سی پیک اتھارٹی سے متعلق 'غیر تسلی بخش' جواب پر اپوزیشن کا سینیٹ اجلاس سے واک آؤٹ

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2021

ای میل

ایوان میں 'پاپا جونز نامنظور' کے نعرے لگے — اسکرین شاٹ: ڈان نیوز
ایوان میں 'پاپا جونز نامنظور' کے نعرے لگے — اسکرین شاٹ: ڈان نیوز

اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی چینی سفیر سے ملاقات سمیت سی پیک اتھارٹی سے متعلق حکومت کی جانب سے اطمینان بخش جواب نہ دیے جانے پر سینٹ اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر محمد جاوید عباسی اور جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے سوال اٹھایا کہ عاصم سلیم باجوہ نے کس حیثیت سے چینی سفیر سے ملاقات کی، کیا وہ اب بھی سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کی تنخواہ وصول کر رہے ہیں؟

جاوید عباسی نے سوال اٹھایا کہ سی پیک اتھارٹی آرڈیننس ختم ہو چکا ہے، عاصم باجوہ کس حیثیت سے چینی سفیر اور دیگر افراد سے ملاقاتیں کر رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: 'اس وقت سی پیک اتھارٹی کا کوئی چیئرمین نہیں ہے'

وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے جواب دیا کہ چینی سفیر اپوزیشن رہنماؤں سے بھی ملاقات کرتے ہیں، ایک شخص جس کا سی پیک اتھارٹی سے تعلق رہا ہو اس کے ملاقاتیں کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

اس موقع پر ایوان میں 'پاپا جونز نامنظور' کے نعرے لگائے گئے۔

سینیٹر مشتاق احمد نے وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اسد عمر سے تحریری سوالات کیے کہ آیا یہ حقیقت ہے کہ سی پیک اتھارٹی آرڈیننس منسوخ ہونے کے باوجود اتھارٹی بغیر کسی آئینی اختیارات اور قانونی جواز کے ابھی تک کام کر رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو، اتھارٹی کی جانب سے اب تک لیے گئے انتظامی و مالی فیصلوں اور اٹھائے گئے اقدامات کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

اسد عمر نے جواب میں کہا کہ سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کی مدت مئی 2020 میں ختم ہو گئی تھی، سی پیک اتھارٹی کا بل قومی اسمبلی میں زیر کارروائی ہے جبکہ سی پیک منصوبوں سے متعلق تمام انتظامی اور مالی معاملات وزرات منصوبہ بندی دیکھ رہی ہے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ میں سی پیک اتھارٹی کی قانونی حیثیت پر سوالات

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ایک متنازع شخص کو سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین لگایا گیا، پاپا جونز پر کرپشن کے الزامات ہیں، آئندہ کسی ایسے شخص کو چیئرمین سی پیک اتھارٹی نہ لگائیں جس پر کرپشن کے الزامات ہوں۔

وزیر حماد اظہر نے کہا کہ جس شخص پر براڈ شیٹ، پاناما کا الزام ہے اسے تو آپ ملک کا وزیر اعظم لگانا چاہتے ہیں۔

اپوزیشن کے تمام اراکین نے حکومتی اراکین کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔