کراچی: گارڈن ہیڈکوارٹرز میں پھٹنے والے روسی ساختہ دستی بم کا معمہ حل نہ ہوسکا

اپ ڈیٹ 05 اگست 2022
<p>سینئر اہلکار نے بتایا کہ معجزانہ طور پر وہاں موجود ایک اور دستی بم نہیں پھٹا —فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

سینئر اہلکار نے بتایا کہ معجزانہ طور پر وہاں موجود ایک اور دستی بم نہیں پھٹا —فائل فوٹو: اے ایف پی

بدھ کے روز گارڈن پولیس ہیڈکوارٹرز میں پولیس اسلحہ خانے کے باہر ہونے والا دستی بم کا دھماکا پراسرار رخ اختیار کر گیا ہے جبکہ تحقیقات کے دوران تفتیش کاروں کو وہاں سے 68 مزید دستی بم ملے ہیں لیکن ملنے والے تمام بم پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے بنے ہوئے ہیں، ان بموں میں کوئی بھی روسی ساختہ نہیں ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب پولیس نے دعویٰ کیا کہ اسلحہ خانے میں رکھے گئے دستی بم صوبے کے کچے کے علاقوں میں موجود دہشت گردوں، جرائم پیشہ افراد اور اغوا کاروں کے خلاف لڑنے کے لیے تھے لیکن اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ روسی ساختہ 2 دستی بم وہاں کیسے پہنچے جن میں سے ایک بدھ کے روز پھٹ گیا تھا۔

بدھ کی صبح پولیس ہیڈکوارٹرز میں دستی بم پھٹنے کے نتیجے میں میں 2 پولیس اہلکار جاں بحق اور 2 شدید زخمی ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی : پولیس ہیڈکوارٹر میں دستی بم دھماکا، 2 اہلکار جاں بحق، 2 زخمی

دستی بم دھماکا اسلحہ خانے میں انسپیکشن کے دوران ہوا جس کے نتیجے میں پولیس کانسٹیبل شہزاد اور صابر شہد ہوگئے جبکہ سینئر انسپکٹر سعید اور پولیس کانسٹیبل علی گوہر زخمی ہوئے تھے۔

ڈی آئی جی جنوبی شرجیل کھرل کا کہنا تھا کہ یہ جاننے کے لیے انکوائری جاری ہے کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے حقائق جاننے اور معاملے کی انکوائری کرنے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

ڈی آئی جی جنوبی نے واضح کیا کہ دستی بم پولیس کے تحفظ اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف لڑنے کے لیے فراہم کردہ آلات اور گولہ بارود کا حصہ تھے، وہ 'کیس پراپرٹی' نہیں تھے۔

ایک پولیس افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ زخمی پولیس اہلکار انکوائری ٹیم سے بات کرنے اور انہیں اصل حالات بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ دھماکا کیسے ہوا۔

مزید پڑھیں: پشاور: تھانے پر دستی بم کے حملے میں 3 پولیس اہلکار زخمی

پولیس افسر نے مزید بتایا کہ سندھ کے کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر سے لڑنے کے لیے دستی بم اور مارٹر گولے بھی رکھے گئے ہیں، گارڈن پولیس ہیڈکوارٹرز کے اسلحہ خانے میں پورے صوبے میں استعمال ہونے ولا اسلحہ اور گولہ بارود رکھا جاتا ہے۔

افسر نے بتایا کہ اسلحہ خانے میں ذخیرہ کیے گئے کچھ دستی بم 2014 کے ہیں۔

افسر نے کہا کہ دھماکا اسلحہ خانے کے باہر اور سڑک کی دوسری طرف ہوا، اس لیے جائزہ لیا جارہا ہے کہ دستی بم باہر سے لائے گئے یا اسلحہ خانے میں ہی موجود تھے۔

68 دستی بم، 266 مارٹر گولے ناکارہ بنادیے گئے

اسپیشل برانچ کے بم ڈسپوزل یونٹ نے دھماکے کے بعد بدھ کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسلحہ خانے میں 68 دستی بم اور 266 مارٹر گولے موجود ہیں، رپورٹ میں ان بموں اور مارٹر گولوں کو پاکستان آرمی کے ذریعے ناکارہ بنانے کی تجویز بھی دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور میں دستی بم پھٹنے سے 3 بچے جاں بحق، 2 زخمی

ڈان کی جانب سے جائزہ لی گئی بی ڈی ایس رپورٹ کے مطابق دستی بم خطرناک حالت میں ہیں، جنہیں فوری طور پر ناکارہ بنانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسپیشل برانچ کے ماہرین نے 266 مارٹر گولوں کا بھی معائنہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ یہ تمام گولے بھی خطرناک حالت میں ہیں۔

ماہرین نے سفارش کی کہ ان گولوں کو بھی فوری طور پر ناکارہ کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں محفوظ طریقے سے ضائع کرنے کے لیے پاک فوج کے حوالے کیا جائے۔

دوسری جانب ڈی آئی جی جنوبی شرجیل کھرل نے دعویٰ کیا کہ اسلحہ خانے میں موجود 68 دستی بموں کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے اور مارٹر گولے بھی پولیس کے ماہرین نے محفوظ کر لیے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں