حکومت سندھ کی حلیم عادل شیخ پر سینٹرل جیل میں حملے کی تردید

اپ ڈیٹ 22 فروری 2021

ای میل

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کیا پولیس خاموش ہوجائے گی؟ انہوں نے کارروائی کی — فوٹو: ڈان نیوز
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کیا پولیس خاموش ہوجائے گی؟ انہوں نے کارروائی کی — فوٹو: ڈان نیوز

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ پر سینٹرل جیل میں حملے کے واقعے کی تردید کردی۔

کراچی میں وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ہدایت کی کہ حلیم شیخ کو انتخابی حلقے سے ہٹایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ خود ای سی پی نے لکھا تھا کہ حلیم عادل شیخ کار ریلی کی شکل میں گھوم رہے تھے اور ہتھیاروں سے لیس تھے۔

انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات والے دن پی ٹی آئی کے مسلح کارکنوں کی تصاویر شیئر کی گئیں اور ان کی جانب سے کی گئی فائرنگ کی فوٹیج بھی میڈیا نے نشر کی۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ’کیا پولیس خاموش ہوجائے گی؟ انہوں نے کارروائی کی‘۔

مزید پڑھیں: حکومت سندھ نے جیل میں غنڈوں کے ذریعے مجھ پر حملہ کرایا، حلیم عادل شیخ کا دعویٰ

ترجمان نے بتایا کہ حلیم عادل شیخ کا نام ایف آئی آر میں درج ہے اور پولیس نے رہنما پی ٹی آئی کے ساتھ انتہائی شائستہ رویہ برقرار رکھا۔

انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جس شخص (حلیم عادل شیخ) کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اسے کیسے ہسپتال میں ’خوش اور صحت مند‘ دیکھا جاسکتا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے زور دے کر کہا کہ جیل میں ان پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کو مخاطب کرکے کہا کہ سندھ کے آئی جی کو دھمکی دینے والے گورنر کے عہدے کے لائق نہیں ہیں۔

ترجمان حکومت سندھ نے کہا کہ ’خدا کے لیے یہ ڈرامہ بند کیا جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ پولیس جانبدار ہوتی تو کیا حلیم عادل شیخ سے لوگوں کو ملنے دیتی، 10 لوگ ان سے ملنے جارہے ہیں۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ ’پھر الزام لگایا گیا کہ تھانے میں کوبرا آگیا اور 4 فٹ کے سانپ کو حلیم عادل شیخ نے فوراً مار دیا'۔

یہ بھی پڑھیں: حلیم عادل شیخ کی گرفتاری پر پی ٹی آئی کے ذمہ داران بہت خوش ہیں، سعید غنی

انہوں نے کہا کہ اس کی تحقیقات بھی ضروری ہیں کہ سانپ خود آیا یا لالیا گیا، کیا کسی پولیس افسر نے سانپ چھوڑا یا کوئی ملنے والا لے کر آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 19 اور 20 فروری کی درمیانی شب 10 افراد حلیم عادل شیخ سے ملنے آئے تھے اور پولیس نے ان کے بیگز چیک نہیں کیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جس دن یہ واقعہ پیش آیا تو وزیر اعلیٰ سندھ سمیت کابینہ کے ارکان نے اس کی مذمت کی۔

ترجمان حکومت سندھ نے کہا کہ پولیس کو اپنا کام کرنے دیں اور چالان جمع ہوگا اس کا فیصلہ عدالت کرے گی اس لیے عدالتی معاملات میں دخل اندازی نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب کیس پر اثر انداز ہونے کے لیے کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

قبل ازیں حلیم عادل شیخ نے الزام لگایا کہ حکومت سندھ نے سینٹرل جیل میں اپنے 50 سے 60 مجرمان، قیدیوں، غنڈوں کے ذریعے ان پر حملہ کرایا۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ضمنی انتخابات کے دوران گرفتاری کے بعد جس لاک اپ میں انہیں رکھا گیا تھا وہاں سانپ نکل آیا۔

خیال رہے کہ حلیم عادل شیخ کو صوبائی اسمبلی کے حلقے 88 ملیر میں ضمنی انتخاب کے موقع پر کشیدگی پھیلانے، فائرنگ، اقدام قتل اور دہشت گردی کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے 25 فروری تک ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا اور تفتیشی افسر کو ہدایت کی تھی کہ ملزمان کو اگلی سماعت میں تفتیشی رپورٹ کے ساتھ پیش کریں۔

حلیم عادل شیخ سمیت دیگر زیر حراست افراد کے خلاف میمن گوٹھ اور گڈاپ ٹاؤن تھانے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 147، 148، 149، 170، 171، 186، 114، 324، 353، 427 اور 337 ایچ کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 کے تحت دو الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔