پاکستان کا دیامر بھاشا ڈیم آلودگی سے پاک ہے اور نہ سستا

اگر حقیقی لاگت کے تخمینے اور بیرونی اخراجات کو جوڑا جائے تو دیامر بھاشا کو قومی معیشت کا انجن بالکل قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اپ ڈیٹ 22 نومبر 2021 04:51pm

حکومتِ پاکستان کے نزدیک دیامر بھاشا ڈیم ملک میں گرین توانائی کے مستقبل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ نئے Nationally Determined Contribution میں ہائیڈرو پاور کا کردار نمایاں رہے گا۔

4 ہزار 800 واٹ کے اس منصوبے کی تعمیر جون 2020ء میں شروع ہوئی اور اس کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 14 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 2027ء تک یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا۔

پاکستان میں اسی ڈیم کی تعمیر کے لیے گرین بانڈز جاری کیے گئے جس کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں سے مئی 2021ء تک 50 کروڑ امریکی ڈالر اکٹھا کیے جاچکے ہیں۔

اگست 2021ء میں تربیلا ڈیم کے پانچویں توسیعی منصوبے کے سنگِ میل رکھنے کی تقریب کے دوران وزیرِاعظم عمران خان نے ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہائیڈرو پاور کے کردار پر زور دیا تھا۔ تاہم بغور جائزہ لینے پر پتا چلتا ہے کہ ڈیم پر ماحولیاتی نظام اور مالی لاگتوں کے لحاظ سے نہ تو یہ ڈیم سستا ثابت ہوگا اور نہ ہی اس کے ذریعے گرین توانائی کا حصول ممکن ہوپائے گا۔

دیامر بھاشا کی کاربن لاگت

دیامر بھاشا کے آبی ذخیرے کا رقبہ 200 مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوگا۔ اس لحاظ سے ڈیم کے تعمیراتی کاموں کے لیے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ٹن اسٹیل اور 2 کروڑ 20 لاکھ کیوبک میٹر کنکریٹ کی ضرورت پڑے گی۔ واضح رہے کہ کنکریٹ کی تیاری کے دوران بھاری مقدار میں کاربن کا اخراج ہوتا ہے۔ دنیا میں 8 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی وجہ سیمنٹ کی پیداوار ہے۔

دنیا کے ایک ہزار 473 ڈیموں کے اعداد و شمار پر مشتمل 2016ء کی ایک تحقیق میں بیان کیے گئے اندازے کے مطابق ہائیڈرو پاور منصوبے سے پیدا ہونے والی فی گھنٹہ میگاواٹ توانائی کے نتیجے میں 273 کلو گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جتنی ہی نقصاندہ گیسوں (CO2e) کا اخراج ہوتا ہے۔

ان گیسوں میں میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی شامل ہے جو یا تو آبی ذخیرے کی تعمیر کے دوران جمع ہونے والے یا پھر پانی کے ساتھ بہہ کر آنے والے یا پھر آبی ذخیرے میں کائی کی پیداوار، مردہ درختوں کی پانی سے باہر نکلی ٹہنیوں یا ڈرا ڈاؤن ایریا میں تازہ بننے والی گہری کیچڑ میں پیدا ہونے والے نامیاتی مادے کے گلنے سڑھنے کے باعث خارج ہوتی ہیں۔

میتھین کیپچر (یعنی میتھین گیس کو استعمال میں لانا) کے ذریعے ہائڈرو پاور کا مِین کاربن فٹ پرنٹ 173 کلوگرام تک محدود ہوجاتا ہے۔ تاہم دیامر بھاشا منصوبے میں میتھین کیپچر کے حوالے سے انتظامات شامل نہیں ہیں۔

بعدازاں اسٹیل کی کاربن لاگت کا معاملہ بھی ہے۔ واضح رہے کہ فی ٹن اسٹیل کی پیداوار میں 1.85 ٹن CO2e خارج ہوتی ہیں۔

امریکی ادارے برائے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق کوئلے کو جلا کر فی گھنٹہ میگا واٹ توانائی پیدا کرنے میں 300 کلوگرام CO2e خارج ہوتی ہیں۔ (چونکہ تھرمل انرجی کو بجلی میں بدلنے پر نقصان ناگزیر ہے، اس لیے قابلِ استعمال فی گھنٹہ میگا واٹ بجلی کی پیداوار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی حقیقی مقدار بہت زیادہ ہوگی)۔

دیامر بھاشا منصوبے میں میتھین کیپچر کا مناسب بندوبست نہ ہونے کے باعث ہم یہ تخمینہ لگاسکتے ہیں کہ ڈیم سے ابتدائی 30 برسوں میں پیدا ہونے والی بجلی سے 321 CO2e فی گھنٹہ میگاواٹ، یعنی سب سے زیادہ آلودہ اقسام کے کوئلہ پلانٹ سے خارج ہونے والے کاربن جتنا ہی کاربن خارج ہوگا۔

اگر ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کو بھی شامل کیا جائے تو دیامر بھاشا ڈیم کا کاربن فٹ پرنٹ اور بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔

انڈس ڈیلٹا میں چھوڑے جانے والے پانی کی بڑی مقدار کے سبب سمندری پانی کی چڑھائی کو روکنے میں مدد ملتی ہے اور یوں وہاں مرتب ہونے والے تباہ کن اثرات میں کمی ہوتی ہے۔ انڈس ڈیلٹا پر سمندری پانی کی چڑھائی کے باعث تمر کے جنگلات خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ انڈس ڈیلٹا میں 1950ء میں تمر کے جنگلات کا رقبہ 3 لاکھ 80 ہزار ہیکٹر تھا جو 2005ء میں سکڑ کر 87 ہزار ہیکٹر رہ گیا۔ اس دوران انڈس باسن میں 5 بڑے ڈیموں کو تعمیر کیا گیا تھا۔ تمر کے جنگلات کاربن سے بھرپور درخت تصور کیے جاتے ہیں اور جنگلات کی کٹائی کے باعث ہونے والے مجموعی اخراج میں سے 10 فیصد اخراج تمر کے جنگلات کی کٹائی کے باعث ہوتا ہے حالانکہ دنیا میں موجود درختوں میں سے ان کا حصہ 0.7 فیصد ہے۔

دیامر بھاشیر ہائیڈرو پاور پلانٹ کی پراجیکٹ سائٹ—تصویر بشکریہ  اصغر حسین
دیامر بھاشیر ہائیڈرو پاور پلانٹ کی پراجیکٹ سائٹ—تصویر بشکریہ اصغر حسین

ڈیم اقتصادی حل نہیں

دیامر بھاشا منصوبے کو اکثر سستا قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم ایسا کرکے پاکستان میں ڈیموں کے لیے اٹھائے گئے قرض کی قسطوں سے جڑی تاریخ کو فراموش کردیا جاتا ہے (اور خطے میں) اس پر آنے والے بھاری اخراجات اور اندازے سے زیادہ طویل وقت کو بھی بھلا دیا جاتا ہے۔ 65 ملکوں کے 245 بڑے ڈیموں پر مشتمل ایک تحقیق میں ایک بڑے ڈیم پر تخمینے سے زیادہ اوسط لاگت 96 فیصد جبکہ اندازے سے زیادہ اوسط وقت کی طوالت 44 فیصد پائی گئی۔

پاکستان میں بھی یہی معاملہ رہا ہے۔ مثلاً تربیلا ڈیم میں ابتدائی تخمینوں سے 300 فیصد زائد اخراجات آئے جبکہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ پر 500 فیصد بجٹ سے زائد خرچہ ہوا۔

دیامر بھاشا میں پہلے ہی وقت اور لاگت کے اندازے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ منصوبے پر کام شروع ہونے کے ایک سال کے اندر ہی ڈیم کی لاگت میں 174 ارب روپے تک کا اضافہ ہوگیا۔ نجی گفتگو میں ہمیں بتایا گیا کہ ایک ذیلی منصوبہ (مرکزی ڈیم پر واقع 20 میگا واٹ کا تینجر ہائڈرو پاور پراجیکٹ) ایک سال کے اندر ہی طے شدہ وقت سے 6 ماہ پیچھے چلا گیا ہے۔

اگر دیامر بھاشا ڈیم منصوبے میں بھی دنیا کے 96 فیصد ڈیموں یا پاکستان کے بڑے ڈیموں جیسا وقت اور لاگت کے تخمینوں میں فرق پیدا ہوتا ہے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ منصوبہ 2035ء تک 14 ارب ڈالر کے ابتدائی تخمینے کے بجائے 28 ارب ڈالر میں پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ چونکہ منصوبے کی فنانسنگ اور رقوم کے بہاؤ سے متعلق تفصیلات تک عوام کو رسائی حاصل نہیں ہے لہٰذا ہم گزشتہ منصوبوں کی فنڈنگ کی معلومات کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ 20 ارب ڈالر کی فنانسنگ قرضوں کے ذریعے غیر ملکی کرنسی میں کی جائے گی۔

بیرونی اخراجات کا تخمینہ لگانے کے لیے ہم غیر ملکی کرنسی میں ملنے والے قرضوں کی 5 فیصد شرح سود پر ایک ساتھ قسط وار ادائیگی کا شیڈول تیار کرکے دیکھتے ہیں۔ (واضح رہے کہ 5 فیصد شرح سود پاکستان کے گرین یورو بانڈ پر عائد 7.5 فیصد شرح سود، یا گزشتہ سال پاکستان میں سرکاری اور نجی اداروں کے ذریعے لیے جانے والے قرضوں پر عائد 10.8 فیصد شرح سود سے کافی کم ہے)۔

فرض کریں کہ اگر ہمیں (تعمیراتی مرحلے کے لیے) 15 برس کی رعایتی مدت ملتی ہے تو اس دوران قرض دار کو قرض مساوی سالانہ اقساط کی صورت میں ملتا رہے گا جبکہ اسے قرض دہندہ کو اکھٹا ہوتے سود کی ہی ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ رعایتی مدت کے بعد پرنسپل یا اصل رقم اور سود کی ادائیگی مکمل ہوجاتی ہے، یاد رہے کہ اصل رقم مساوی قسطوں میں اور سود کی رقم 30 سالوں میں صفر تک پہنچ جاتی ہے۔

اس کی نسبت حالیہ غازی بروتھا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے دیے جانے والے قرض کی شرائط کافی زیادہ سخت تھیں۔ اس منصوبے کے لیے ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے 6 سال کی رعایتی مدت، 25 برس کی میچورٹی، ایک فیصد کے سالانہ سروس چارجز اور 14 فیصد سالانہ شرح سود کے ساتھ رقم جاری کی تھی۔ تاہم ہمارے دیامر بھاشا کے لیے فراہم کردہ قرض کی شرائط اس قدر کٹھن نہیں ہیں: ہمیں کم سود، طویل وقت اور نمایاں رعایتی مدت کے ساتھ قرض مل رہا ہے۔ مگر ان آسانیوں کے باوجود اس منصوبے کی فنانسنگ پر آنے والی بیرونی لاگت 29 ارب ڈالر کے قریب بنے گی۔

عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق 2020ء میں امریکا میں فی ٹن CO2e کی سماجی لاگت کا تخمینہ 6.8 سے 80 امریکی ڈالر لگایا گیا تھا۔ اگرچہ پاکستان میں سماجی لاگت کا تخمینہ نہیں لگایا گیا لیکن مذکورہ امریکی تخمینے کی روشنی میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ 30 سال کے آپریشن میں دیامر بھاشا ڈیم سے پیدا ہونے والے 17 کروڑ ٹن CO2e کے باعث معاشرے کو مزید 13 ارب امریکی ڈالر کی لاگت برداشت کرنا پڑسکتی ہے۔

یہ بات بھی یاد رہے کہ پاکستان امریکا کے مقابلے میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والی آفات سے بہت زیادہ متاثر ہے اور سماجی لاگت میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جائے گا یعنی دیامر بھاشا منصوبے کی تکمیل تک یہ لاگت بہت زیادہ بڑھ چکی ہوگی۔

منصوبے پر آنے والی براہ راست لاگت، فنانسنگ اور سماجی لاگت کو جمع کریں تو دیامر بھاشا منصوبے کی وجہ سے معاشرے کو 70 ارب ڈالر سے زائد کی لاگت برداشت کرنی پڑ جائے گی۔ اس بنا پر واپڈا کی جانب سے فی کلو واٹ کی طے شدہ 4.11 روپے قیمت کو برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ اگر ڈیم کی تعمیر پر ہونے والی لاگت کو 30 برسوں میں حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا جائے تو اس کی قیمت 22 روپے رکھنا ہوگی (بیرونی اخراجات کو دھیان میں رکھے بغیر)۔

قابلِ تجدید توانائی کے دیگر آپشنز

اگر حقیقی لاگت کا تخمینہ لگایا جائے اور اس میں بیرونی اخراجات کو جوڑا جائے تو دیامر بھاشا کو قومی معیشت کا انجن بنانا تو دُور کی بات ہے اس پر ہونے والے اخراجات جتنی رقم کا حصول بھی ممکن نہیں ہوپائے گی۔

موجودہ حکومت کے ڈیم تعمیراتی پروگرام کو 'Decade of Dams' (ڈیموں کی دہائی) پکارا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے آبی وسائل کے وزیر مونس الہٰی نے زیرِ تعمیر اور زیرِ غور منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس نعرے کو دہرایا۔

دراصل مسئلہ یہ ہے کہ ہائیڈرو پاور منصوبوں کا استعمال پاکستان کے پیرس معاہدے سے وابستگی کا حصہ ہے۔ اسی طرح خطے میں موجود چین اور بھارت جیسے دیگر ممالک نے بھی ہائیڈروپاور کے بڑے منصوبوں کی تعمیر جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ مگر کم از کم چین اور بھارت نے 2030ء تک سولر پلس اسٹوریج منصوبوں کی تنصیب کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ ان کے مقابلے میں پاکستان کے عزائم خاطر خواہ نہیں ہیں۔ پاکستان کو جب تک ہائیڈرو پاور منصوبے کے حقیقی تخمینے کا اندازہ نہیں ہوجاتا تب تک شاید قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں چھپے دیگر بہتر مواقع بھی آنکھوں سے اوجھل ہی رہیں گے۔


حسن عباس نے امریکہ کی مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی سے ہائیڈرولوجی اور آبی وسائل میں پی ایچ ڈی کی ہے اور تین براعظموں میں پانی کے شعبے میں کام کیا ہے۔ پاکستان میں، انہیں انٹیگریٹڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ کے لیے یونیسکو کے پہلے چیئرمین کے طور پر مقرر کیا گیا۔ فی الحال وہ پاکستان کے بڑے شہروں کے لیے پانی کی فراہمی اور سیلابی پانی کی نکاسی کے نظام کی ماسٹر پلاننگ میں مصروف ہیں۔ وہ @shahjijr پر ٹویٹ کرتے ہیں۔

یہ مضمون ابتدائی طور پر دی تھرڈ پول پر شائع ہوا، جسے با اجازت یہاں شائع کیا گیا ہے۔


اصغر حسین نے جرمنی کی جینا یونیورسٹی سے ہائیڈرو انفارمیٹکس میں ماسٹرز کیا ہے۔ ان کے پاس 29 سال کا بین الاقوامی تجربہ ہے۔