امریکا پر پاکستان، بھارت کے مابین امن مذاکرات کیلئے کردار ادا کرنے پر زور

اپ ڈیٹ 22 فروری 2021

ای میل

امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان—تصویر: اسکرین گریب
امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان—تصویر: اسکرین گریب

واشنگٹن: پاکستان نے امریکا پر زور دیا ہے کہ جنوبی ایشیائی خطے میں امن و استحکام لانے کے لیے بھارت کو اسلام آباد کے ساتھ رابطوں پر آمادہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے لیے پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے کہا کہ 'پاکستان پر امن ہمسائیگی کے لیے پر عزم ہے اور اب یہ بھارت پر منحصر ہے کہ درست صورتحال پیدا کرے، ہم امریکا پر زور دیتے ہیں کہ اپنا کردار ادا کرے'۔

واشنگٹن تھنک ٹینک اسٹیمسن سینٹر کے آن لائن فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسد مجید خان نے یہ بھی تجویز دی کہ امریکا میں نئی جو بائیڈن حکومت کو افغانستان سے فوجیں نکالنے میں کسی بھی تاخیر کے حوالے سے طالبان سے مشورہ کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں بھارتی مداخلت کو امریکا رکوا سکتا ہے، پاکستان

ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ کمیونٹی امریکا-پاکستان تعلقات بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

پاک بھارت تعلقات دوبارہ بحال کرنے کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سفیر کا کہنا تھا کہ 'ہم نے امن کے لیے بار بار اشارے دیے اور بات کی ہے'۔

انہوں نے یاددہانی کروائی کہ فروری 2019 میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی فوجی اہلکاروں پر حملہ ہوا جس کے لیے نئی دہلی نے پاکستان میں موجود عناصر کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے 300 دہشت گردوں کے کیمپ کے بھارتی بیانیے کو چیلنج کیا تھا، ہم نے کہا تھا کہ یہ اس حکومت نے کیا ہے جو پاکستان کو برا بھلا کہہ کر سیاسی فوائد اٹھاتی ہے'۔

مذکورہ حملے کو بھارت نے مقبوضہ علاقوں کو اپنے ساتھ ضم کرنے کے لیے کس طرح استعمال کیا، اس کی وضاحت دیتے ہوئے اسد مجید خان نے کہا کہ 'ہم نے اس وقت کہا تھا کہ وہ ایسا اس لیے کررہے ہیں کیوں کہ وزیراعظم نریندر مودی کو انتخابات میں حصہ لینا ہے'۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا امریکا پر بھارت سے کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنے پر زور

پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ 'ایک معمول کے مطابق تجارتی تعلق، سیاسی تعلق قائم کرنے کی خاطر ہمارے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ بھارت سب سے پہلے اپنے تمام یکطرفہ اقدامات کو واپس لے اور نہ صرف کشمیر بلکہ تمام تنازعات حل کرنے کے ارادے کے ساتھ بات چیت کرے۔

انہوں نے کہا کہ 'اس کے بعد ہم اپنے معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری کی مشکلات حل کرسکتے ہیں'۔

اسد مجید خان نے جو بائیڈن انتظامیہ سے کہا کہ 'ایک نئے اور تبدیل شدہ پاکستان' سے تعلق کے لیے ایک نیا نقطہ نظر تشکیل دے۔