ایران نے مسلسل دو ماہ کے احتجاج کے بعد اخلاقی پولیس کو ختم کردیا

اپ ڈیٹ 04 دسمبر 2022
<p>ایران میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد پرتشش مظاہرے شروع ہوئے تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

ایران میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد پرتشش مظاہرے شروع ہوئے تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی

ایران نے مہسا امینی کی دوران حراست ہلاکت کے خلاف دو ماہ کے مسلسل پرتشدد مظاہروں کے بعد اپنی اخلاقی پولیس کو ختم کر دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایران کے اٹارنی جنرل محمد جعفر منتظری نے کہا کہ اخلاقی پولیس کا عدلیہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کو ختم کیا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل محمد جعفر منتظری کا یہ بیان ایک مذہبی کانفرنس کے دوران سامنے آیا جس میں شریک ایک شخص نے ان سے سوال کیا کہ اخلاقی پولیس کو کیوں ختم کیا گیا ہے۔

اخلاقی پولیس کو رسمی طور پر گشت ارشاد یا گائیڈنس پیٹرول کے نام سے جانا جاتا ہے جس کو سخت گیر صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد تھا کہ خواتین کے سر ڈھانپنے والی حیا اور حجاب کی ثقافت کو عام کیا جاسکے اور پھر یونٹس نے 2006 میں گشت شروع کیا تھا۔

اٹارنی جنرل محمد جعفر منتظری نے اخلاقی پولیس کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر پارلیمان اور عدلیہ دونوں کام کر رہے ہیں کہ آیا خواتین کے سر ڈھانپنے کے قانون کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا کہ ایران کی جمہوریہ اور اسلامی بنیادیں آئینی طور پر جڑی ہوئی ہیں لیکن آئین کے نفاذ کے ایسے طریقے ہیں جو لچکدار ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں حجاب 1979 کے انقلاب کے چار سال بعد لازمی قرار دیا گیا تھا جہاں امریکی حمایت یافتہ بادشاہت کا تختہ الٹ کر اسلامی جمہوریہ ایران کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

بعد ازاں اخلاقی پولیس نے ابتدائی طور پر 15 سال قبل خواتین کو کریک ڈاؤن اور گرفتار کرنے سے پہلے وارننگ جاری کی تھی۔

خیال رہے کہ ایران کے کرد علاقے سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ مہسا امینی کی 16 ستمبر کو ایران میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں ’غیر موزوں لباس‘ کے باعث زیر حراست موت کے بعد سے ایران بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جو 1979 کے انقلاب کے بعد سے اس کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق گزشتہ روز ملک کے سرفہرست سیکیورٹی ادارے نے کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز سمیت 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ظالمانہ کریک ڈاؤن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مظاہرین نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے ہیں، اور بارہا اسلامی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہرنا نیوز ایجنسی نے بتایا تھا کہ 469 مظاہرین مارے گئے ہیں، جن میں 64 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 61 سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ 18 ہزار 210 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

معروف بلوچ سنی عالم مولوی عبدالحامد نے مظاہرین پر ظلم بند کرنے اور ایران میں حکومتی نظام کو تبدیل کرنے کے حوالے سے ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

انہوں نے نومبر کے آخر میں بتایا تھا کہ عوام کے احتجاج سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ 43 سال کی پالیسیاں اپنے انجام تک پہنچ چکی ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں