراد پر فرد جرم عائد کردی۔

مزید پڑھیں: یاسین ملک کی کشمیر میں مظالم پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر تنقید

یاسین ملک کے ساتھ ساتھ علی محمد میر، محمد زمان میر، اقبال احمد گندرو، جاوید احمد میر، محمد رفیق پھلو، منظور احمد صوفی، وجاہت بشیر، معراج الدین شیخ اور شوک احمد بخشی پر بھی فرد جرم عائد کی گئی۔

بھارتی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق محمد زمان میر اور علی محمد میر کی جانب سے سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت ان کی شمولیت اور دوسرے ملزم کے کردار کے بارے میں مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جج نے مشاہدہ کیا کہ ان کا خیال ہے کہ بادی النظر میں اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ یاسین ملک، علی محمد میر، اقبال احمد گندرو، منظور احمد صوفی، مہراج الدین شیخ اور رفیق احمد پھلو نے ربیعہ کو قتل کے مقصد سے اغوا کیا اور اس کے جرم کا ارتکاب کیا اور دہشت گردی اور خلل ڈالنے والی سرگرمی (ٹی اے ڈی اے) ایکٹ اور ہندوستانی اسلحہ ایکٹ کے علاوہ رنبیر پینل کوڈ کی دفعات کے تحت انہیں حبس بے جا میں رکھا۔

دوسرے ملزمان محمد زمان میر، جاوید احمد میر، وجاہت بشیر اور شوکت احمد بخشی پر مجرمانہ سازش کا الزام عائد کیا گیا جہاں انہوں نے ربیعہ کو غلط انداز میں قید میں رکھا۔

ٹاڈا عدالت کے روبرو دائر چارج شیٹ میں سی بی آئی کے ذریعے نامزد دو درجن ملزمان میں سے 10 ملزمان کو پیش کیا گیا، محمد رفیق ڈار اور مشتاق احمد لون جاں بحق مر چکے ہیں جبکہ 12 دیگر مفرور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یاسین ملک کی طبیعت بگڑ گئی، آئی سی یو منتقل

مفرور افراد میں حلیمہ، جاوید اقبال میر، محمد یعقوب پنڈت، ریاض احمد بھٹ، خورشید احمد ڈار، بشارت رحمٰن نوری، طارق اشرف، شفقت احمد شانگلو، منظور احمد، غلام محمد تپلو، عبدالمجید بھٹ اور نصر احمد بھٹ شامل ہیں۔

سی بی آئی کی چارج شیٹ کے مطابق ملزم نے دسمبر 1989 کے پہلے ہفتے میں سری نگر کے لال داد ہسپتال میں تریت کرنے والی ربیعہ کے اغوا کی مجرمانہ سازش کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ مختلف جیلوں میں قید اپنے پانچ ساتھیوں کی رہائی کو یقینی بنایا جاسکے۔

سی بی آئی کی چارج شیٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے ملزمان میں سے ایک غلام محمد اور ان میں سے کچھ افراد سے ایک نیلی کار لی اور 8 دسمبر 1989 کو ملزم مشتاق احمد لون کے گھر جمع ہوئے اور ربیعہ کو اس وقت اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا جب وہ سری نگر کے نوگام بائی پاس میں واقع ہسپتال سے رہائشگاہ واپسی پر اکیلی ہوتی تھیں۔

سی بی آئی کے مطابق اس کے بعد محمد زمان میر کے علاوہ تمام ملزمان ہسپتال کے گیٹ پر پہنچے اور چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہو گئے، ربیعہ کی شناخت کرنے کے لیے ملزم یاسین ملک نے اس کی طرف اشارہ کیا۔

مزید پڑھیں: بھارتی جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک کی طبیعت مزید بگڑ گئی

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ملزم نے بندوق کی نوک پر وہ منی بس روک لی جس میں وزیر کی بیٹی سفر کررہی تھی، ربیعہ کو ایک کار میں سوار کیا گیا اور ان کو اس وقت تک قید میں رکھا گیا جب تک اس کی رہائی کے بدلے مختلف جیلوں میں قید ان کے پانچ ساتھیوں رہا نہیں کردیا گیا۔

خیال رہے کہ 5 اگست کو بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا جبکہ ہزاروں اضافی فوجی بھی یہاں تعینات کردی گئی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی نظربند کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت رہنماؤں یاسین ملک، سجاد لون، عمران انصاری اور دیگر کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔