الیکشن کمیشن کا فارن فنڈنگ کیس میں ’خاطر خواہ پیش رفت‘ کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2021

ای میل

—فائل فوٹو: اے پی پی
—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں ’خاطرہ خواہ پیش رفت‘ کا دعویٰ کیا ہے۔

ای سی پی کی جانب سے جاری اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ بغیر کسی دباؤ کے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے اور ادارہ اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کیلئے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتے، شیخ رشید

ای سی پی نے اس امر پر زور دیا کہ عام انتخابات ہوں یا سینیٹ کے، بلدیاتی ہوں یا ضمنی انتخابات، الیکشن کمیشن ان کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

ای سی پی کے مطابق فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے موجودہ الیکشن کمیشن نے بوجہ کورونا، وکلا کی عدالتی مصروفیات اور اسکروٹنی کمیٹی کے ایک ممبر کی ریٹائرمنٹ کے باوجود خاطر خواہ پیش رفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہفتے میں کم از کم 3 روز اجلاس منعقد کرے، تاکہ یہ کیس منطقی انجام تک پہنچ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: احتجاج میں مدرسے کے طلبہ کو لانے پر ایکشن ہوگا، شیخ رشید

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مذکورہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر منگل کو الیکشن کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا۔

مظاہرے سے پی ڈی ایم کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کیا تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ہمارے ملک کی بے بس الیکشن کمیشن جو منصفانہ انتخابات نہ کراسکی اور طاقتور اداروں نے انتخابات پر قبضہ کیا، انہوں نے نتائج مرتب کیے اور قوم پر ایک ڈفلی بجانے والے کو مسلط کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم کو ریڈ زون میں پہلی مرتبہ داخلے کی اجازت ہوگی، شیخ رشید

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 6 سال سے تاخیر کا شکار ہے جبکہ دوسرے فیصلوں میں فوری انصاف کا تقاضہ کیا جاتا ہے۔

پی ڈی ایم کے اس احتجاج میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری شریک نہیں ہوئے تھے۔

پی ڈی ایم واضح کر چکی ہے ان کا مقصد الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس دوبارہ شروع کرے اور اس پر فیصلہ کرے۔

فارن فنڈنگ کیس

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔

کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر ملکی فنڈز میں سے تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے سے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔

فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔

علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو اب تک فارن فنڈنگ کی تحقیقات کررہی تھی اور گزشتہ ماہ ہی الیکشن کمیشن میں اپنی رپورٹ جمع کروائی جسے ای سی پی نے مسترد کرکے تازہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔