اسرائیلی آبادکاری: 2500 گھروں کی تعمیرات کے لیے ٹینڈرز طلب

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2021

ای میل

واشنگٹن میں انتظامیہ کی تبدیلی سے قبل آخری لمحات تک زیادہ سے زیادہ آبادکاری کی سرگرمی کو فروغ دینا ایک پاگل پن ہے، پیس ناؤ - فائل فوٹو:اے ایف پی
واشنگٹن میں انتظامیہ کی تبدیلی سے قبل آخری لمحات تک زیادہ سے زیادہ آبادکاری کی سرگرمی کو فروغ دینا ایک پاگل پن ہے، پیس ناؤ - فائل فوٹو:اے ایف پی

اسرائیل نے مشرقی یروشلم اور مقبوضہ مغربی کنارے میں 2 ہزار 500 سے زائد نو آبادیاتی گھروں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز طلب کرلیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز اسرائیل نے مارچ کے عام انتخابات سے قبل مغربی کنارے میں 780 نئے آباد کاروں کے گھروں کو منظوری دی تھی جس میں وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو کے حوالے سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ آبادکاری کے حامی اُمیدوار جیدون سار سے سخت چیلنج کا سامنا کریں گے۔

پیس ناؤ نے کہا کہ حکومت نے اب مغربی کنارے میں مزید 2 ہزار 112 اور مشرقی یروشلم میں 460 یونٹس کے لیے ٹینڈرز طلب کیے ہیں جنہیں فلسطینی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی اُمید کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: شامی فضائیہ کا اسرائیل کی جارحانہ کارروائی ناکام بنانے کا دعویٰ

واچ ڈاگ نے حکومت پر یہ الزام لگایا کہ 'واشنگٹن میں انتظامیہ کی تبدیلی سے قبل آخری لمحات تک زیادہ سے زیادہ آبادکاری کی سرگرمی کو فروغ دینا ایک پاگل پن ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایسا کرنے سے بینجمن نیتن یاہو آنے والے صدر کو یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل سے تعلقات میں نئے باب کو ایک دن بھی دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہی فلسطینیوں کے ساتھ اپنے تنازع کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے بارے میں سنجیدہ سوچ رکھتے ہیں'۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے کہا کہ اسرائیلی اقدام 'دو ریاستی حل کی باقیات کو ختم کرنے کی دوڑ کے مترادف ہے جبکہ نئی امریکی انتظامیہ کے لیے زیادہ سے زیادہ رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں'۔

پڑوسی ملک اردن نے اس فیصلے کی مذمت کی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل سے بہتر تعلقات ممکن لیکن فلسطین سے متعلق پالیسی قبول نہیں، اردوان

اردن کے وزارت خارجہ کے ترجمان ذیف اللہ علی الفیض نے کہا کہ نوآبادیاتی پالیسی نہ تو جائز ہے اور نہ ہی قانونی۔

انہوں نے کہا کہ 'اس سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور امن کی بنیادوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور ساتھ ہی دو ریاستوں کے حل تک پہنچنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے'۔

مغربی کنارے میں تمام یہودی آباد کاریوں کو بین الاقوامی برادری میں بیشتر غیر قانونی تصور کرتے ہیں۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے دہائیوں پرانی امریکی پالیسی کو توڑتے ہوئے 2019 کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن اب بستیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں مانتا ہے۔

مزید پڑھیں: ممنوعہ سرزمین: ایک پاکستانی کا سفرِ اسرائیل

جو بائیڈن نے اشارہ دیا ہے کہ ان کی انتظامیہ آباد کاری میں توسیع کی مخالفت کرنے والی واشنگٹن کی ٹرمپ سے قبل کی پالیسی کو بحال کرے گی۔

تاہم منگل کے روز ان کے نامزد سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ آنے والی انتظامیہ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے برخلاف نہیں ہوگی۔