عینی شاہد نے زین آفندی قتل کیس میں تین ملزمان کی شناخت کرلی

20 جنوری 2021

ای میل

جوڈیشل مجسٹریٹ نے عینی شاہد کا بیان قلمبند اور ملزمان کو پولیس کی تحویل میں دے دیا، رپورٹ
جوڈیشل مجسٹریٹ نے عینی شاہد کا بیان قلمبند اور ملزمان کو پولیس کی تحویل میں دے دیا، رپورٹ

کراچی: ایک عینی شاہد نے کوسموپولیٹن سوسائٹی ہاؤس میں زین حسن علی آفندی کے مبینہ قاتل کے طور پر تین مشتبہ افراد کی شناخت کرلی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر پولیس نے بانی سندھ مدرسۃ الاسلام حسن علی آفندی کے پوتے اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے چچا زاد بھائی 50 سالہ زین آفندی کے قتل کے الزام میں پانچ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

بعد ازاں قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر تین ملزمان رحمت اللہ، عمران اور محمد گل کو حراست میں لیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: زین آفندی قتل کیس: ڈکیتی اور قتل کی ایف آئی آر اہلیہ کی مدعیت میں درج

منگل کے روز اس کیس کے تفتیشی افسر نے متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے درخواست منتقل کی جس میں عدالت سے تینوں حراست میں لیے گئے ملزمان کی شناختی پریڈ کروانے کا مطالبہ کیا گیا۔

انہوں نے مقدمے کا ایک عینی شاہد اور مشتبہ افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ملزمان کے لیے شناختی پریڈ کروائی۔

عینی شاہدین نے تینوں افراد کو بطور ملزم شناخت کرلیا جو مبینہ طور پر مقتول کے گھر داخل ہوے تھے اور مسلح ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر پر فائرنگ کردی تھی۔

مجسٹریٹ نے عینی شاہد کا بیان قلمبند کیا اور حراست میں لیے گئے ملزمان کو تحقیقاتی رپورٹ کے ساتھ اگلی تاریخ کو پیش کرنے کی ہدایت کے ساتھ تین دن کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

زین آفندی کی اہلیہ انیتا زین کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مندرجات کے مطابق وہ بنگلہ کے اوپری حصے پر واقع اپنے کمرے میں سو رہی تھیں جب انہوں نے سنا کہ صبح کے قریب 4 بجکر 20 منٹ پر ان کے بیڈ روم کے دروازے پر زور سے دستک دی گئی اور اچانک چار مسلح افراد دروازے کا تالا توڑ کر داخل ہوے۔

کمرے میں داخل ہونے کے فوراً بعد انہوں نے سونے کے زیورات کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: سی ٹی ڈی کا لشکر جھنگوی کے 5 مبینہ دہشت گرد گرفتار کرنے کا دعویٰ

شکایت کنندہ نے بتایا کہ انہوں نے ملزمان کو فوراً ہی اپنی سونے کی چین اور ایک انگوٹھی دے دی، اسی اثنا میں ایک مشتبہ شخص ان کے شوہر سے بات کرتے ہوئے اسے دھکے دے کر دوسرے کمرے میں لے گیا جب کہ دوسرے ملزمان نے میز پر پڑے دو موبائل فون اور دو پرس اٹھا لیے جس میں کچھ ضروری کاغذات اور نقدی موجود تھے۔

شکایت کنندہ نے بتایا کہ اسی دوران ان کے شوہر نے مزاحمت کی اور مشتبہ شخص جو اسے دوسرے کمرے میں لے گیا تھا اس نے ان پر فائرنگ کردی جو انہیں نہیں لگ سکی۔

ملزم نے دوبارہ فائر کیا جو ان کے شوہر کے منہ پر لگی، بعدازاں ملزمان نے مزید تین چار گولیاں چلائیں اور کمرے سے باہر چلے گئے۔

وہ اپنے شوہر کے پاس پہنچی جو پہلے ہی دم توڑ چکے تھے، انہوں نے اپنے ڈرائیور کو فون کیا جس نے کال پر ان کا جواب نہیں دیا۔

شکایت کنندہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی ساس کو فون کیا تھا اور جب وہ کمرے سے باہر آئیں تو ملزمان فرار ہوچکے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے گارڈ، چوکیدار اور ڈرائیور کے ہاتھ اور پیر باندھ رکھے تھے اور ایک مسلح ملزم وہاں کھڑا تھا جو ان کی نگرانی کر رہا تھا۔

شکایت کنندہ نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے بچوں کے کمرے کا تالا بھی توڑا، دھمکیاں دیں اور ان سے اپنے والد کے کمرے کے بارے میں پوچھا تھا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ پانچ نقاب پوش اور مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے، سونے کے زیورات، موبائل فون اور پرس چھین کر مزاحمت کرنے پر زین آفندی کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔