چین میں دنیا کی تیز ترین ٹرین کا افتتاح

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2021
— رائٹرز فوٹو
— رائٹرز فوٹو

چین میں دنیا کی تیزترین مسافر ٹرین کو چلانا شروع کردیا گیا ہے جس کی رفتار 373 میل فی گھنٹہ ہے۔

چین کے شہر چنگڈاؤ میں دنیا کی تیز ترین ٹرین سروس کا آغاز رواں ہفتے ہوا جسے چائنا ریلوے رولنگ اسٹاک کارپوریشن (سی آر آر سی) نے تیار کیا ہے۔

373 میل فی گھنٹہ کی رفتار، اتنی زیادہ ہے کہ اس سے بیجنگ سے شنگھائی کے درمیان کا فاصلہ محض ساڑھے 3 گھنٹے میں طے کرنا ممکن ہوجائے گا جبکہ لاہور سے کراچی جتنا فاصلہ یہ ٹرین 2 گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے کرسکے گی۔

یہ ٹرین مقناخیزی نظام کے تحت سفر کرے گی یعنی ٹرین پٹری کے مقناطیسی میدان پر ہوا میں معلق ہوکر چلتی ہے۔

سی آر آر سی کے ڈپٹی جنرل منیجر اور چیف منیجر لیانگ جیان ینگ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ رفتار کے ساتھ ساتھ یہ ٹرین بہت کم شرح میں آواز کی آلودگی کا اخراج کرتی ہے جبکہ دیگر تیزرفتار ٹرینوں کے مقابلے میں اس کی مرمت وغیرہ کی ضرورت بھی کم ہوگی۔

اس ٹرین کا پروٹوٹائپ ماڈل 2019 میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس موقع پر چین نے اعلان کیا تھا کہ وہ بڑے شہروں کے درمیان سفر کو 3 گھنٹے تک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ دنیا میں سب سے بڑا تیز رفتار ٹرین نیٹ ورک چین میں ہے جو 37 ہزار کلومیٹرز تک پھیلا ہوا ہے اور چین میں 2017 سے اب تک 1036 بلٹ ٹرینز کو چلایا جاچکا ہے۔

اس وقت چین میں تیز رفتار ٹرینوں کی اوسط رفتار 217 میل فی گھنٹہ ہے جبکہ طیاروں کی اوسط رفتار 497 سے 559 میل فی گھنٹہ ہے۔

تو 350 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرینیں ان دونوں کے درمیان کہیں ہوں گی تاہم چین کو اس حوالے مقناخیزی ٹریک نیٹ ورک پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

چین میں اس وقت کمرشل استعمال کے لیے واحد مقناخیزی ٹریک شنگھائی میں ہے جو 30 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

اس وقت متعدد ایسے ٹریکس پر کام جاری ہے جن میں سے ایک شنگھائی اور ہینگزو جبکہ دوسرا چنگڈاؤ اور چونگ چنگ کو ملانے کے لیے تعمیر کیا جارہا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں