کراچی: 'مغوی' سینئر صحافی وارث رضا کئی گھنٹوں بعد گھر لوٹ آئے

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2021
سینئر صحافی وارث رضا اس وقت اردو روزنامہ ایکسپریس کے لیے بحیثیت کالم نگار کام کر رہے ہیں— فوٹو: ٹوئٹر
سینئر صحافی وارث رضا اس وقت اردو روزنامہ ایکسپریس کے لیے بحیثیت کالم نگار کام کر رہے ہیں— فوٹو: ٹوئٹر

نامور صحافی اور کالم نگار وارث رضا کو مبینہ طور پر بدھ کو کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور پھر انہیں کئی گھنٹوں بعد شام میں رہا کردیا گیا۔

وارث کے بھائی عارف رضا نے تصدیق کی کہ وہ شام کو گھر واپس آئے۔

مزید پڑھیں: صحافی علی عمران سید کے اغوا کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ

اس سے قبل وارث کی بیٹی لیلیٰ رضا نے ایک ٹوئٹ میں الزام لگایا تھا کہ ان کے والد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اغوا کیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ تمام ترقی پسند آوازوں کو دبانا چاہتے ہیں، میرے والد نے طاقتوروں کے سامنے سچ بولنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

وارث رضا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں 30 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھتے ہیں اور وہ اس وقت اردو روزنامہ ایکسپریس کے لیے بحیثیت کالم نگار کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے حال ہی میں ملک میں پریس کی آزادی کے لیے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی 70 سالہ جدوجہد کے بارے میں ایک کتاب بھی مرتب کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صحافی مطیع اللہ جان اسلام آباد سے 'اغوا'

کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار گلشن اقبال کی صحافی کالونی میں واقع وارث کے گھر رات گئے 2بجکر 45منٹ پر پہنچے اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے، سیکیورٹی اہلکاروں نے اہل خانہ کو بتایا تھا کہ وہ انہیں تھوڑی دیر بعد رہا کر دیں گے۔

فہیم صدیقی کے مطابق وارث نے صبح 6بجکر50 منٹ کے قریب اہل خانہ سے فون پر رابطہ کر کے بتایا کہ وہ آ رہے ہیں تاہم یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کہاں ہیں۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس نے بتایا کہ وارث کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دونوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے وارث کی حراست کی مذمت کی تھی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر نظام الدین صدیقی، جنرل سیکریٹری فہیم اور ایگزیکٹو کونسل کے اراکین نے ایک بیان میں وارث کی صحافت کے خدمات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ میڈیا کی آزادی اور آزادی اظہار رائے کے لیے ہر جدوجہد کا حصہ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ملک میں حقیقی جمہوریت ہوتی تو صحافی اغوا نہیں ہوتے، اختر مینگل

بیان میں کہا گیا کہ ان کی گرفتاری باعث تشویش ہے اور کے یو جے اسے میڈیا کی آزادی پر حملہ تصور کرتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے وارث کی نظربندی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا العان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی تنظیمیں جمعرات کو ملک بھر میں احتجاج کریں گی۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے ایک بیان میں کہا کہ وارث رضا جیسے ذمے دار صحافی کی گرفتاری انتہائی باعث تشویش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میڈیا کی آزادی اور آزادی اظہار رائے کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو دبایا جا رہا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ کچھ افراد کی گرفتاری اور مقدمات کا اندراج سخت قوانین بنانے کی راہ ہموار کرے گا تو یہ ان کا وہم ہے۔

اس دوران کراچی یونین آف جرنلسٹس نے اعلان کیا کہ وہ جمعرات کی صبح سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری کے باہر ریلی کا انعقاد کریں گے تاکہ وارث کی گرفتاری کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں اور اس کی جبری گمشدگی کی جانب چیف جسٹس آف پاکستان کی توجہ مبذول کرائیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم فائرنگ سے زخمی

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ایسٹ قمر رضا جسکانی نے ڈان کو بتایا کہ وارث کے اہل خانہ کی جانب سے پولیس کو ان کے مبینہ اغوا کی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

سیاست دانوں اور صحافیوں نے بھی وارث کی گرفتاری کی مذمت کی اور پاکستان میں ٹوئٹر پر #ریلیز وارث رضا ٹرینڈ کرتا رہا۔

صحافی زیب النسا برکی نے ٹوئٹ کی کہ یہ ملک صحافیوں، کارکنوں ایسے کسی بھی فرد کے لیے محفوظ نہیں جو بولنے کی ہمت کرے گا۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ وارث کا اغوا ریاست کے بیانیے سے اختلاف کرنے کی جرات کرنے والوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں لاپتا افراد کی آزمائش اسی طرح شروع ہوئی ہے، کئی دہائیوں سے ان کے خاندان اس غیر یقینی صورتحال کے تشدد کا شکار ہیں، یہ ایک قابل نفرت عمل ہے۔

محقق اور عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے صدر عمار راشد نے وارث کو ایک سینئر ترقی پسند صحافی اور اعلیٰ ساکھ کا حامل مصنف قرار دیا جنہوں نے اپنے قلم کا استعمال ان ناانصافیوں کو اجاگر کرنے کے لیے کیا جنہیں سنا نہیں جاتا۔

عمار راشد نے صحافی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اغوا غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے وارث کے اغوا کی خبروں کو انتہائی پریشان کن قرار دیتے ہوئے ٹوئٹ میں کہا کہ وارث رضا کو فوری طور پر بحفاظت بازیاب کرایا جانا چاہیے اور مجرموں کو سزا دی جانی چاہیے اور اس کے خلاف سب کو آواز اٹھانی چاہیے۔

صحافی حامد میر نے کہا کہ وہ صحافی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں