سوات گورنمنٹ کالج میں ہراسانی کے الزام پر اسٹاف کے خلاف تحقیقات کا آغاز

اپ ڈیٹ 06 مارچ 2021
---فوٹو: کریکٹو کامنز
---فوٹو: کریکٹو کامنز

سوات: گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج سوات کے پرنسپل سید ممتاز علی شاہ نے کہا ہے کہ عملے کے کچھ اراکین کے خلاف ایک گمنام خط میں ہراساں کیے جانے والے الزامات کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق کالج انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سید ممتاز علی نے تدریسی عملے کے زیر اہتمام اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تحقیقات سے متعلق آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: لاہور: طالبات کو جنسی ہراساں کرنے والے استاد پر الزام ثابت

سید ممتاز علی نے کہا کہ کالج سابقہ ریاست میں قائم ہونے والا کالج ایک معیاری تعلیمی ادارہ تھا جو اس علاقے کے طلبہ کو معیاری تعلیم مہیا کرتا تھا لیکن کچھ عناصر اس کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عملے کے کچھ افراد کے خلاف گمنام خط کے معاملے کو سوشل اور مین اسٹریم میڈیا نے غلط انداز میں اٹھایا۔

کالج کے پرنسپل نے کہا کہ خط کے متن کا تجزیہ لیا گیا اور اس کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے وی سی کا جنسی ہراسانی کیس کی تحقیقات کا حکم

سید ممتاز علی نے کہا کہ قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 'کالج میں انسداد ہراسانی کا ایک مناسب سیل موجود ہے لیکن یہ خاص مسئلہ اس کے سامنے نہیں لایا گیا تھا‘۔

کالج کے پرنسپل نے کہا کہ اگر غیر مصدقہ خبر پھیل گئی تو کالج انتظامیہ کو ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے۔

انتظامیہ نے گمنام خط لکھنے والوں کو انتظامیہ سے ملنے کے لیے بھی کہا ہے تاکہ وہ اپنی شکایات کا اظہار کرسکیں۔

مزید پڑھیں: لاہور ہراسانی کیس: طالبات کے مطالبات پیش، اسکول کے مزید 2 عہدیدار معطل

بیان میں کہا گیا کہ ’انتظامیہ ان کے نام بتائے بغیر ان کے مسائل حل کرے گی‘۔

اجلاس میں بی ایس پروگرام کے تدریسی عملے کا کہنا تھا کہ خط میں ہراساں کرنے کے الزامات انٹرمیڈیٹ سیکشن کے عملے کے خلاف لگائے گئے تھے لیکن میڈیا نے بی ایس فیکلٹی کو اس معاملے کو منسلک کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس طرز عمل سے باز رہیں۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 6 مارچ 2021 کو شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں