زیرآب کیبلز میں خرابی سے پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز متاثر ہونے کا امکان

اپ ڈیٹ 17 فروری 2021

ای میل

پاکستان کو بیرونی دنیا سے انٹرنیٹ کے ذریعے جوڑنے والی کیبلز کی تعداد 6 ہے— فائل فوٹو: شٹراسٹاک
پاکستان کو بیرونی دنیا سے انٹرنیٹ کے ذریعے جوڑنے والی کیبلز کی تعداد 6 ہے— فائل فوٹو: شٹراسٹاک

پاکستان میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی بین الاقوامی زیرآب کیبل سسٹم میں خرابی کے نتیجے میں ملک میں آن لائن سروسز متاثر ہونے کا امکان ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے جاری کردہ بیان کے مطابق مصر میں ابو تلات کے قریب بین الاقوامی زیر آب کیبلز سسٹم میں خرابی کے نتیجے میں صارفین کو انٹرنیٹ سروسز تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (ٹی ڈبلیو اے) نے یورپ کی جانب سے ایس ای اے ایم ای ڈبلیو ای 5 کیبل سسٹم میں بین الاقوامی کنیکٹیویٹی میں سروس میں سست روی سے آگاہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: زیرآب کیبل میں خرابی سے پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز متاثر

انٹرنیٹ سروس کی فراہمی میں یہ سست روی زیر آب کیبل سسٹم میں خرابی کی وجہ سے آئی ہے۔

مصر میں بین الاقوامی ہم منصبوں کے ذریعے جلداز جلد اس خرابی کو ٹھیک کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

ترجمان پی ٹی اے کے مطابق کیبل سسٹم کی خرابی کے نتیجے میں انٹرنیٹ سروس زیادہ تر اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد میں متاثر ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹس زیر گردش تھیں پاکستان میں صارفین کو بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی زیر آب کیبل آئی ایم ای ڈبلیو ای میں خرابی پیش آئی ہے۔

تاہم پی ٹی اے اورپاکستان ٹیلی کمیونیکشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی جانب سے ایسی کسی خرابی کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان کو بیرونی دنیا سے انٹرنیٹ کے ذریعے جوڑنے والی کیبلز کی تعداد 6 ہے، دو کا ذکر تو اوپر ہوچکا ہے جبکہ دیگر چار میں ٹی ڈبلیو 1 (TW1)، ایس ای ایم ای ڈبلیو ای 3 (SEMEWE3)، ایس ای ایم ای ڈبلیو ای 5 (SEMEWE5) اور AAE1 شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: زیر آب کیبل کی خرابی سے پاکستان میں انٹرنیٹ سست روی کا شکار

ان میں سے ایس ای ایم ای ڈبلیو ای 3 محدود گنجائش میں کام کرتی ہے جبکہ دیگر 2 کی تنصیب کچھ سال قبل ہی ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ اکتوبر 2019 میں پاکستان میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی 2 بین الاقوامی زیرآب کیبلز میں خرابی کے نتیجے میں آن لائن سروسز متاثر ہوئی تھیں۔

واضح رہے کہ 2017 میں آئی ایم ای ڈبلیو ای میں خرابی کے نتیجے میں ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز لگ بھگ 2 دن تک متاثر رہی تھیں۔