امریکا، دیگر ممالک کی سابق سیکیورٹی عہدیداران کی 'جلد پھانسی' پر طالبان پر تنقید

05 دسمبر 2021
افغانستان کے نئے حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عام معافی نافذ ہو —فائل فوٹو: رائٹرز
افغانستان کے نئے حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عام معافی نافذ ہو —فائل فوٹو: رائٹرز

امریکا، مغربی ممالک اور ان کے اتحادیوں نے افغان سیکیورٹی فورسز کے سابق اراکین کی مبینہ طور پر 'جلد پھانسی' پر طالبان کی شدید مذمت کی اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ 'ہیومن رائٹس واچ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے افغان سیکیورٹی فورسز کے سابق ارکان کی ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کی رپورٹس پر ہمیں گہری تشویش ہے'۔

یہ بیان امریکا کے علاوہ یورپی یونین، آسٹریلیا، برطانیہ، جاپان اور دیگر کی جانب سے جاری کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان، قانونی حیثیت کے حصول سے روکنے والے اقدامات کررہے ہیں، مندوب اقوامِ متحدہ

بیان میں کہا گیا کہ 'ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مبینہ کارروائیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور طالبان کی اعلان کردہ عام معافی کے منافی ہیں۔'

ساتھ ہی افغانستان کے نئے حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عام معافی نافذ ہو اور ملک بھر میں ان کی صفوں میں اس پر عمل کیا جائے۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو ) نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کے 47 سابقہ اراکین اور دیگر فوجی اہلکاروں کی گمشدگی یا مقدمہ چلائے بغیر ہلاکت کا ذکر کیا گیا تھا جنہوں نے اگست سے اکتوبر کے درمیان طالبان فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے یا انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: دوحہ مذاکرات: طالبان کا اثاثے غیر منجمد، امریکا کا مستقبل میں حملے نہ کرنے کا مطالبہ

یوکرین، نیوزی لینڈ، کینیڈیا اور متعدد یورپی ممالک نے بیان میں کہا کہ رپورٹ شدہ کیسز کی فوری اور شفاف طریقے سے تحقیقات کی جانی چاہیے اور ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے، ساتھ ہی ان اقدامات کو مزید ہلاکتوں اور گمشدگیوں کی فوری روک تھام کے لیے واضح طور پر عام کیا جانا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ 'ہم طالبان کو ان کی کارروائیوں سے جانچنے کا عمل جاری رکھیں گے'۔

خیال رہے کہ طالبان نے امریکا انخلا کے پیشِ نظر افغان حکومت کے خاتمے کے بعد اگست میں اقتدار سنبھالا تھا اور طالبان رہنما بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کے خواہاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان کا امریکی کانگریس سے اثاثے غیر منجمد کرنے، پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ

اس کے باوجود نئی حکومت نے پرتشدد سزاؤں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جبکہ امریکا ان 'معتبر الزامات' پر تشویش کا اظہار کرچکا ہے کہ طالبان عام معافی کے اعلان کے باوجود انتقامی کارروائیاں کررہے ہیں۔

اپنی رپورٹ میں ایچ آر ڈبلیو نے کہا تھا کہ طالبانرہنماؤں نے ہتھیار ڈالنے والی سیکیورٹی فورسز کو حکام کے پاس رجسٹر ہونے کی ہدایت کی تھی تاکہ کچھ فوجی یا خصوصی فورسز کے یونٹوں سے تعلقات کی جانچ پڑتال کی جائے، اور ان کی حفاظت کی ضمانت دینے والا خط دیا جائے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تاہم، طالبان نے ان اسکریننگ کا استعمال افراد کو ان کے اندراج کو حراست میں لینے اور جلد پھانسی دینے یا زبردستی غائب کرنے کے لیے کیا ہے، اور ان کی لاشیں ان کے رشتہ داروں یا برادریوں کے لیے چھوڑ دی ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں