وہاڑی میں جعلی پولیس مقابلہ، ڈی ایس پی معطل، ڈی پی او عہدے سے برطرف

01 اکتوبر 2022
<p>آئی جی پنجاب نے انتظامی غفلت برتنے اور حقائق چھپانے پر ڈی پی او وہاڑی رانا شاہد پرویز کو عہدے سے ہٹا دیا—فوٹو: پنجاب پولیس فیس بک</p>

آئی جی پنجاب نے انتظامی غفلت برتنے اور حقائق چھپانے پر ڈی پی او وہاڑی رانا شاہد پرویز کو عہدے سے ہٹا دیا—فوٹو: پنجاب پولیس فیس بک

پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس فیصل شاہکار نے بدفعلی کی الزام میں ڈی پی او وہاڑی کو عہدے سے ہٹا دیا ہے جبکہ جعلی پولیس مقابلے میں ایک شخص کی ہلاکت کے معاملے پر آئی جی پنجاب نے سخت ایکشن لیتے ہوئے 6 اہلکاروں کے خؒاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق آئی جی پنجاب نے ملتان کے ریجنل پولیس آفیسر رفعت راجا کی سفارش پر پولیس مقابلے میں ایک شخص کی ہلاکت کے معاملے پر 6 پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت ایکشن لیا، آئی جی پنجاب نے واقعے کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی پولیس مقابلے کی تصدیق پر اہلکاروں کو قید اور جرمانے کی سزا

ملتان کے ریجنل پولیس آفیسر نے آئی جی پی کو ڈی پی او رانا شاہد پرویز اور ڈی ایس پی صداقت علی سمیت 6 اہلکاروں پر جرمانہ عائد کرنے کی تجویز بھی دی۔

بعد ازاں سینٹرل پولیس آفس (سے پی او) نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں انتظامی غفلت برتنے پر ڈی پی او کی برطرفی اور ڈی ایس پی کی معطلی کا حکم دیا کیا گیا۔

نوٹیفکیشن میں انتظامی غفلت برتنے، حقائق چھپانے اور جعلی مقابلے کے بعد موقع پر پہنچ کر پولیس اہلکاروں کے خلاف رپورٹ کرنے میں تاخیر پر افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا۔

مزید پڑھیں: ’جعلی پولیس مقابلوں‘ کے ماسٹر مائنڈ عابد باکسر کی عبوری ضمانت منظور

ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ سینٹرل پولیس آفس سے جاری نوٹیفکیشن میں انتظامی غفلت برتنے پر ڈی پی او کےخلاف کارروائی حیران کن بات ہے کیونکہ ماضی میں ضلعی پولیس کے دیگر سربراہان کی خلاف اس طرح کی کارروائیاں نہیں کی گئیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ صوبائی محکمہ کے کچھ پولیس افسران نے اس کارروائی کو ڈی پی او کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیا کیونکہ وہ صوبائی پولیس سروس کے افسر رہ چکے ہیں۔

اہلکار نے کہا کہ ماضی میں ڈی پی او کے طور پر فرائض انجام دینے والے پولیس افسران کے ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا اور سینٹرل پولیس کو رپورٹ کرنے کہ حکم دیا گیا، سینٹرل پولیس نےاپنے نوٹیفکیشن میں ان افسران کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) سے ہونے کی وجہ ان کے خلاف بد انتظامی جیسے الفاظ کا ذکر نہیں کیا تھا۔

اہلکار نے مزید کہا کہ پچھلے دو دہائیوں میں ڈی پی او کے خلاف کارروائی کی کوئی مثال نہیں ملتی، اہلکار نے زینب ریپ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں سابق ڈی پی و (پی ایس پی افسر) کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اہلکار نے کہا کہ اس کیس میں بھی ایک معصوم شخص کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا, ڈی پی او کی برطرفی کے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ افسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جس کے بعد انہیں سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کا انسپکٹر عابد باکسر کون تھا…

اہلکار نے بتایا کہ صوبائی محکمے کے افسران نے ڈی پی او کے خلاف کارروائی پر ناراضی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ پی ایس پی افسران کی اجارہ داری کی وجہ سے نچلے رینک کے افسران کے ساتھ امتیاری سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

اہلکار کہ کہنا تھا کہ ڈی پی او رانا شاہد نے وہاڑی میں جعلی پولیس مقابلے میں ایک شخص کی ہلاکت کے معاملے میں 6 اہلکاروں کے خلاف اسی دن (17 ستمبر کو) مقدمہ درج کر لیا گیا۔

اہلکار نے بتایا کہ یہ معاملہ انتظامی غفلت کا نہیں بلکہ پی ایس پی افسران اور نچلے رینک کے افسران کے درمیان تنازع کہ معاملہ ہے۔

ڈی پی او رانا شاہد نے فون پر ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ٹیم ان کے خلاف درج مقدمے میں ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے، پولیس مقابلےمیں فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک شخص گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا تھا جس کے بعد لواحقین نے شدید احتجاج کیا تھا۔

رانا شاہد کا کہنا تھا کہ ’میں نے اسی دن جعلی پولیس مقابلے میں ملوث 6 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا اور واقعے کی رپورٹ اور تحقیقات کا بھی حکم بھی دیا تھا۔

ڈی پی او کہ کہنا تھا کہ ان کے حکم پر پولیس نے ایک اہلکار کو گرفتار کیا اور بعد میں آر پی او نے واقعے کا نوٹس لے کر رپورٹ طلب کی تھی، انہوں نے کہا کہ واقعے کے تقریباً 13 دن بعد انہیں معلوم ہوا کہ انہیں انتظامی غفلت اور حقائق چھپانے کے الزام میں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: راؤ انوار ’جعلی‘ پولیس مقابلے کے مقام پر موجود تھے، تفتیشی افسر

پنجاب پولیس کے ترجمان نے کہا کہ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس نے وہاڑی میں جعلی پولیس مقابلے میں علی لیاقت نامی نوجوان کی ہلاکت کے معاملے پر چھ پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ آئی جی پولیس نے ڈی پی او رانا شاہد پرویز کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا اور ڈی ایس پی صدر سعادت علی کو معطل کر دیا۔

ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا تھا کہ آئی جی پنجاب نے ڈی پی او وہاڑی، ڈی ایس پی اور 6 اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کا حکم دیا تھا جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب اور آر پی او ملتان نے اس واقعے کی انکوائری کی تھی۔

ترجمان نے ڈی پی او کے حوالے سے بتایا کہ آئی جی پنجاب نے انتظامی غفلت اور حقائق چھپانے پر ڈی پی او وہاڑی کو عہدے سے ہٹایا اور ڈی ایس پی کو برطرف کردیا گیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں