شہزاد اکبر نے لیگی رہنما عظمیٰ بخاری کو 'ہتک عزت' کا قانونی نوٹس بھیج دیا

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2021

ای میل

شہزاد اکبر کے مطابق 
ٹی وی پروگرام کے دوران 'ہتک آمیز بیانات، غلط اور مضحکہ خیز الزامات' عائد کرنے پر قانونی نوٹس دیا - فائل فوٹو:ڈان نیوز
شہزاد اکبر کے مطابق ٹی وی پروگرام کے دوران 'ہتک آمیز بیانات، غلط اور مضحکہ خیز الزامات' عائد کرنے پر قانونی نوٹس دیا - فائل فوٹو:ڈان نیوز

وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب مرزا شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری کو ٹی وی پروگرام کے دوران ان کے خلاف 'ہتک آمیز بیانات، غلط اور مضحکہ خیز الزامات' عائد کرنے پر قانونی نوٹس دے دیا ہے۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شہزاد اکبر نے 13 جنوری کے نوٹس کو شیئر کیا جس کے مطابق عظمیٰ بخاری نے ٹی وی پر بدھ کی رات نشر کیے جانے والے 'فیصلہ آپ کا' نامی ایک پروگرام میں شرکت کی جہاں انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر پر براڈشیٹ ایل ایل سی کے مالک کاوہ موسوی سے کک بیکس کا مطالبہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے 'مکمل طور پر جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی بدنامی بیانات' جاری کیے۔

عظمیٰ بخاری کاوہ موسوی کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دے رہی تھیں جہاں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ان کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کو روکنے کے لیے 2012 میں انہیں رشوت کی پیش کش کی تھی۔

مزید پڑھیں: براڈ شیٹ اسکینڈل پر بنائی گئی کمیٹی انکشافات کرے گی، شبلی فراز

نوٹس میں عظمیٰ بخاری کے حوالے سے بتایا کہ 'کاوہ موسوی نے بتایا کہ شہزاد اکبر کے ساتھ ایک اور شخص آیا اور (دونوں) اپنا حصہ مانگ رہے تھے، یہ ایک بہت اہم چیز ہے، انہوں نے حکومت کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے حصے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ 'آپ (ہمیں) کیا دیں گے؟ ہم آپ کے معاہدے کو بڑھا دیں گے، یہ ایک بہت بڑا الزام ہے کسی بھی سرکاری عہدیدار کے لیے جو حکومت کے ساتھ ہو'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'شہزاد اکبر کی بریف کیس لینے اور دینے کی تاریخ پرانی ہے اور یہ کوئی نیا الزام نہیں ہے'۔

ایک حالیہ انٹرویو میں، جس کی مکمل ریکارڈنگ ڈان کے پاس دستیاب ہے، کاوہ موسوی نے الزام لگایا تھا کہ ایک فرد جس سے انہوں نے شہزاد اکبر کے ہمراہ 2018 میں ایک ارب ڈالر کے بینک اکاؤنٹ کے بارے میں ملاقات کی تھی، مشتبہ افراد سے تفتیش کرنے کے بجائے اپنے حصے میں زیادہ دلچسپی لے رہا تھا۔

براڈشیٹ کے مالک نے کہا کہ تاہم شہزاد اکبر کو کمیشن کے بارے میں اس فرد کے سوال کے بارے میں علم نہیں تھا۔

ڈان کو دیئے گئے ایک بیان میں اس کی تردید کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے واضح کیا کہ انہوں نے کاوہ موسوی سے 2018 میں نہیں بلکہ 2019 میں 2 بار ملاقات کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ملاقاتوں کا مقصد ایوارڈ کی قیمت پر بات چیت کرنا اور قابل ادائیگی رقم کو کم کرنا تھا۔

شہزاد اکبر کے مطابق انٹرویو میں کاوہ موسوی نے شاید کسی اور کی طرف اشارہ کیا ہو جس سے اس نے علیحدہ ملاقات کی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: نئی پالیسی پر شدید تنقید کے بعد واٹس ایپ کا باضابطہ ردعمل سامنے آگیا

شہزاد اکبر نے عظمیٰ بخاری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیانات واپس لیں اور معافی نامہ جاری کریں یا ہرجانہ میں 50 کروڑ روپے ادا کریں۔

ایک ٹوئٹ میں شہزاد اکبر نے کہا کہ ہرجانے میں جمع کی گئی رقم خیرات کردی جائے گی۔

گزشتہ روز وزیر اعظم کے مشیر نے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کو بھی میڈیا سے گفتگو کے دوران اسی طرح کے بیانات جاری کرنے پر نوٹس دیا تھا۔

ایک ٹوئٹ میں شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ مریم اورنگزیب سے 'معافی مانگنے کو کہا گیا ہے یا انہیں عدالت میں لے جایا جائے گا'۔