فضائی آلودگی اور بچوں میں دمہ کے درمیان تعلق دریافت

22 مئ 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

دوران حمل فضائی آلودگی کا سامنا کرنے والی خواتین کے بچوں میں دمہ جیسے تکلیف دہ مرض تشکیل پانے کا خطرہ بہت زیادہ ہوسکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ایشکن اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں فضائی آلودگی کے ننھے ذرات (یو ایف پیز) کے اثرات کا جائزہ لیا گیا جو بڑے ذرات سے زیادہ زہریلے سمجھے جاتے ہیں۔

ان ذرات کے پھیلاؤ کے ذرائع میں گاڑیاں اور لکڑی کے چولہے نمایاں ہیں اور کسی بھی شہر کی فضا کے شوگر کیوب سائزر والیوم میں ایسے لاکھوں ذرات موجود ہوتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ رات حاملہ خواتین کے پھیپھڑوں سے دوران خون میں جاکر ورم کا باعث بنتے ہیں جبکہ آنول کے ذریعے بچے کے دوران خون میں پہنچ سکتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ تحقیق میں ایسے شواہد کے حصول کی جانب ابتدائی قدم اٹھایا گیا ہے جو یو ایف پیز کی بہتر مانیٹرنگ اور ریگولیشن کی جانب بڑھنے میں مدد فراہم کرسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ بچوں میں دمہ کا عارضہ عالمی سطح پر ایک بڑا مسئلہ ہے اور فضائی آلودگی کی شرح میں اضافے کے ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوران حمل بچوں کی نشوونما بہت حساس معاملہ ہوتی ہے اور تکسیدی تناؤ سے مسائل کا خطرہ ہوتا ہے۔

یہ پہلے ہی ثابت ہوچکا ہے کہ فضائی آلودگی کے نتیجے میں قبل از وقت پیدائش اور کم پیدائشی وزن کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ حاملہ خواتین میں اسقاط حمل کا امکان بھی ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں 400 خواتین کا دوران حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد جائزہ لیا گیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن خواتین کو دوران حمل ننھے ذرات کی کچھ زیادہ مقدار کا سامنا ہوا، ان کے بچوں میں دمہ کا خطرہ 4 گنا بڑھ گیا۔

عام طور پر اکثر بچوں میں دمہ کی تشخیص 3 سال کی عمر میں ہوتی ہے اور مجموعی طور پر 18 فیصد بچوں میں دمہ کی تشخیص ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے امریکن جرنل آف ریسیپٹری اینڈ کریٹیکل کیئر میڈیسین میں شائع ہوئے۔

تبصرے (0) بند ہیں