ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انسولین کے استعمال میں گیم چینجر پیشرفت

19 اپريل 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

ذیابیطس ٹائپ 2 کے لاکھوں مریضوں کو روانہ کی بنیاد پر انسولین کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھ سکیں۔

مگر اکثر افراد کے لیے روزانہ کی بنیاد پر انسولین کا استعمال کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔

سائنسدانوں میں ہفتے میں صرف ایک دفعہ انسولین تھرای کی تیاری میں کامیابی حاصل کی ہے جو روزانہ استعمال ہونے والے انسولین انجیکشن کی طرح محفوظ اور مؤثر ہے۔

جریدے ڈائیبیٹس کیئر میں 2 بین الاقوامی کلینیکل ٹرائلز کے نتائج شائع ہوئے ہیں جن میں عندیہ دیا گیا کہ ہفتے میں ایک دفعہ انسولین کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کے لیے روزانہ انسولین کا ایک اچھا متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر انسولین کی خوراک کی مقدار، وقت اور گلیسمک اہداف کا حصول اکثر مشکل ہوتا ہے جس سے علاج کی افادیت میں کمی آتی ہے۔

اس کے مقابلے میں ہفتے میں ایک بار انسولین کے استعمال کے کلینیکل ٹرائلز کے دوسرے مرحلے میں یہ دریافتک یا گیا کہ اس سے طویل المعیاد بنیادوں پر گلوکوز کنٹرول اور مریض کی صحت بہتر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

یونیورسٹی آف ٹیکساس ساؤتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر کی روفیسر آئیڈیکو لینگوے نے بتایا کہ انسولین طریقہ علاج کچھ افراد کے لیے بوجھ ہوتا ہے جن کو اکثر انجیکشن کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ایک مخصوص طریقے کو جاری رکھنا ہوتا ہے، تو ہفتے میں ایک بار استعمال کی جانے والی ایک مؤثر اور محفوظ انسولین کی تیاری اس شعبے میں بہت بڑی پیشرفت ہوگی۔

ایک ٹرائل میں 7 ممالک سے تعلق رکھنے والے 205 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا اور اس میں 2 ہفتے اسکریننگ پیریڈ، 16 ہفتے علاج اور 5 ہفتے تک مریضوں کی مانیٹرنگ کی گئی۔

دوسرے ٹرائل میں 5 ممالک کے 154 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا اور اس میں بھی پہلے ٹرائل کی طرح 23 ہفتے کے ٹائم فریم میں مریضوں پر انسولین کے اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔

پروفیسر لینگوے نے بتایا کہ دونوں ٹرائلز سے بڑے پیمانے پر ہونے والے تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل پروگرام کا راستہ کھل گیا جو اس وقت مختلف مقامات ر جاری ہے۔

تیسرے مرحلے کے ٹرائل میں ذیابیطس ٹائپ ون اور 2 میں ہفتے میں ایک بار انسولین کے استعمال کی افادیت کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

محققین کے مطابق ہفتے میں ایک بار انسولین کا استعمال ایک گیم چینجر ثابت ہوگا جس سے مریضوں پر علاج کا بوجھ کم ہوگا اور وہ اسے زیادہ بہتر طریقے سے استعمال بھی کرسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ علاج مریضوں کی نگہداشت کرنے والے افراد پر بھی بوجھ کم کرے گا۔

تبصرے (0) بند ہیں