Dawn News Television Logo
<p>سپریم کورٹ کی نو رکنی بینچ میں سے چار ججز نے اضافی نوٹس لکھے — فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ</p>

ازخود نوٹس: سپریم کورٹ کے 4 ججز کے اضافی نوٹس کے اہم نکات

صوبائی انتخابات کے حوالے سے تاریخ کے اعلان میں تاخیر پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا گیا۔
اپ ڈیٹ 27 فروری 2023 06:11pm

سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان میں تاخیر پر ازخود نوٹس کی سماعت میں غیر متوقع پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں 9 رکنی لارجر بینچ اختلافات اور اضافی نوٹس کے بعد 5 رکنی بینچ میں تبدیل ہوگیا۔

صوبائی انتخابات کے حوالے سے تاریخ کے اعلان میں تاخیر پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے جس کے لیے بینچ کے چار ججز بشمول جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اضافی نوٹس میں بینچ کی تشکیل نو کا مطالبہ کیا۔

چار ججز کی طرف سے اپنے اضافی نوٹس میں شامل کیے گئے کچھ چیدہ نکات مندرجہ ذیل ہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل

جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا کہ گزشتہ رات دیر گئے (22 فروری 2023) کو مجھے ایک فائل موصول ہوئی کے معزز چیف جسٹس پاکستان (عمر عطا بندیال) نے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے کی بنیاد پر سی پی ایل اے نمبر 3988/2022 پر ازخود نوٹس لیا ہے جو کہ غلام محمود ڈوگر نے 24 نومبر 2022 کو فیڈرل سروس ٹربیونل کے ذریعے ان کی منتقلی کے حوالے سے منظور کیے گئے حکم کے خلاف دائر کی تھی جس میں عابد ایس زبیری غلام محمود ڈوگر کے وکیل ہیں۔

نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ غلام محمد ڈوگر کی درخواست زیر التوا تھی اور 16 فروری 2023 کو دو رکنی بینچ کے معزز اراکین نے الیکشن کمیشن پاکستان کے چیف الیکشنر کمشنر کو طلب کیا جو کہ درخواست میں فریق نہیں تھے اور ان سے پنجاب کے صوبائی انتخابات کے لیے کہا گیا۔

نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ یہ قابل ذکر ہے کہ تین آڈیو لیکس سامنے آئی ہیں جن میں سے ایک آڈیو میں عابد ایس زبیری سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سے غلام محمد ڈوگر کے زیر التوا کیس سے متعلق بات کر رہے تھے جو کہ میری نظر میں بہت سنگین معاملہ ہے۔

انہوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ ’لہٰذا ایسی صورتحال میں آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت از خود نوٹس لینے کے لیے معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کو ریفر کرنا مناسب نہیں ہے، اس لیے ازخود نوٹس منصفانہ نہیں ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ

جسٹس منصور علی شاہ نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ ’میں نے ان مقدمات کی سماعت سے اپنے آپ کو الگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس بات پر تحفظات ہونے کے باوجود کہ آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت اس عدالت کے اصل دائرہ اختیار کو موجودہ کیس کے ساتھ ساتھ موجودہ بینچ کی تشکیل پر بھی کس طرح از خود نوٹس لیا گیا ہے۔‘

نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ چیف جسٹس کو ازخود نوٹس کی سفارش کرنے والا (دو رکنی) عدالتی حکم ایک ایسے کیس میں دیا گیا تھا جس کا ہمارے سامنے موجود معاملے سے کوئی سروکار نہیں تھا، مذکورہ آرڈر اس معاملے میں دو رکنی بینچ کی غیر ضروری دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ مذکورہ آرڈر کے ساتھ منسلک عوام میں ایک تنازع موجود ہے جو مذکورہ (دو رکنی) بینچ کے ایک ممبر سے متعلق آڈیو لیکس سے پیدا ہوا ہے، عدالت کے اندر اور عدالت سے باہر کی درخواستوں کے باوجود عدالت یا سپریم جوڈیشل کونسل کے آئینی فورم کی طرف سے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ اس سلسلے میں اور اس سے پہلے کہ الزامات کی تحقیقات کی جائیں اور انہیں روک دیا جائے، انتہائی احترام کے ساتھ عوامی اہمیت کے حامل معاملے میں مذکورہ بینچ کے رکن کی موجودگی نامناسب ہے اور بینچ رکن کی اس میں شمولیت اس وقت اہم ہے جب اس عدالت کے دیگر سینئر ججز بینچ میں شامل نہیں۔

Title of the document


جسٹس یحیٰی آفریدی

جسٹس یحیٰی آفریدی نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ ’آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت اس عدالت کا دائرہ اختیار ایک آزاد اوریجنل دائرہ اختیار ہے جو کسی دوسرے عدالت یا فورم کے سامنے اسی موضوع پر کسی بھی معاملے کے زیر التوا ہونے سے متاثر نہیں ہوتا، لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے رٹ پٹیشن نمبر 6093/2023 میں پہلے ہی دیا گیا فیصلہ، انٹراکورٹ اپیل نمبر 11096 آف 2023 میں زیر التوا چیلنج، اور فریقین کی جانب سے لگائے گئے مخصوص الزامات اور غیر متزلزل سیاسی مؤقف اس عدالت کو عدالتی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اجازت دیتا ہے تاکہ حقیقت کے اصول کو تقویت ملے‘۔

نوٹ میں لکھا گیا ہے ’لہٰذا، اس عدالت کی طرف سے موجودہ درخواستوں کی کارروائی کے دوران کوئی بھی ریمارکس یا اخذ کیا گیا بیان دینا نہ صرف متعلقہ ہائی کورٹس میں زیر التوا مذکورہ اپیل میں فریقین کے متنازع دعووں کو متاثر کرے گا بلکہ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہائی کورٹ کی درجہ بندی کے عدالتی ڈومین کو مجروح کرے گا جیسا کہ آئین کے تحت کہا گیا ہے، یہ مذکورہ ہائی کورٹ کے عدالتی اختیار میں بھی خلل پیدا کرے گا جس کی ہائی کورٹ انصاف کی محفوظ، پختہ اور باعزت فراہمی کی شکل میں مستحق ہے، اس لیے میں تینوں درخواستیں مسترد کرتا ہوں۔

انہوں نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ ’میں نے اخذ کیا ہے کہ مذکورہ تینوں درخواستوں پر سماعت جاری رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، تاہم میں یہ معزز چیف جسٹس پر چھوڑتا ہوں کہ وہ ان درخواستوں پر سماعت کرنے کے لیے موجودہ بینچ میں میری موجودگی کا فیصلہ کریں۔‘

جسٹس اطہر من اللہ

جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ ’مجھے بھی معزز چیف جسٹس آف پاکستان کے آرڈر کو پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، تاہم انتہائی عزت کے ساتھ یہ اوپن کورٹ میں جاری کارروائی اور حکم سے مطابقت نہیں رکھتا‘۔

نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’ہمارے سامنے اٹھائے گئے سوالات کو غیر متعلقہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے حوالے سے آئینی حیثیت سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اسمبلیوں کی تحلیل کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات میں بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں شامل ہیں‘۔

نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’سماعت کے دوران میں نے تجویز کیا کہ ہمارے سامنے رکھے گئے معاملے پر غور کرنے سے قبل متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے متعلق آئینی حیثیت کے سوال کا بھی جائزہ لیا جائے‘۔

نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ معزز چیف جسٹس جو کہ بینچ کی سربراہی کر رہے تھے انہوں نے آرٹیکل 184 تھری کے تحت لیے گئے از خود نوٹس کے دائرہ اختیار کو قبول کرتے ہوئے مجوزہ سوالات کو غور کے لیے شامل کرلیا ہے’۔   مجھے وہ تفصیلی سوالات تجویز کرنے کا کہا گیا جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

(اے) کیا صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے لیے وزیر اعلیٰ کا مشورہ دینے کا اختیار مطلق ہے اور کیا اس کے استعمال کے لیے کسی ٹھوس آئینی وجہ کی ضرورت نہیں ہے؟

(بی) کیا وزیر اعلیٰ اپنی آزادانہ رائے سے ایسا مشورہ دے سکتے ہیں یا کسی دوسرے شخص کی ہدایت پر ایسا مشورہ دے سکتے ہیں؟

(سی) اگر ایک یا کسی اور وجہ کی بنیاد پر وزیراعلیٰ کی ایسی تجویز آئینی طور پر غلط ثابت ہوئی تو کیا تحلیل کردہ صوبائی اسمبلی کو بحال کیا جا سکتا ہے؟

نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’میرا خیال یہ ہے کہ یہ آئین کے آرٹیکل 184 تھری میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے اور مذکورہ غیر معمولی اصل دائرہ اختیار کو فل بینچ کورٹ کے ذریعے سنا جانا چاہیے‘۔

نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پر چلنے والی کارروائی پر عوام کے اعتماد کو یقینی بنانے اور ہمارے زیر غور اٹھائے گئے سوالات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ آئین کی خلاف ورزی اور اس کی تشریح کے معاملے کی سماعت فل کورٹ کرے۔ لہٰذا اس تناظر میں آئین کے آرٹیکل 184 تھری کی مداخلت کی بھی تشریح درکار ہے۔