روس: پیوٹن نے قانون پر دستخط کرکے 2036 تک صدر رہنے کی گنجائش پیدا کردی

05 اپريل 2021

ای میل

پیوٹن نے دسمبر میں سابق صدرو کو استثنیٰ کے قانون پر دستخط کردیے تھے—فائل/فوٹو: رائٹرز
پیوٹن نے دسمبر میں سابق صدرو کو استثنیٰ کے قانون پر دستخط کردیے تھے—فائل/فوٹو: رائٹرز

روس کے صدر ویلادیمیر پیوٹن نے صدارتی مدت سے متعلق نئے قانون پر دستخط کردیے، جس کے تحت وہ 2036 تک صدر رہ سکتے ہیں۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق روسی حکومت کا کہنا تھا کہ پیوٹن دستخط کیے گئے قانون کے تحت 2036 تک صدر رہ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: روس: پیوٹن نے سابق صدور کو تاحیات استثنیٰ دینے کے بل پر دستخط کر دیے

نئے قانون کے مطابق پیوٹن 2024 میں موجودہ صدارت کی مدت مکمل ہونے کے بعد 6 سال پر مدت کی صدارت کے لیے دو مزید دو مرتبہ اہل ہوں گے۔

خیال رہے کہ روس میں گزشتہ برس آئین میں تبدیلیاں کی گئی تھیں اور اس حوالے ریفرنڈم کیا گیا تھا اور اب اس قانون پر صدر پیوٹن نے باقاعدہ دستخط کر لیے ہیں۔

روس میں گزشتہ برس منعقدہ عوامی ریفرنڈم میں 68 سالہ پیوٹن کو 83 برس کی عمر تک حکمران رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔

پیوٹن اس وقت اپنی صدارت کی مسلسل دوسری مدت مکمل کر رہے ہیں اور مجموعی طور پر چوتھی مدت ہے۔

روسی صدر کی آئینی اصلاحات کو ناقدین نے آئینی قبضہ قرار دیا تھا، جس میں صدر کو ریٹائرمنٹ کے بعد پرکشش پیکیج اور جرائم سمیت کئی معاملات پر تحفظ بھی شامل ہے۔

نئے قانون کے مطابق مستقبل میں کوئی صدر دو دفعہ سے زیادہ منتخب نہیں ہوسکے گا تاہم پیوٹن نے اپنی مدت صدارت کا اطلاق نئے سرے سے کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روسی عوام کا ولادی میر پیوٹن کے حق میں فیصلہ، 2036 تک صدر رہ سکیں گے

روسی صدر کے دستخط شدہ اس قانون کے مطابق غیرملکی شہریت رکھنے والا کوئی فرد صدارت کا امیدوار نہیں ہوگا۔

روس کی پارلیمان کے ایوان بالا اور ایوان زیریں سے یہ قانون گزشتہ ماہ منظور ہوا تھا۔

قبل ازیں 23 دسمبر 2020 کو روس کے صدر ویلادیمیر پیوٹن نے سابق صدور کو تاحیات استثنیٰ دینے کے بل پر دستخط کر دیے تھے۔

مذکورہ قانون کے تحت سابق صدور اور ان کے اہل خانہ کو ان کی زندگی میں سرزد ہونے والے جرائم پر قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

صدر کا دفتر چھوڑنے کے بعد تاحیات استثنیٰ کے ساتھ ساتھ وہ پولیس یا تفتیش کاروں کے سوالات، تلاشی اور گرفتاری سے بھی مستثنیٰ ہوں گے۔

اس سے قبل سابق صدور کو صرف ان جرائم پر استثنیٰ حاصل تھا جو ان کی صدارت کے دوران سرزد ہوئے تھے، نئی قانون سازی کے بعد اگر کسی سابق صدر کو غداری یا دیگر جرائم اور سپریم یا آئینی عدالت کی جانب کسی قسم کے جرم کی تصدیق کی گئی تو بھی انہیں استثنیٰ مل سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: روسی صدر کی آئین میں ترامیم کی تجویز، وزیر اعظم اور کابینہ نے استعفیٰ دے دیا

پیوٹن کی جانب سے دستخط کیے گئے قانون کے تحت سابق صدور کو اضافی طور پر فیڈریشن کونسل یا سینیٹ میں تاحیات رکنیت مل جائے گی، جو صدارت چھوڑنے کے بعد قانونی معاملات سے استثنیٰ کو یقینی بنانے کا عہدہ ہے۔

روس کے ایوان زیریں نے روس کے عدالتی نظام کے ملازمین، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ریگولیٹری اور عسکری تنظیموں کے حوالے سے معلومات کو خفیہ رکھنے کے لیے بل منظور کردیا تھا۔