سینیٹ انتخابات: الیکشن ٹریبونل میں پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو کے کاغذات نامزدگی مسترد

اپ ڈیٹ 22 فروری 2021

ای میل

غلام مصطفی میمن نے سیف اللہ ابڑو کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض اٹھایا تھا—تصویر: فیس بک
غلام مصطفی میمن نے سیف اللہ ابڑو کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض اٹھایا تھا—تصویر: فیس بک

الیکشن ٹریبونل نے سینیٹ انتخابات کے لیے سندھ سے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیف اللہ ابڑو کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے۔

پی ٹی آئی رہنما سیف اللہ ابڑو کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف غلام مصطفی میمن نے اپیل دائر کی تھی جس پر عدالت نے سیف اللہ ابڑو کے وکیل کو طلب کیا تھا۔

چنانچہ مذکورہ اپیل کی آج الیکشن ٹریبونل میں ہونے والی سماعت میں سیف اللہ ابڑو کے وکیل حیدر وحید ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل ناقابل سماعت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے سینیٹ انتخابات کیلئے پی ٹی آئی امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دے دی

وکیل کا کہنا تھا کہ سیف اللہ ابڑو کے خلاف اپیل کرنے والے مصطفیٰ میمن خود اُمیدوار بھی نہیں، الیکشن قوانین کے مطابق اپیل کنندہ کی اس اپیل کو سنا بھی نہیں جاسکتا۔

وکیل نے پی ٹی آئی کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ شخص ہی ٹیکنو کریٹ کی نشست پر سینٹ انتخابات کا امیدوار ہوسکتا ہے، سیف اللہ ابڑو پاکستان انجینئرنگ کونسل سے لائسنس یافتہ انجینئر ہیں۔

حیدر وحید ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ 16 سالہ تعلیم اور 20 سالہ تجربہ ہو تو امیدوار ٹیکنوکریٹ کی نشست پر سینٹ کے انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے، سیف اللہ ابڑو کنسٹرکشن کمپنی کے سی ای او ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ رشید اے رضوی نے دورانِ سماعت دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے ٹھیکیدار کو ٹیکنوکریٹ بنا دیا ہے، سیف اللہ ابڑو کے خلاف کرمنل کیسز بھی درج ہیں۔

مزید پڑھیں:سینیٹ انتخابات: سندھ سے پی ٹی آئی کے کسی رکن نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے

درخواست گزار کے وکیل نے سیف اللہ ابڑو کی تعلیمی اسناد اور کاروباری تفصیلات عدالت میں پیش کیں، جس پر حیدر وحید ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ جس پروجیکٹ پر نیب تحقیقات کا الزام لگا گیا ہے وہ سیف اللہ ابڑو کے خلاف نہیں آفیشل کے خلاف تھا۔

وکیل نے کہا کہ سیف اللہ کے وارنٹ گرفتاری معطل ہوچکے ہیں اور ان کا نام بھی ای سی ایل سے نکال دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما کے انکم ٹيکس ریکارڈ کے مطابق 110 کروڑ روپے کی آمدن ہوئی ہے، اتنی آمدن ہوگی تو 2018 کے مقابلے میں اثاثے بڑھیں گے۔

رشید اے رضوی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو کے خلاف ملتان اور سکھر میں نیب تحقیقات جاری ہے جس پر جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ وہ تو سیف اللہ کے وکیل نے بھی تسلیم کیا ہے۔

رشید اے رضوی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹھیکیدار کو ٹیکنوکریٹ نشست کا اُمیدوار تسلیم کریں گے تو کل سینیٹ ٹھیکیداروں سے بھری ہوئی ہوگی جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

مزید پڑھیں؛ سینیٹ انتخابات کیلئے یوسف رضا گیلانی کے کاغذات نامزدگی منظور

بعدازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سن کر اور دستاویزات کا جائزہ لے کر سنیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کی جانب سے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر حصہ لینے کے لیے سیف اللہ ابڑو کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف ایپل منظور کرلی۔

عدالت نے الیکشن ٹریبونل کا ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ سیف اللہ ابڑو سینیٹ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔

الیکشن ٹریبونل نے حکم نامے میں کہا کہ سیف اللہ ابڑو کے خلاف اپیل میں لگائے گئے اعتراضات ثابت ہوگئے ہیں، سیف اللہ ابڑو ٹیکنوکریٹ کے معیار پر پورا نہیں اترتے ہیں۔

عدالت نے پی ٹی آئی کے امیدوار سیف اللہ ابڑو کے کاغزات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیف اللہ ابڑو سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی نشست کے اہل نہیں ہیں۔

درخواست گزار کا مؤقف

اپیل کنندہ غلام مصطفی میمن نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ سیف اللہ ابڑو نے کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثے چھپائے ہیں۔

درخواست گزار نے مزید کہا تھا کہ سیف اللہ ابڑو کے اثاثوں میں اچانک کئی گنا اضافہ ہوا، ان کے 2018 اور2021 کے گوشواروں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

غلام مصطفی میمن نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض اٹھایا تھا لیکن ریٹرنگ افسر نے سنے بغیر ہی سیف اللہ ابڑو کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے تھے۔

درخواست گزار نے الیکشن ٹریبونل سے ریٹرنگ افسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے اور سیف اللہ ابڑو کو سینیٹ الیکشن کے لیے نااہل قرار دینے کی اپیل کی تھی۔

خیال رہے کہ ووٹنگ سے متعلق صدارتی آرڈیننس کے تنازع میں الجھے ہوئے سینیٹ انتخابات 3 مارچ کو ہوں گے، سینیٹ کی 104 نشستوں میں سے 52 سینٹرز اپنی چھ سالہ مدت پوری ہونے پر 11 مارچ کو ریٹائر ہوجائیں گے۔

پی ٹی آئی نے سندھ سے وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا کو عام نشست جبکہ سیف اللہ ابڑو کو ٹیکنوکریٹ نشست پر ٹکٹ دیا تھا۔