ناسا کا خلائی مشن مریخ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ سے آکسیجن تیار کرنے میں کامیاب

22 اپريل 2021
— فوٹو بشکریہ ناسا
— فوٹو بشکریہ ناسا

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے مریخ پر بھیجے جانے والے مشن پرسیورینس کا اصل مقصد تو وہاں زندگی کے آثار کو تلاش کرنا ہے۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ اسے دیگر سائنسی تجربات کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

20 اپریل کو پرسیورینس نے مریخ کے ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اکٹھا کرکے اسے سانس لینے کے قابل آکسیجن میں تبدیل کردیا۔

اس بات کا اعلان ناسا نے ایک بیان میں کرتے ہوئے بتایا کہ پرسیورینس میں ایک ایسا انسٹرومنٹ (اس کا نام مارش آکسیجن) نصب ہے جسے اس تجربے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس ٹوسٹر سائز ٹول سے اس مشن کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مالیکیولز سے آکسیجن ایٹمز کو الگ کرنا ممکن ہوا، جس کے لیے گیس کو لگ بھگ 1470 ڈگری فارن ہائیٹ پر گرم کرکے کاربن مونوآکسائیڈ کو تیار کیا گیا۔

انسٹرومنٹ کے پہلے تجربے کے دوران 5 گرام آکسیجن تیار ہوئی، جس سے ایک خلا باز کو 10 منٹ تک انے اسپیس سوٹ میں 10 منٹ تک سانس لے سکتا ہے۔

ناسا کے مطابق تجربے کی کامیابی سے مستقبل کے مشنز کے لیے ایک نیا ذریعہ کھل گیا ہے بالخصوص ایسے مشنز جن میں انسانوں کو راکتوں میں مریخ میں بھیجا جائے گا، جہاں انہیں آکسیجن کی ضرورت ہوگی۔

مثال کے طور پر مریخ پر 4 انسانوں کو لے جانے والے راکٹ میں 55 ہزار پاؤنڈ آکسیجن بھیجنے کی ضرورت ہوگی، مگر مریخ تک اتنی زیادہ مقدار میں آکسیجن بھیجنا ممکن نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے مستقبل کے مشنز کے لیے سرخ سیارے کی کھوج زیادہ آسان ہوسکے گی۔

یہ پہلی بار ہے جب زمین سے باہر کسی جگہ آکسیجن کو تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل مریخ میں زمین سے باہر پہلی بار ایک ہیلی کاپٹر کی پرواز میں کامیابی حاصل کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ناسا کا یہ پرسیورینس روور روبوٹ سرخ سیارے پر مائیکربیل (microbial) زندگی کے آثار کی تلاش کا کام کرے گا۔

مریخ پر لینڈنگ 2.7 ارب ڈالر اور 2 سالہ کوششوں کا خطرناک ترین منصوبہ تھا جس کا بنیادی مقصد ان مائیکروبز کے ممکنہ آثار کو کھود کر تلاش کرنا ہے جو 3 ارب برس قبل مریخ پر موجود تھے، جب نظام شمسی کا چوتھا سیارہ سورج سے زیادہ گرم ، نم اور زندگی کے لیے ممکنہ طور پر سازگار تھا۔

سائسدانوں کو امید ہے کہ وہ اس قدیم مقام سے زندگی کے نمونوں کو تلاش کرسکیں گے اور پرسیورینس کو مریخ سے پتھر کھوج نکالنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں زمین پر ان کا تجزیہ کیا جاسکے۔

جو انسانوں کی جانب سے کسی دوسرے سیارے سے پہلی مرتبہ جمع کیے جانے والے پہلے نمونے ہوں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں