یوکرین پر حملے کی صورت میں امریکا نے روس کو سخت پابندیوں کے متعلق خبردار کردیا

08 دسمبر 2021
روسی صدر پیوٹن اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ ویڈو کانفرنس کے دوران — تصویر: اے ایف پی
روسی صدر پیوٹن اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ ویڈو کانفرنس کے دوران — تصویر: اے ایف پی

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب پر واضح کردیا ہے کہ مغربی دنیا اس حوالے سے خدشات کا شکار ہے کہ روس، یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے۔

جو بائیڈن نے ولادی میر پیوٹن کو خبردار کیا کہ روس کسی عسکری تصادم کی وجہ بنا تو اسے سخت معاشی اور دیگر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے تقریباً 2 گھنٹے جاری رہنے والی ویڈیو کال میں یوکرین سمیت دیگر معاملات پر بات چیت کی۔

موجودہ دور میں امریکا اور روس کے تعلقات سرد جنگ کے بعد سے پست ترین سطح پر ہیں۔

کریملن نے گزشتہ روز ہونے والی اس ملاقات سے قبل کہا تھا کہ ملاقات میں کسی قسم کے بریک تھرو کا کوئی امکان نہیں ہے۔

کریملن نے یوکرین پر حملہ کرنے کے ارادے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر فوج تعینات کرنا ایک دفاعی عمل ہے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق صدر بائیڈن نے ’روسی افواج کی جانب سے یوکرین کا محصرہ کرنے پر امریکا اور ہمارے اتحادیوں میں موجود تشویش‘ کا اظہار کیا اور ’واضح کیا کہ کسی بھی فوجی تصادم کی صورت میں امریکا اور ہمارے اتحادی معاشی اور دیگر پابندیوں کی صورت میں جواب دیں گے‘۔

مزید پڑھیں: امریکا اور روس، یوکرین کے معاملے پر سخت تنازع سے بچنے کے لیے پرعزم

وائٹ ہاؤس کے مطابق جو بائیڈن نے یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی لانے اور سفارت کاری اختیار کرنے مطالبہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ان کی ٹیمیں اس معاملے میں تفصیل سے کام کریں گی۔

روسی ٹی وی کی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس ورچوئل ملاقات کے آغاز میں بائیڈن اور پیوٹن ایک دوسرے کو دوستانہ انداز میں خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

طرفین کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ دونوں رہنما بالمشافہ ملاقات کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات پر گفتگو کی جاسکے۔

شام کے معاملے پر امریکا اور روس کے سخت اختلافات ہیں، اس کے علاوہ امریکا کی جانب سے عائد معاشی پابندیاں اور امریکا پر روس کے مبینہ سائبر حملے بھی اختلافات کی وجہ ہیں۔

روسی حکومت نے اس ویڈیو کال کے بعد ایک مختصر بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بات چیت ہوئی‘۔

اس ملاقات سے قبل امریکی حکام کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن اپنے روسی ہم منصب کو آگاہ کریں گے کہ اگر یوکرین پر حملہ ہوا تو روس اور روسی بینکوں پر سخت ترین پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

ایک ذرائع کے مطابق روس کے بڑے بینکوں اور روسی کرنسی کو ڈالر اور دیگر کرنسی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت پر ضرب لگانے والی پابندیاں اس مقصد کے لیے تیار کی گئی ہیں کہ روس کو یوکرین کے ساتھ سرحد پر فوج جمع کرنے اور اس پر حملے کرنے سے روکا جاسکے۔

روس نے بھی مغرب کی جانب سے یوکرین کو ملنے والی فوجی امداد میں اضافے پر سخت مؤقف کا اظہار کیا ہے، روس نے اس بڑھتی ہوئی امداد کو نیٹو کا توسیع پسندانہ قدم بھی قرار دیا ہے۔

یوکرین ایک سابق سوویت ریاست ہے جو کہ 2014 میں روس نواز صدر کو ہٹائے جانے کے بعد سے مغرب کی جانب جھکاؤ رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین میں 'جارحیت': امریکا، یورپی ممالک کی روس پر نئی پابندیاں

روس نے بھی یوکرین کے ارادوں پر سوال اٹھاتے ہوئے اس بات کی ضمانت مانگی ہے کہ یوکرین ان علاقوں کو بزور طاقت واپس حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا جو علاقے 2014 میں روس نواز باغیوں کے ہاتھ آئے تھے۔

یوکرین نے اس معاملے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے اس ملاقات سے قبل بتایا کہ ’ہم امریکا کے ساتھ اچھے اور پائیدار تعلقات کے خواہاں ہیں، روس نے کبھی کسی پر حملہ کرنا نہیں چاہا لیکن ہمارے کچھ تحفظات ہیں اور کچھ معاملات ہمارے لیے بھی سرخ لکیر کی حیثیت رکھتے ہیں‘۔

قبل ازیں امریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ نیٹو میں شمولیت کے خواہش مند رکن ملک کی سرحدوں پر روس کی جانب سے فوج جمع کرنا 2014 کے اقدامات کو دہرانے جیسا ہوسکتا ہے جب روس نے یوکرین پر حملہ کرکے کریمیا پر قبضہ کرلیا تھا۔

روس کے لیے ایک پڑوسی ملک اور سابق سووت ریاست کا نیٹو اتحادی بننا اور یوکرین میں نیٹو میزائیلز کی موجودگی وہ ’سرخ لکیر‘ جسے وہ کسی کو بھی پار کرنے نہیں دے سکتا۔


یہ خبر 8 دسمبر 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں