امریکا نے القاعدہ جنوبی ایشیا، ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا

02 دسمبر 2022
<p>سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ان افراد کو دہشت گرد قرار دینا ہماری انتھک کوششوں کا حصہ ہے— فائل فوٹو: اے پی</p>

سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ان افراد کو دہشت گرد قرار دینا ہماری انتھک کوششوں کا حصہ ہے— فائل فوٹو: اے پی

امریکا نے جنوبی ایشیائی القاعدہ اور پاکستانی طالبان رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے افغانستان میں خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دہشت گرد قرار دیے گئے عسکریت پسندوں میں القاعدہ برصغیر پاک و ہند جو جہادی نیٹ ورک کی ایک علاقائی شاخ ہے کے چار رہنما شامل ہیں جس میں تنظیم کا امیر اسامہ محمود بھی شامل ہے۔

امریکا نے پاکستانی طالبان کے سینئر رہنما مفتی حضرت ڈیروجی جو قاری امجد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو بھی دہشت گرد قرار دیا ہے جب کہ تنظیم کی جانب سے 15 سال سے جاری پر تشدد کارروائیوں میں گزشتہ سال پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد تیزی آگئی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مفتی حضرت ڈیروجی خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا نگران تھا جو کہ ملک میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار دو صوبوں میں سے ایک ہے۔

سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان افراد کو دہشت گرد قرار دینا ہماری انتھک کوششوں کا حصہ ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گرد افغانستان کو عالمی دہشت گردی کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہ کرسکیں۔

انٹونی بلنکن نے کہا ہم اپنے اس عزم کو برقرار اور جاری رکھنے کے لیے تمام متعلقہ وسائل کا استعمال کریں گے کہ عالمی دہشت گرد افغانستان میں سزا کے بغیر کام کرنے کے قابل نہ ہوں۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اینڈ ٹریژری ڈپارٹمنٹ نے ان چاروں ملزمان کو ’اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ‘ کے طور پر فہرست میں شامل کرلیا، اس نامزدگی کے بعد امریکا میں ان ملزمان کے ساتھ کسی قسم کا لین دین کرنا جرم بن گیا اور ملک میں موجود ان کے اثاثے منجمد کردیے جائیں گے۔

صدر جو بائیڈن نے 2 دہائیوں کے بعد افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا کرتے ہوئے کہا کہ اب مزید کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا اور امریکا وہاں رہے بغیر بھی جنگجوؤں سے لڑ سکتا ہے۔

امریکا نے 31 جولائی کو افغاستان میں 2 میزائل داغے جن میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری ہلاک ہو گئے جو کابل میں منتقل ہو گئے تھے۔

امریکا نے طالبان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے القاعدہ کو پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی، یہ ہی الزام 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد افغانستان پر ابتدائی حملے کا محرک تھا۔

القاعدہ برصغیر پاک و ہند کے بانی عاصم عمر ستمبر 2019 میں افغانستان کے صوبہ ہلمند میں امریکی افواج اور اس وقت کی حکومت کے مشترکہ آپریشن میں مارا گیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں