یہ غذا سنگین امراض اور قبل از وقت موت سے بچانے کیلئے بہت زیادہ مفید

12 جنوری 2022
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

غذا میں گھی یا شریانوں کو بند کرنے والی چکنائی کی جگہ دل کی صحت کے لیے مفید زیتون کے تیل کو دینا لمبی زندگی کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ روزانہ آدھا چمچ زیتون کے تیل کا استعمال کرتے ہیں، ان میں امراض قلب، کینسر، دماغی تنزلی امراض جیسے الزائمر اور پھیپھڑوں کے امراض سے موت کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں کم ہوتا ہے جو اس صحت مند چکنائی کا استعمال نہیں کرتے۔

ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف ہیلتھ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ہمیں غذا کے مجموعی معیار اور طرز زندگی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے اور نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ غذا مں زیتون کے تیل کا اضافہ نقصان دہ چکنائی کا اچھا متبادل ہے۔

زیتون کے تیل میں متعدد اینٹی آکسائیڈنٹس، پولی فینولز اور وٹامنز ہوتے ہیں جبکہ یہ دل کے لیے مفید چکنائی کے حصول کا اچھا ذریعہ بھی ہے۔

محققین کے مطابق ورم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹ خصوصیات کی وجہ سے ممکنہ طور پر زیتون کا تیل اچھی صحت میں کردار ادا کرتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے 90 ہزار سے زیادہ افراد پر ہونے والی ایک تحقیق کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا جو 1990 میں تحقیق کے آغاز پر امراض قلب اور کینسر سے محفوظ تھے۔

ان افراد کا 28 سال تک جائزہ لیا گیا اور ہر 4 سال بعد ان سے مخصوص غذاؤں بالصوص چکنائی جیسے مارجرین، گھری، مکھن، مایونیز، دودھ میں موجود چکنائی اور زیتون کے تیل کے استعمال کے بارے میں معلوم کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ زیتون کے تیل سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں اسے روزانہ آدھا چمچ کھانے والے افراد میں امراض قلب سے موت کا خطرہ 19 فیصد، کینسر سے موت کا خطرہ 17 فیصد، دماغی تنزلی کے امراض سے موت کا خطرہ 29 فیصد اور پھیپھڑوں کے امراض سے موت کا خطرہ 18 فیصد تک کم ہوگیا۔

تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ویجیٹیبل آئلز کی جگہ زیتون کے تیل کو دی گئی تو کسی بھی وجہ سے موت کے خطرے میں کمی آئی۔

ماہرین کے مطابق زیتون کے تیل کا استعمال صحت مند طرز زندگی کا ایک اشارہ ہوتا ہے اور تحقیق میں جو افراد زیتون کے تیل کا زیادہ استعمال کرتے تھے، وہ جسمانی طور پر زیادہ متحرک، تمباکو نوشی کا کم استعمال اور پھلوں و سبزیوں کو زیادہ کھانے کے بھی عادی تھے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ہوئے۔

تبصرے (0) بند ہیں