محکمہ جنگلی حیات کے جرمانوں سے شکاری برہم

اپ ڈیٹ 25 جنوری 2021

ای میل

پنجاب کے محکمہ وائلڈ لائف نے گزشتہ 30 روز میں غیر قانونی شکار پر شکاریوں سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا ہے،رپورٹ - فائل فوٹو:اے ایف پی
پنجاب کے محکمہ وائلڈ لائف نے گزشتہ 30 روز میں غیر قانونی شکار پر شکاریوں سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا ہے،رپورٹ - فائل فوٹو:اے ایف پی

پنجاب کے محکمہ وائلڈ لائف (جنگلی حیات) نے گزشتہ 30 روز میں غیرقانونی شکار پر شکاریوں سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا تاہم شکاریوں کی جانب سے حکومت کو انتقامی کارروائی کا سامنا بھی رہا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران جاری کیے گئے 51 جرمانوں میں سے 43 کیسز کو خوش اسلوبی سے نمٹایا گیا تاہم دیگر میں شکاریوں نے محکمے کے عملے کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) درج کرنے کا فیصلہ کیا اور چند کیسز میں غیر قانونی شکار پر جرمانے کی ادائیگی نہ کرنے کا انتخاب کرنے والے شکاریوں نے محکمے کو عدالتوں میں چیلنج کیا ہے۔

مزید پڑھیں: اماراتی شاہی خاندان کے افراد کی تلور کے شکار کیلئے پنجگور آمد

چارسدہ سے تعلق رکھنے والے ایک شکاری کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ میں تیتر پکڑنے کی کوشش میں ایک لاکھ 22 ہزار روپے کا جرمانہ ہوا۔

اگرچہ یہ تیتر کا موسم ہے اور ایک شکاری ایک بندوق سے چھ پرندے پکڑ سکتا ہے وہیں تیتر کا شکار 15 فروری تک صرف اتوار کے روز ہی کیا جاسکتا ہے، اس کے بعد اگلے موسم سرما تک تیتروں کے شکار کا موسم بند رہے گا۔

پنجاب کے محکمہ وائلڈ لائف ڈسٹرکٹ ڈسٹرکٹ وائلڈ لائف آفیسر رضوانہ عزیز نے ڈان کو بتایا کہ 'یہ تیتر کی آبادی کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی حد تک مناسب اور ضروری انتظامات ہیں، قانون کے تحت ان پابندیوں پر شکاری مشتعل ہیں اور اکثر غیر متعین کردہ دنوں میں شکار کرتے ہیں بشمول چارسدہ کے شکاری'۔

عہدیدار نے بتایا کہ خوش قسمتی سے محکمہ وائلڈ لائف کا عملہ وقت پر پہنچا اس سے پہلے کہ شکاری کوئی بھی تیتر کو گولی مار سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: نایاب مچھلی کا شکار کئی انسانی جانیں نگل گیا

اسی طرح محکمے نے مری، کوٹلی ستیان اور کہوٹہ نیشنل پارک میں چکارا (ہرن کی ایک قسم) کو گولی مارنے کی کوشش کرنے والے شکاریوں پر جرمانہ عائد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے عملے نے شکاریوں کو وقت پر پکڑا، ان پر 90 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا، قانون میں چکارا کے شکار پر پابندی ہے جن کی آبادی کم ہوتی جارہی ہے تاہم تحفظ کی کوششوں نے انہیں مکمل طور پر غائب ہونے سے بچالیا ہے'۔

2016 کے ایک سروے کے مطابق راولپنڈی کی آریڈ زرعی یونیورسٹی کے محققین نے نیشنل پارک میں 200 چکارا کو رجسٹر کیا۔

رضوانہ عزیز کا خیال ہے کہ تحفظ کی ایسی سخت کوششوں کے نتیجے میں تینوں ہی علاقوں میں چکارا کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔