مریم نواز نے این اے 75 میں انتخابات دوبارہ کرانے کا مطالبہ کردیا

اپ ڈیٹ 20 فروری 2021

ای میل

انہوں نے کہا کہ کارکن ووٹ چوروں کے چہرے پہچان چکے تھے—فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ کارکن ووٹ چوروں کے چہرے پہچان چکے تھے—فوٹو: ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے این اے 75 ڈسکہ میں ووٹنگ کی رفتار کم رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے انتخابات دوبارہ کرانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ڈسکہ شہر میں پولنگ کا عمل انتہائی سست رکھا گیا، صرف 23 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ الیکشن نہیں بلکہ پورے حلقے میں الیکشن ہوں گے، اس سے کم ہم نہیں مانیں گے۔

مزیدپڑھیں: ڈسکہ ضمنی انتخاب کے دوران فائرنگ، 2 افراد جاں بحق

علاوہ ازیں انہوں نے اپنے کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈسکہ، وزیر آباد اور نوشہرہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں کارکنوں نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے بیانیے کی حمایت کی بلکہ ووٹ کی عزت کے لیے پوری جنگ لڑی۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ کارکنوں نے ناصرف ووٹ دیا بلکہ آخری وقت تک اپنے ووٹ پر پہرہ بھی دیا، وہ سمجھ رہے تھے کہ رات کے وقت ہوگا تو جو چاہے کرسکیں گے لیکن ڈسکہ، وزیر آباد اور نوشہرہ کی عوام جاگتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ 'کارکن ووٹ چوروں کے چہرے پہچان چکے تھے'۔

مریم نواز نے کہا احسن اقبال، رانا ثنااللہ سمیت رکن قومی اسمبلی اور جماعت کے عہدیداران نے اپنی اپنی خدمات دیں ان کی شکر گزار ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کو گرفتار کرنے آگئے تھے لیکن پھر انہیں خیال ہے کہ اس طرح کا مقدمہ تو بنتا ہی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ضمنی انتخاب میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ڈپٹی اسپیکر اسمبلی کو جرمانہ

انہوں نے کہا کہ احسن اقبال بھی صبح تک جاگتے رہے اور ووٹ چوروں کو بے نقاب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پریس کانفرنس کے ذریعے ضمنی انتخابات میں عظیم الشان فتح پر مبارک باد دیتی ہوں'۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ 'ہم مگر مچھ کے منہ سے 3 نشست چھین کر لائے ہیں'۔

علاوہ ازیں مریم نواز نے گزشتہ روز دو نوجوانوں کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے خوف اور اس کی دھاندلی کی وجہ سے دو جانیں ضائع ہوگئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک نوجوان کا تعلق حکمراں جماعت سے تھا لیکن مجھے انسانی جان کے ضائع ہونے پر بہت افسوس ہے اور اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتی ہوں۔

مریم نواز نے حکومت کو مخاطب کرکے کہا کہ ڈسکہ اور نوشہرہ سے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے انہیں ان کے گھر میں شکست دی۔

مزیدپڑھیں: ضمنی انتخابات، سانگھڑ میں پی پی پی امیدوار کامیاب، غیر حتمی نتیجہ

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بھی نواز شریف کا بیانیہ پہنچ چکا ہے اور لوگ اسے تسلیم کرتے ہیں اس لیے لوگ نااہل حکمراں جماعت سے تنگ آچکے ہیں اور اب نجات چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سیالکوٹ میں ان کے لوگوں نے فائرنگ کی تاکہ مسلم لیگ (ن) کا ووٹر خوف کی وجہ سے گھر سے نہ نکلے اور اگر کوئی نکلا ہے تو واپس چلا جائے'۔

مریم نواز نے کہا کہ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی اور امیدوار نے فائرنگ کی اور اس کا الزام اپوزیشن پر لگار ہے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر فائرنگ کے موقع پر رانا ثنا اللہ موجود بھی ہوتے تو یہ لوگ رائیونڈ آکر مجھے گرفتار کرلیتے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈسکہ اور وزیر آباد میں پولنگ کو سلو کیا گیا اور چار چار پانچ پانچ گھنٹے پولنگ بند کی گئی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومتی عہدیدار پولنگ اسٹیشن کے اندر کیا کررہے تھے؟۔

مریم نواز نے کہا کہ عطا تارڑ اور ہمارے کارکنوں نے پولنگ عملے کو ووٹوں سے بھر تھیلے کے ساتھ پکڑا، ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ووٹ سے بھرا بیگ پولیس کی گاڑی میں ڈال کر وہ فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔

مزیدپڑھیں: ضمنی انتخابات: نوشہرہ میں پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا، مسلم لیگ (ن) کا امیدورار کامیاب

ان کا کہنا تھا کہ کوئی نہیں جانتا الیکشن کمیشن کے افسران 14 گھنٹے کہاں رہے۔

مریم نواز نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا بیان دیکھ لیں یہ حکومت کے خلاف بڑی چارج شیٹ ہے اور الیکشن کمیشن بھی چیخ پڑا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بھی نہیں معلوم کہ افسران کو کس نے اغوا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان پہلے سیلکٹ ہوکر آئے اور اب ریجیکٹ ہوئے ہیں کیونکہ انہیں چاروں صوبوں نے مسترد کردیا ہے۔

مریم نواز نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرکے کہا کہ پوری قوم کی نظریں الیکشن کمیشن پر ہے اس لیے ان کے پاس اپنی ساکھ بحال کرنے کا موقع ہے۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ڈسکہ شہر میں پولنگ سلو رکھی تو یہ 20 پولنگ اسٹیشن کا نہیں ہے بلکہ یہ پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن ہوں گے، اس سے کم ہم نہیں مانیں گے۔

مزید پڑھیں: ملیر ضمنی انتخاب: 'ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی' پر پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ زیر حراست

مریم نواز نے کہا کہ 'جو بدنامی نااہلی، نالائق، چینی اور بجلی چور کی وجہ سے انہیں دیکھنی پڑی ہے، ان کو اپنے ادارے کی عزت کے لیے سبق سیکھ لینا چاہیے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'عمران خان، نیب کا بیانیہ مسترد ہوا لیکن صرف ایک بیانیہ ملک کے کونے کونے تک پہنچا اور جسے عوام نے قبول کیا کہ ووٹ کو عزت دو'۔