نیب کا چوہدری برادران کے خلاف ایک اور تحقیقات بند کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2021

ای میل

چوہدری برادران نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا —فائل فوٹو: ٹوئٹر
چوہدری برادران نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا —فائل فوٹو: ٹوئٹر

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) نے لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ادارے نے مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین (چوہدری برادران) کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انویسٹی گیشن (تحقیقات) بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

صوبائی دارالحکومت کی عدالت عالیہ میں جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے چیئرمین نیب کے اختیارات اور اپنے خلاف انکوائریز پر چوہدری برادران کی دائر کردہ درخواستوں پر سماعت کی، اس دوران ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم اور نیب کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے جبکہ چوہدری برادران کی نمائندگی امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کی۔

سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ادارے نے چوہدری برادران کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انویسٹی گیشن بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ چوہدری برادران کے اہل خانہ کے خلاف انکوائری بند کردی ہے۔

مزید پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس: چوہدری برادران کے خلاف تحقیقات 4 ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم

اسی دوران عدالتی حکم پر ڈی جی نیب نے رپورٹ پیش کی اور ساتھ ہی چوہدری برادران کے خلاف انویسٹی گیشن بند کرنے سے متعلق آگاہ کیا۔

جس کے بعد عدالت نے نیب کی جانب سے انکوائری بند کرنے پر درخواست نمٹا دی۔

یاد رہے کہ عدالت عالیہ میں درخواست گزار چوہدری برادران نے درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ نیب سیاسی انجینیئرنگ کرنے والا ادارہ ہے، نیب کے کردار اور تحقیقات کے غلط انداز پر عدالتیں فیصلے بهی دے چکی ہیں۔

ان کا مؤقف تھا کہ چیئرمین نیب نے 20 سال پرانے معاملے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا، نیب نے 20 سال قبل آمدن سے زائد اثاثہ جات کی مکمل تحقیقات کیں مگر ناکام ہوا، ساتھ ہی انہوں نے درخواست میں کہا تھا کہ چیئرمین نیب کو 20 سال پرانی اور بند کی جانے والی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اختیار نہیں تھا، مزید یہ کہ ہمارا سیاسی خاندان ہے، سیاسی طور انتقام کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف بطور وزیر بلدیات کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے مگر کوئی ٹھوس شواہد نہ ملے، کسی بھی مالی ادارے کی جانب سے نیب کو کرپشن کے شواہد نہ ملے، مزید یہ کہ درخواست گزار بے داغ سیاسی کیریئر کے حامل ہیں اور انہوں نے کبھی کرپشن نہیں کی۔

عدالت میں دائر درخواست کے مطابق چوہدری برادران کے خلاف انکوائری کو انویسٹی گیشن میں اپ گریڈ کرنا غیر قانونی ہے، مزید یہ کہ نیب تفتیش نامعلوم افراد کی درخواست پر شروع کی گئی۔

درخواست کے مطابق شواہد کے حصول کے لیے درخواست گزاروں کے گھروں کی بھی تلاشی لی گئی مگر کچھ بھی نہیں ملا، لہٰذا نیب کا 20 برس پرانے آمدن سے زائد اثاثہ جات معاملے کی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اقدام غیرقانونی قرار دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے زیرالتوا انکوائریز پر چوہدری برادران کا مؤقف مسترد کردیا

خیال رہے کہ 6 مئی 2020 کو چوہدری برادران نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کے اختیارات کے غلط استعمال اور اپنے خلاف 20 سالہ پرانی 3 تحقیقات کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ میں اپنے وکیل امجد پرویز کے توسط سے دائر کی گئیں 3 ایک جیسی درخواستوں میں مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں نے مؤقف اپنایا تھا کہ سال 2000 میں مذکورہ بیورو کے چیئرمین نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت درخواست گزاروں کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال، آمدن سے زائد اثاثے سے متعلق انکوائریز کی منظوری دی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل نیب نے چوہدری پرویز الٰہی، چوہدری شجاعت حسین اور دیگر 2 ملزمان کے خلاف 28 پلاٹس کی غیر قانونی خریداری سے متعلق انکوائری بند کرچکا ہے۔