ریٹائرڈ فوجی جنرلز نے خود سے منسوب آرمی کےخلاف بیانات کو جعلی قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 14 اپريل 2022
سابق آرمی جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ نے کہا کہ ایسے مذموم اور مضحکہ خیز بیانات کی مذمت کرتا ہوں — فائل فوٹو: اے پی
سابق آرمی جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ نے کہا کہ ایسے مذموم اور مضحکہ خیز بیانات کی مذمت کرتا ہوں — فائل فوٹو: اے پی

سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد ہارون اسلم اور میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز حسین اعوان نے خود سے منسوب آڈیو کلپس کو قرار دیا ہے، جن میں پاکستان کی فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کے خلاف بیانات دیے گئے ہیں اور ان بیانات کو پاک فوج کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔

ایک آڈیو پیغام میں جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ نے سوشل میڈیا پر زیر گردش آڈیو کلپس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کے خلاف مجھ سے منسوب اور آزاد میڈیا پر منظر عام پر آنے والے مذموم اور مضحکہ خیز بیانات کی مذمت اور اسے مسترد کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ فوج میری پہچان اور عزت ہے، اس کا ہر سپاہی اور افسر میرے لیے قابل احترام ہے اور میں ان کے خلاف بولنے کو ایک غلط کام سمجھتا ہوں۔

سابق چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، وہ فوج کے حق میں سچ بولتے رہیں گے۔

اسلم بیگ نے کہا کہ فوج کے خلاف مہم ہمارے دشمنوں کی سازش تھی۔

مزید پڑھیں: فوج مخالف مہم میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن

انہوں نے کہا کہ فوج کے خلاف اس سازش کا حصہ نہ بنیں، اپنے کردار اور عمل کو خراب نہ کریں، اللہ کو یہ پسند نہیں ہے۔

میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز حسین اعوان اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد ہارون اسلم نے بھی اسی طرح کے پیغامات جاری کیے اور خود سے منسوب سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف آڈیو کلپس کی مذمت کی۔

جنرل ہارون اسلم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس طرح کے آڈیو کلپس کے ذریعے ایک ریٹائرڈ فوجی عہدیدار کو ’بدنام‘ کرنے کا عمل ’انتہائی قابل مذمت’ ہے اور دعویٰ کیا کہ اُن کی ذات سے منسوب کلپ بھارتی ٹیلی ویژن سے نکلا ہے۔

ریٹائرڈ فوجی حکام کی طرف سے یہ وضاحتیں ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہیں جب دو دن قبل ہی ملک کی عسکری قیادت نے سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف جاری ’پروپیگنڈا مہم‘ کا نوٹس لیا تھا اور ملک میں سیاسی بحران پر فوجی قیادت کے مؤقف کی توثیق کی تھی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے 79ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے بارے میں ایک بیان میں کہا تھا کہ فورم نے حال ہی میں ہونے والے اس اقدام کا نوٹس لیا، کچھ حلقوں کی جانب سے پاک فوج کو بدنام اور ادارے اور معاشرے کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کے لیے پروپیگنڈا مہم چلائی۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی قومی سلامتی مقدس ہے، پاک فوج ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ کسی سمجھوتے کے بغیر اس کی حفاظت کے لیے کھڑی رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

مزید پڑھیں: بی بی سی اردو کی خبر سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی ایس پی آر

سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد فوج اس ہفتے تنقید کی زد میں ہے اور مسلح افواج اور اس کی قیادت کے خلاف ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔

جمعرات کو شائع ہونے والی ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اردو میں 'امپورٹڈ حکومت نامنظور‘ کے ہیش ٹیگ سے ایک کروڑ 70 لاکھ ٹوئٹس کی گئی ہیں جبکہ ایک فوج مخالف ہیش ٹیگ سے 69 ہزار سے زیادہ ٹوئٹس اور گزشتہ دنوں میں اس طرح کی 4 لاکھ 10 ہزار ٹوئٹس کی گئیں۔

دریں اثنا وفاقی تحقیقاتی ادارے نے آن لائن مہمات چلانے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور ان کی گرفتاریاں جاری ہیں۔

ضرور پڑھیں

بھارت میں سکھ تحریک: شناخت کے مسئلے سے خالصتان کی جدو جہد تک

بھارت میں سکھ تحریک: شناخت کے مسئلے سے خالصتان کی جدو جہد تک

1950ء کی دہائی میں پنجابی صوبہ تحریک زور پکڑتی گئی۔ 1955ء میں سیکشن 144 کا نفاذ کرتے ہوئے پنجابی صوبے کے حق میں لگنے والے نعروں پر پابندی عائد کر دی گئی اور سکھوں کے نمائندہ رہنما ماسٹر تارا سنگھ کو گرفتار کر لیا گیا جس سے تحریک مزید زور پکڑ گئی۔

تبصرے (0) بند ہیں