درپن کی یادیں

08 نومبر 2013

ای میل

پاکستانی اداکار درپن شہزادوں جیسی شخصیت کے ملک تھے۔- انٹرنیٹ فوٹو
پاکستانی اداکار درپن شہزادوں جیسی شخصیت کے ملک تھے۔- انٹرنیٹ فوٹو

پاکستان فلم انڈسٹری کے خوبرو ہیرو درپن کی 33 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

وہ 1928 کو اترپردیش میں پیدا ہوئے، عشرت عباس المعروف اداکار درپن کا تعلق پاکستان کی معروف سنتوش فیملی سے تھا۔

مردانہ وجاہت، گہری نیلی شرارتی آنکھیں، شہزادوں جیسا قد و قامت، بڑی بڑی فلمی پریوں کا حسن ان کے سامنے ماند نظر آتا تھا۔

درپن نے فلم کریئر کا آغاز انیس سو پچاس میں فلم 'امانت' سے کیا، پاکستان میں چند فلموں میں کام کرنے کے بعد وہ ممبئی چلے گئے جہاں انہوں نے فلم 'عدل جہانگیری' اور 'باراتی' میں کام کیا۔

ممبئی میں قیام کے دوران ان کا افیئر ہندوستان کی اداکار نگار سلطانہ کے ساتھ مشہور ہوا۔

پاکستان واپسی پر انہوں نے کئی کامیاب فلموں میں کام کیا جن میں ساتھی، رات کے راہی، سہیلی، گلفام، قیدی، آنچل، باجی، شکوہ، اک تیرا سہارا اور نائلہ وغیرہ شامل ہیں۔

درپن نے نیلو، مسرت نذیر، رانی، شمیم آرا، زیبا اور نیّئر سلطانہ کے ساتھ درجنوں فلموں میں کام کیا۔

ان کی بطور ہیرو آخری کامیاب فلم 'پائل کی جھنکار' انیس سو چھیاسٹھ میں ریلیز ہوئی تھی، اس کے بعد انہوں نے کریکٹر اور سپورٹنگ رول بھی ادا کئے۔

درپن نے اپنے وقت کی حسین اور مقبول ہیروئن نیّئر سلطانہ کو اپنا جیون ساتھی بنایا اور یہ ساتھ مرتے دم تک قائم رہا۔

اس خوبرو اداکار کا انتقال آٹھ نومبر انیس سو اسی میں طویل بیماری کے باعث لاہور میں ہوا۔

ان کی مقبولیت کا سورج وحید مراد کے فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے کے بعد گہنا گیا، مگر آج شدت سے احساس ہوتا ہے کہ درپن جیسا کوئی نہیں۔