پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے نگراں ادارے کی ایگزیکٹو کونسل کا دوبارہ رکن منتخب

04 دسمبر 2021
پاکستان اب 2022 سے 2024 تک مزید دو سال کے لیے ایگزیکٹو کونسل کا رکن رہے گا۔ - فائل فوٹو:رائٹرز
پاکستان اب 2022 سے 2024 تک مزید دو سال کے لیے ایگزیکٹو کونسل کا رکن رہے گا۔ - فائل فوٹو:رائٹرز

دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم کی ایگزیکٹو کونسل کے لیے دوبارہ منتخب کر لیا گیا ہے۔

پاکستان اب 2022 سے 2024 تک مزید دو سال کے لیے ایگزیکٹو کونسل کا رکن رہے گا۔

کونسل کے لیے انتخابات 29 نومبر سے 2 دسمبر تک نیدرلینڈز میں ریاستی جماعتوں کی کانفرنس کے حال ہی میں ختم ہونے والے 26ویں اجلاس کے دوران ہوئے۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق 197 ریاستوں کے ساتھ دنیا کا پہلا کثیرالجہتی تخفیف اسلحہ معاہدہ کیمیکل ویپن کنونشن (سی ڈبلیو سی) بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو ختم کرنے والا سب سے کامیاب تخفیف اسلحہ معاہدہ ہے۔

ایگزیکٹو کونسل او پی سی ڈبلیو کا بنیادی پالیسی ساز ادارہ ہے جو سی ڈبلیو سی کے مؤثر نفاذ اور اس کی تعمیل کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ کیمیا کے پرامن استعمال میں اپنے رکن ممالک کی سائنسی اور اقتصادی ترقی کی بھی حمایت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان 1997 سے ایگزیکٹو کونسل کا رکن ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان سی ڈبلیو سی کے مقاصد کی تکمیل کے لیے تعمیری کردار ادا کر رہا ہے اور اپنی متعلقہ سہولیات پر او پی سی ڈبلیو کے معمول کے معائنے کی باقاعدگی سے میزبانی کرتا ہے‘۔

دفتر خارجہ نے کونسل میں پاکستان کے دوبارہ انتخاب کو واچ ڈاگ میں ملک کے مثبت کردار کا ثبوت قرار دیا۔

کہا گیا کہ کونسل نے او پی سی ڈبلیو کے کام کو موثر قیادت اور تحریک فراہم کرنے کی پاکستان کی صلاحیت پر دیگر رکن ممالک کے اعتماد کی تصدیق کی۔

تبصرے (0) بند ہیں