سرکاری اداروں کی نجکاری کی فہرست سے پی ٹی وی کا نام نکال دیا گیا

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2021

ای میل

کابینہ کمیٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات کی درخواست پر پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن نام فہرست سے نکال دیا— فائل فوٹو بشکریہ پی ٹی وی
کابینہ کمیٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات کی درخواست پر پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن نام فہرست سے نکال دیا— فائل فوٹو بشکریہ پی ٹی وی

اسلام آباد: سرکاری اداروں کی کابینہ کمیٹی نے بدھ کے روز پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن (پی ٹی وی) کو ان ایس او ایز کی فہرست سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جن کی نجکاری کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ وزارت اطلاعات و نشریات کی درخواست پر کیا گیا۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے وکیل نعیم بخاری پی ٹی وی چیئرمین مقرر

سیکریٹری انفارمیشن نے کمیٹی کے اجلاس کو بتایا کہ پی ٹی وی سی کو مالی لحاظ سے مضبوط، پیشہ وارانہ بنیادوں پر مؤثر اور فنی لحاظ سے ٹھوس ریاستی ادارہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر تنظیم نو کی جارہی ہے تاکہ قومی بیانیے کو بڑھاوا اور رائے عامہ کو ہموار کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت کمیٹی کے اجلاس میں وزیر نجکاری محمد میاں سومرو اور وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور سادگی ڈاکٹر عشرت حسین کے علاوہ وزارت خزانہ اور نجکاری کے سینئر عہدیداران نے شرکت کی۔

وزارت خزانہ نے کابینہ کمیٹی کے سامنے ریاستی اداروں کی موجودہ حالت سے متعلق ایک رپورٹ پیش کی جس میں تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے موجودہ کیٹیگریز کو مرکزی دھارے میں لائیں اور کمیٹی کے سامنے روڈ میپ پیش کریں۔

یہ بھی پڑھیں: 8 افسران کی برطرفی سے پی ٹی وی بحران کی زد میں

کمیٹی نے متعلقہ وزرا کو ہدایت کی کہ وہ عبوری مدت کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لائیں اور سرکاری اداروں کی تنظیم نو کے لیے آپشنز پر عملدرآمد کریں جس میں جہاں ممکن ہو وہاں عہدیداروں کو کنٹریکٹ ملازمین میں تبدیل کرنے کی شق بھی شامل ہو اور کمیٹی کو وقتا فوقتا اپ ڈیٹ کریں۔

فیصلہ کیا گیا کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق نقصان اٹھانے والے بڑے سرکاری اداروں کا فرانزک آڈٹ کیا جائے گا۔

سیکریٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ اس سلسلے میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دفتر موجود تھے اور انہوں نے ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کردیا تھا جبکہ نجی سیکٹر کی متعدد فرموں نے بھی فرانزک آڈٹ کروانے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی وی بورڈ نے ’منیجنگ ڈائریکٹر کو معطل‘ کردیا

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سرکاری اداروں کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے فرانزک آڈٹ کا کام نجی کمپنیوں اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان میں قواعد کے مطابق تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

سکریٹری خزانہ نے سرکاری اداروں کے بل 2020 کے مسودے پر پیشرفت سے متعلق کمیٹی کو اپ ڈیٹ کیا اور کہا کہ فنانس ڈویژن نے اسے لا اینڈ جسٹس ڈویژن میں جمع کرادیا ہے، ایک بار جب مسودہ بل کی منظوری مل گئی تو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اس کو منظوری کے لیے کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔