بھارت کے یوم جمہوریہ پر کشمیریوں کا یوم سیاہ، دنیا بھر میں احتجاج

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2021

ای میل

بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر سرینگر میں ہڑتال کے سبب تمام دکانیں بند ہیں— فوٹو: اے پی
بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر سرینگر میں ہڑتال کے سبب تمام دکانیں بند ہیں— فوٹو: اے پی

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بھارت کا یوم جمہوریہ، یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔

یوم سیاہ منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غیرقانونی اور غاصبانہ قبضے کی طرف دلانا ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں 'مودی کی آباد کاری اسکیم'، 4 لاکھ سے زائد نئے ڈومیسائل جاری

اس دن کو منانے کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بے گناہ کشمیریوں کی زیر حراست ہلاکتوں اور مسلسل مظالم کی طرف دنیا کی توجہ دلانا بھی ہے۔

بھارت کے غیرقانونی قبضے میں موجود جموں وکشمیر کی کل جماعتی حریت کانفرنس نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی تسلط اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف آج احتجاجاً مکمل ہڑتال کریں۔

آزاد جموں وکشمیر کے تمام دس اضلاع میں بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لیے آج احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں اور مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

ادھر پورے مقبوضہ علاقے بالخصوص کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم سمیت 26 جنوری کی سرکاری تقریبات کے مقامات کے گرد بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے قابض بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر عالمی برداری کی خاموشی سوالیہ نشان ہے، شیریں مزاری

سرینگر میں تین حصاروں پر مشتمل سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور پورے مقبوضہ علاقے میں جگہ جگہ قائم کی گئی چوکیوں پر لوگوں سے ناروا سلوک اختیار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ آج بھارت کا یوم جمہوریہ یومِ سیاہ کے طور پر منایا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں کشمیری سراپا احتجاج ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئین کے تحت کشمیریوں کو دیا گیا تشخص چھین لیا گیا ہے، کشمیری سراپا احتجاج ہیں کہ ان کے بنیادی آئینی حقوق سلب کر لیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی ادارے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی مظالم کا پردہ چاک کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: 'کشمیر صرف سرحدی مسئلہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی خواہشات کا معاملہ ہے'

ان کا کہنا تھا کہ آج بھارت میں یوم جمہوریہ کی پریڈ میں ٹینک نہیں ٹریکٹر نظر آرہے ہیں، آج ہندوستان کے کسان دلی کی طرف مارچ کررہے ہیں جبکہ بھارت سرکار کی منفی پالیسیوں کے باعث بھارت کی معیشت کی صورتحال بگڑ چکی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں آج اقلیتیں خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہیں، آج وہاں مسلمان، بنگالی، دلت کوئی محفوظ نہیں اور جمہوریت کے بجائے کالے قوانین کا نفاذ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے بھارت میں سیکولرازم دبتا ہوا اور ہندوتوا سوچ ابھرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کے رویے سے اس کے سارے پڑوسی نالاں ہیں اور نیپال، چین اور بنگلہ دیش سب کے ساتھ بھارت کا رویہ بدلا ہوا ہے جبکہ بھارت اسی رویے کے باعث تیزی سے اپنے پڑوسی ممالک سے دور ہو رہا ہے۔

ادھر حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ ہندوستان کا یوم جمہوریہ کشمیری یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں اور ہندوستان نے کشمیریوں سے ہر حق چھین رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوجی نے انعام کیلئے 3 افراد کو قتل کیا، پولیس رپورٹ

منگل کو اپنے بیان میں مشعال ملک نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیریوں سے آزادی، جینے حتی کہ سانس لینے کا حق بھی چھین رکھا ہے اور حریت قیادت کو جیل میں بند رکھا ہے۔

انہوں نے اپنے شوہر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک تہاڑ جیل میں قید ہیں اور یاسین ملک کی جان کو خطرہ ہے جبکہ ہمارے ہزاروں نوجوان جیلوں میں قید ہیں۔

مشعال ملک نے کہا کہ ہمیں تدفین کے لیے شہیدوں کی لاشیں نہیں دی جاتیں اور انہوں نے سوال کیا کہ ہندوستانیو کیا کشمیری انسان نہیں ہیں۔