فیصل واڈا نے جھوٹا بیان حلفی کیسے دیا، عدالت عالیہ

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2021

ای میل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل واڈا کو 8 فروری تک جواب جمع کرانے کی اجازت دے دی-فائل/فوٹو: پی آئی ڈی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل واڈا کو 8 فروری تک جواب جمع کرانے کی اجازت دے دی-فائل/فوٹو: پی آئی ڈی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا کو 8 فروری تک جواب جمع کرانے کا موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جھوٹا بیان حلفی کیسے جمع کرایا اس کے اپنے نتائج ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے وفاقی وزیر فیصل واڈا کی نااہلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی جہاں فیصل واڈا کے وکیل نے کہا کہ میرے مؤکل نے درخواست خارج کرنے کے لیے متفرق درخواست دائر کی ہے۔

مزید پڑھیں: فیصل واڈا کو نااہلی کیس میں جواب دینے کا آخری موقع

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ کا خواجہ آصف کیس میں فیصلہ موجود ہے۔

درخواست گزار کے وکیل جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے فیصل واڈا کے کاغذات نامزدگی اور بیان حلفی عدالت میں پیش کر دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں آج 16ویں پیشی ہے اور عدالت نے فیصل واڈا سے ایک سال قبل جواب طلب کیا تھا جو ابھی تک نہیں دیا گیا۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم فیصل واڈا کو جولائی 2023 تک کی تاریخ دے دیتے ہیں، ہم نے کہا تھا کہ فیصل واڈا عدالت میں جواب جمع کرائیں۔

فیصل واڈا کے وکیل کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ جو بھی سوالات آپ اٹھا رہے ہیں ان میں کوئی نئی چیز نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا فیصل واڈا نے الیکشن کمیشن میں جواب جمع کرایا ہے جس پر وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں دلائل جاری تھے لیکن کورونا کی وجہ سے کیس نہیں لگ رہا۔

فیصل واڈا کے وکیل نے بتایا کہ میری کیس خارج کرنے کی درخواست پر درخواست گزار جواب دیں گے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی تو عدالت نے دوسرے فریق سے جواب مانگا ہی نہیں، پہلے مجھے جواب دیں۔

یہ بھی پڑھیں: فیصل واڈا نااہلی کیس: سماعت روکنے کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ سول کورٹ نہیں ہے جہاں آپ درخواست دیں اور ہم دوسرے فریق سے جواب مانگ لیں، متفرق درخواست پر پہلے عدالت کو مطمئن کریں پھر دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کے مؤکل کا رویہ درست نہیں ہے، آٹھ سے دس سماعتیں ہو چکی ہیں، مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں جواب کس طرح لوں، یہ نوٹس کی کاپی کابینہ کو بھیج دیتا ہوں وہیں سے جواب آ سکتا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے پوچھا کہ کیا فیصل واڈا دوہری شہریت رکھتے تھے، انہوں نے امریکی شہریت کب چھوڑی، آپ نے ہدایات لی ہوں گی اس حوالے سے عدالت کو بتائیں۔

فیصل واڈا کے وکیل نے کہا کہ مجھے کچھ وقت دیا جائے میں اس عدالت کو متفرق درخواست پر مطمئن کروں گا جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے بھی آپ نے ہی وقت مانگا تھا۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہی تین اراکین قومی اسمبلی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ اسی عدالت نے کیا تھا، ان کے وکلا نے عدالت کو مطمئن کیا اور عدالت نے درخواستیں مسترد کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ عدالتیں فیصلے نہیں کرتیں، کوئی نہیں پوچھتا کہ عدالتیں فیصلے کیوں نہیں کرتیں، اگر آج مؤرخ یہاں اس عدالت میں بیٹھا ہوتا تو لکھتا، جس پر وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ بیٹھے ہوئے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ اگر فیصل واڈا جواب نہیں دینا چاہتے تو بتا دیں ہم الیکشن کمیشن کے ریکارڈ پر فیصلہ کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دوہری شہریت: الیکشن کمیشن کا فیصل واڈا کےخلاف یکطرفہ کارروائی کا عندیہ

اس موقع پر جہانگیر جدون نے فیصل واڈا کا بیان حلفی عدالت کے سامنے پڑھ کر سنایا، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پاکستان کا امریکا کے ساتھ دوہری شہریت والا کوئی معاہدہ نہیں ہے، اگر فیصل واڈا نے امریکی شہریت لی تو پاکستانی تو سرینڈر ہو جاتی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ فیصل واڈا نے جھوٹا بیان حلفی کیسے دیا ہے، اس کے اپنے نتائج ہیں، الیکشن کمیشن کو تو یہ معاملہ خود ہی دیکھ لینا چاہیے تھا۔

عدالت نے فیصل واڈا کو 8 فروری تک جواب جمع کرانے کا ایک اور موقع دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

دوہری شہریت کا معاملہ

خیال رہے کہ گزشتہ برس کے اوائل میں ایک انگریزی اخبار 'دی نیوز' نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی کے وقت وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا دوہری شہریت کے حامل تھے۔

وفاقی وزیر فیصل واڈا کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی 11 جون 2018 کو جمع کروائے، جو الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک ہفتے بعد 18 جون کو منظور ہوئے۔

تاہم اس معاملے کے 4 روز بعد پی ٹی آئی، ایم این اے نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ میں اپنی شہریت کی تنسیخ کے لیے درخواست دی تھی۔

واضح رہے کہ قانون کے مطابق دوہری شہریت کے حامل فرد کو اس وقت تک الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں جب تک وہ دوسری شہریت ترک نہیں کر دیتے۔

اسی معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں 2 قانون سازوں ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت دوہری شہریت پر نااہل کردیا تھا۔