ایران، چین معاہدہ خطے میں بھارت، امریکا کے مشترکہ مفادات کو نقصان پہنچائے گا، ماہرین

اپ ڈیٹ 04 اپريل 2021

ای میل

اس معاہدے سے امریکا کو جوہری معاہدے میں واپس لانے کے لیے ایران کو مدد حاصل ہوسکتی ہے، ماہرین - فائل فوٹو:اے ایف پی
اس معاہدے سے امریکا کو جوہری معاہدے میں واپس لانے کے لیے ایران کو مدد حاصل ہوسکتی ہے، ماہرین - فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: ایک ویبنار کے دوران ماہرین نے چین اور ایران کے 25 سالہ طویل تعاون کے فریم ورک کو خطے اور مشرق وسطیٰ میں چین کے اثر و رسوخ کو مزید تقویت دینے کے لیے تاریخی سنگ میل قرار دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف تجارت اور معاشی نمو کے لیے چین کی مارکیٹ کو توسیع حاصل ہوگی بلکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں قوت کے توازن میں بھی بگاڑ کا خدشہ ہے، مالی تعاون ایران کو اپنی تنہائی کو کم کرنے اور چین اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بڑھانے میں مدد فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ایران پابندیوں اور کووڈ 19 کے تباہ کن اثرات سے نبرد آزما ہے، یہ پیشرفت خوش آئند امداد ہے۔

مزید پڑھیں: چین، ایران کے درمیان تعاون کے 25 سالہ معاہدے پر دستخط

مقررین نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا اس معاہدے میں سب کی جیت ہے، بیجنگ نے نہ صرف ہائیڈرو کاربن تک متبادل رسائی حاصل کی ہے بلکہ بحر ہند میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید تقویت بخشی ہے۔

ایران میں بھارتی سرمایہ کاری کے پیش نظر یہ معاہدہ بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔

چین، ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو پروان چڑھارہا ہے اور اس نے تہران کے ساتھ 18 سے 20 ارب ڈالر کے 17 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں اور اگلے 10 سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

اس سے خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

ویبنار کا اہتمام ڈیولپمنٹ کمیونیکیشن نیٹ ورک نے 'چین، ایران تعاون کے نئے فریم ورک - علاقائی سلامتی اور معاشی نمو کے امکانات' کے موضوع پر کیا تھا۔

ماہرین کے پینل میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور اسٹریٹجک تجزیہ کار لیفٹیننٹ (ر) جنرل اسد درانی، چینگدو انسٹی ٹیوٹ آف ورلڈ افیئر کے سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر ڈین جی، سی پیک کے ماہر حسن داؤد بٹ، تہران انٹرنیشنل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر احسان سدیغی، ایسٹ ویسٹ انسٹی ٹیوٹ (لندن) میں ریسرچ فیلو ڈاکٹر نجم عباس اور ڈیو کام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر منیر احمد شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے کی تجویز مسترد کردی

پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے جنرل درانی نے کہا کہ یہ معاہدہ عالمی بساط پر ایک عمدہ اقدام ہے، جس ماحول میں ایرانی جوہری معاہدے پر دوبارہ غور کیا جارہا ہے امریکا، چین کو روکنے کی مہم پر زور دے رہا ہے اور وہ افغانستان سے نکلنے کے بھی قریب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جوہری معاہدے پر براہ راست بات چیت بھی پائپ لائن میں موجود ہے، جو بائیڈن افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا کو تیز کرسکتے ہیں یہاں تک کہ بھارت کو بھی اپنی علاقائی حیثیت کا جائزہ لینا چاہیے، پاکستان کو اس سے بڑا فائدہ ہوگا'۔

انہوں نے کہا کہ یہ خطے میں امریکا، بھارت کے مشترکہ مفادات کو گہری چوٹ پہنچائے گا اور امریکا کو جوہری معاہدے میں واپس لانے میں اس سے ایران کو مدد مل سکتی ہے۔