ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات: ایف آئی اے نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو طلب کرلیا

اپ ڈیٹ 07 اگست 2022
<p>ایف آئی نے سابق گورنر  سندھ عمران اسماعیل اور  سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو طلب کرلیا—فائل فوٹو:ڈان نیوز</p>

ایف آئی نے سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو طلب کرلیا—فائل فوٹو:ڈان نیوز

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو انکوائری میں شامل ہونے کے لیے آئندہ ہفتے طلب کر لیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں کو طلب کرنے کا فیصلہ معاملے کی تحقیقات کے لیے متعلقہ زونز میں ٹیموں کی نگرانی کے لیے پینل تشکیل دینے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

ایف آئی اے نے ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق تحقیقات کرنے والی اپنی انکوائری ٹیموں پر نظر رکھنے کے لیے 5 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کی نگرانی کیلئے ایف آئی اے کی ٹیم تشکیل

ادارے کےاقتصادی جرائم سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈائریکٹر محمد اطہر وحید کی سربراہی میں قائم مانیٹرنگ ٹیم ہر زون میں متعلقہ انکوائری ٹیموں کے ساتھ آپس میں روابط اور رہنمائی کی ذمہ دار ہوگی۔

اس ٹیم کے ممبران میں ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر خالد انیس، ڈپٹی ڈائریکٹر خواجہ حماد، چوہدری اعجاز احمد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اعجاز احمد شیخ شامل ہیں۔

اس انکوائری ٹیم کا نوٹی فکیشن ای سی پی کے 3 رکنی بینچ کے متفقہ فیصلے کے چند روز جاری گیا تھا، الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی نے 351 غیر ملکی کمپنیوں اور 34 غیر ملکی شہریوں سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی، جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے سیکشن 6 کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

کراچی میں ایف آئی اے نے سندھ کے سابق گورنر عمران اسمٰعیل اور ایم پی اے ڈاکٹر سیما ضیا کو طلب کرلیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے نے 2 نجی بینکوں سے بھی تفصیلات طلب کی ہیں جہاں پارٹی کے 4 اکاؤنٹس موجود ہیں، یہ اکاؤنٹس الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد انکوائری کی زد میں آئے ہیں، یہ چاروں اکاؤنٹس کراچی میں کھولے گئے اور وہیں سے چلائے جارہے تھے۔

مزید پڑھیں: حکومت کا پی ٹی آئی کےخلاف سپریم کورٹ ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ

پیش رفت سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے کی جانب سے عمران اسمٰعیل کو کہا گیا ہے کہ وہ 15 اگست کو پیش ہوں اور اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔

ذرائع نے مزید کہا کہ سابق گورنر کی پیشی سے قبل ڈاکٹر سیما ضیا 12 اگست کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں گی جب کہ اسی دوران 2 بینکوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ان 4 اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کریں جن میں سے 3 حبیب بینک لمیٹڈ میں اور ایک اکاؤنٹ بینک اسلامی پاکستان لمیٹڈ میں ہے۔

اعلیٰ حکام کی جانب سے تحقیات کی ہدایات ملنے کے بعد ایف آئی اے کراچی کے ڈائریکٹر عبداللہ شیخ نے ڈپٹی ڈائریکٹر رابعہ قریشی کی سربراہی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالرؤف شیخ، انسپکٹرز آفتاب وٹو اور سبین غوری اور سب انسپکٹر راحت علی خان پر مشتمل 5 رکنی ٹیم قائم کی ہے۔

اس سوال پر کہ کراچی میں پی ٹی آئی کی جانب سے مجموعی طور پر کتنے اکاؤنٹس چلائے جا رہے تھے ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران صرف 4 کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ایف آئی اے اہلکار نے ادارے کے کراچی چیپٹر کا کردار واضح کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ایف آئی اے ٹیم صرف اسلام آباد میں واقع ہیڈ کوارٹر کے ساتھ رابطہ کر رہی ہے جو دراصل اس کیس کی تحقیقات کی نگرانی کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ممنوعہ فنڈنگ کے فیصلے پر حکومت آئین و قانون کے مطابق کردار ادا کرے گی، سعد رفیق

دوسری جانب، ایف آئی اے لاہور نے بھی پی ٹی آئی کے پنجاب کے وزیر میاں محمود الرشید کو پارٹی کے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں 11 اگست کو طلب کر لیا ہے۔

ایک اہلکار کے مطابق پی ٹی آئی کے سینئر رہنما میاں محمود الرشید کو 11 اگست کے لیے طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ وہ لاہور آفس میں پارٹی کے ممنوعہ فنڈنگ کیس کی ایف آئی اے کی تحقیقات میں شامل ہوں، میاں محمود الرشید نے گزشتہ روز ہی بطور صوبائی وزیر بلدیات اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ حلف اٹھایا ہے۔

اسی طرح قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر کو بھی ہفتے کی شام ایف آئی اے پشاور کی جانب سے طلبی کا نوٹس ان کے گھر صوابی پر موصول ہوا، نوٹس میں انہیں ایف آئی اے کے پی آفس میں 11 اگست کو پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔

ڈان کو دستیاب نوٹس کی کاپی کے مطابق اس میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے پشاور الیکشن کمیشن کے حکم کی روشنی میں بینک اسلامی اور حبیب بینک لمیٹڈ پشاور میں موجود 2 اکاؤنٹس میں مبینہ غیر قانونی کاموں کی تحقیقات کر رہی ہے۔

نوٹس میں اسد قیصر سے کہا گیا ہے کہ وہ ذاتی طور پر ایف آئی اے کے صوبائی دفتر میں حاضر ہوں اور مذکورہ اکاؤنٹس سے متعلق سوالات کے جوابات دیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈنگ ثابت، قانونی نتائج کیا ہوسکتے ہیں ؟

اس سے قبل سابق اسپیکر نے میڈیا کو بتایا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، اس ادارے کی ساکھ کو موجودہ چیئرمین نے خراب کردیاہے، چیئرمین کے متنازع اور متعصبانہ کردار کو پی ٹی آئی بغور دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں گھبرائیں گے اور عزم ظاہر کیا کہ وہ پوری پختگی کے ساتھ عوام کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

اسد قیصر کا کہنا تھاک کہ الیکشن کمیشن دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے جب کہ اس طرح کی کارروائی یکساں طور پر تمام جماعتوں کے خلاف ہونی چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں