ہندوستان سے تجارت

11 جنوری 2013

ای میل

5_pakistan_india_trade_670-top
فائل فوٹو --.

ایک اہم موقع کے لیے متعین ڈیڈ لائن پرعمل درآمد نہ ہوسکا۔ پاکستان نے ہمسایہ ملک ہندوستان کے ساتھ معمول کی تجارت کے لیے، فہرست سے منفی اشیا خارج کرنے واسطے، از خود اکتیس دسمبر، سن دو ہزار بارہ کی ڈید لائن طے کی تھی، جس کے بعد نارمل تجارت ہونا تھی۔

یقیناً یہ تاریخ آئی اور چلی بھی گئی مگر جو کچھ کرنا تھا، ویسا کچھ بھی نہ ہوسکا۔

حکومت نے بنا کچھ کیے ڈید لائن گذر جانے پر اپنی خفت مٹانے کے لیے کہا کہ یہ تعطل عارضی ہے اور جلد ہی ہندوستان کے ساتھ تجارت کے لیے منفی فہرست میں شامل اشیا کو خارج کردیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے مکمل طور پر مایوسی ہوئی مگر پھر بھی ابھی وقت ہے کہ معاملہ طے کرلیا جائے۔

ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ فروری اُنیّس سو ننّیاوے کے اعلان کے بعد سے، دونوں ملک، ہندوستان اور پاکستان، اعلانِ لاہور کے عملی نفاذ کے لیے کوشاں تھے اور اب یہ مفاہمتی عمل کسی حد تک ممکن ہوچکا ہے۔

اس حوالے سے نئی حکمتِ عملی کے پیچھے یہ تصور تھا کہ ایسے مختلف  مسائل جو تنازعات سے دوچار ہیں، انہیں علیحدہ رکھ کے آگے بڑھا جائے اور رابطوں کے فقدان پر قابوپایا جائے۔ نیز ہر تنازع یا مسائل کوعلیحدہ کرکے اس کے حقیقی تناظر میں دیکھا جائے اور اس کا حل تلاش کیا جائے۔

تین ایسے مسائل ہیں، جنہیں زیرِ بحث لایا گیا۔ ایک تو یہ تھا کہ کس طرح خاکہ سازی کی جائے اور زمین پر اس کی نگرانی ہو۔ دوسرا دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق تھا۔ تیسرا معمول کی تجارت سے متعلق مذاکرات سے منسلک تھا۔

اچھی خبر یہ ہے کہ لگ بھگ ایک دہائی کی کوششوں کے بعد یہ تینوں معاملات اپنی اپنی جگہ پر طے پاچکے ہیں۔

اگرچہ اب بھی وقتاً فوقتاً ایسی زوردار مخالفانہ آوازیں اٹھتی ہیں کہ ان تینوں معاملات کے درمیان ربط قائم ہونا چاہیے لیکن اب اس طرح کی آوازیں کم ہوتی جارہی ہیں جب کہ کیے گئے اقدامات و پیش رفت کو سراہا گیا ہے۔

نہایت اہم ترین یہ مرحلہ تو نمٹ گیا، اب وقت آگیا ہے کہ اس کے فوائد حاصل کیے جائیں۔

جہاں تک مذاکرات کی بات ہے تو یہ جاری رہیں گے مگر یہ اسے ختم کرنے جیسا ہوگا۔ یہ بیٹھے معمول کی تجارت پر بات چیت کرتے رہیں گے حالانکہ اس کا اختتام سامان اور سروسز کی آزادانہ نقل و حمل اور وسائل میں سرمایہ کاری پر ہوجانا چاہیے تھا۔ یہی اس مذاکرات کا پھل ہوتا۔

مسائل کو کامیابی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ علیحدہ کرکے سلجھایا جارہا تھا کہ اچانک حکومتِ پاکستان جاگ اٹھی اور اس نے کہا کہ تجارت برہ راست مذاکرات کا معاملہ نہیں ہے۔

براہ مہربانی ایک حقیقت کو تسلیم کیجیے: یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان، ہندوستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے موضوع پر شریکِ گفتگو ہوا تھا۔

یہاں معاملہ آزاد تجارت سے متعلق معاہدوں کا تھا جیسا کہ سری لنکا اور چین وغیرہ کے ساتھ ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کسی سے بھی اس ضمن میں سنجیدہ خطوط پر مذاکرات نہیں ہوئے تھے۔

چین کے ساتھ اس طرح کے معاہدے میں پاکستان نے کوئی مذاکرات نہیں کیے تھے حالانکہ  یہ معاہدہ پاکستان کی مقامی صنعتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔

یہ عجیب منطق ہے کہ جہاں ہمارے مفادات پر زد پڑنے کا اندیشہ موجود تھا، وہاں حکمت عملی اور مذاکرات صرفِ نظر ہوجاتے ہیں، جیسا کہ اس معاملے میں ہوا۔

سری لنکا کے ساتھ زادانہ تجارت کا معاہدہ لے لیجیے۔ یہ وہ ملک ہے جس کی اسپین اور جنوبی کوریا کے لیے کُل برآمدات کا حجم ہم سے بھی کہیں کم ہے۔ بس افریقہ کے لیے اس کی کُل برآمدات ہم سے ذرا سا زیادہ ہیں۔ مطلب کہ یہ بہت معمولی سا تجارتی شراکت دار ملک ہے۔

مگر جب اس کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ طے پایا تو پاکستان نے کوئی سنجیدہ نوعیت کے مذاکرات نہیں کیے تھے۔ نہ تو معاہدہ کرتے ہوئے ملکی شراکت داروں سے صلاح و مشورہ ہوا اور نہ ہی نان ٹیرف حدود پر بات کی گئی تھی۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزشین یا ڈیلیو ٹی او کے معاملے پر بھی پاکستان سویا رہا۔ یہ جاگا بھی تو اس وقت جب یہ نافذ ہوچکا تھا۔

اس وقت افغان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ اسی کے تحت ہورہی ہے، جس میں سب سے بڑا ہاتھ ڈبلیو ٹی او کا ہے، جس کی بنیاد صرف مفاہمت کی ایک یادداشت پر رکھی گئی تھی۔

سو یہ وہ تجارتی معاہدے ہیں جو ہماری حکومتوں نے اپنے مفادات اور تجارتی حصے کو نظر انداز یا کمتر سمجھتے ہوئے کیے۔

ہندوستانی حکومت کے ساتھ آزادانہ زمینی راستے سے تجارت کے معاہدے کو اس طرح دیکھا جارہا ہے کہ جیسے اس کے نتیجے میں کوئی بڑی آفت یا دہشت گردی کی جنگ جیسی صورتِ حال کا ہمیں سامنا ہوسکتا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ جب پاکستان پر دباؤ ہے کہ وہ پیچیدہ تر باہمی مسائل سے اپنے تجارتی مفادات کو علیحدہ کرکے اس کا نہایت سنجیدگی سےجائزہ لے۔

یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت نے اس ضمن میں معاشی مفادات پر مبنی خاکہ سازی کے لیے مقامی شراکت داروں سے مشاورت کی۔

اس سے پہلے ملک میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ معاملات بالا ہی بالا طے کرلیے جاتے تھے۔ خواہ وہ کرائے دار کی تلاش میں، رسائی چاہنے والوں کی بات ہی کیوں نہ ہو۔

اب یہ بات عام ہوچکی کہ پااکستان کے تین بڑے صنعتی شعبے ہندوستان کے ساتھ آزادانہ تجارت پر شدید تحفظات رکھتے ہیں، یہ ہیں: فارماسیوٹیکلز، ٹیکساٹلز اور آٹوبائلز۔ لیکن ان تینوں کے خدشات یکساں نوعیت کے نہیں ہیں۔

مثال کے طور پر ٹیکسٹائل شعبے کا سب سے بڑا نمائندہ صنعتی گروپ آل پاکستان ٹیکسٹائلز مینو فیکچرنگ ایسوسی ایشن یا  اپٹما ہندوستان کے سارتھ تجارت کے حق میں ہے۔ اس طرح اسے مشرق کی متعدد تجارتی منڈیوں تک رسائی مل سکتی ہے۔

یہ نہام نہاد 'ویلیو ایڈڈ' شعبے کے خلاف ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ مختلف تجارتی سہولتوں سے لطف اندوز ہونے والے ہندوستانی صنعت کار اس طرح پاکستان کا سارا سوت کپاس خرید کر، 'ویلیو ایڈڈ' شعبے کو بیچ ڈالیں گے۔

فارماسیوٹیکلز یا دوا سازی کے شعبے میں کراچی کے بڑے بڑے صنعت کاروں کو چھوڑ کر، باقی ماندہ بھی اپنے تحفظات پر تقسیم نظر آتے ہیں۔ وہ ہندوستان کے آزاد تجارت کے ذریعے رسائی سے سستے خام مال اور تکنیککی مہارتوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جو ان کے مخالف ہیں، اُن کی دلیل ہے کہ اس سے دوا سازی کی مقامی صنعت تباہ ہوجائے گی۔ یہ وہ صنعت کار ہیں جو لاہور اور اس کے گرد و نواح سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں دوا سازی کاٹج انڈسٹری کے جنگل کے طور پر پھیل چکی ہے۔ مثال کے طور پر وہاں کا تیار کردہ ایک کھانسی کا شربت لاہور، گوجرانوالہ میں گذشتہ برس سو سے زائد جانیں لے چکا ہے۔

آٹو موبائلز یا کار سازی کی صنعت کی کہانی دوسری ہے۔ اس شعبے میں ایک بھی ایسے شخص کی تلاش بہت مشکل ہے جسے اپنے تحفظات سے ہمدردی ہو۔ اس شعبے کی حفاظت کے لیے اس سے متعلق لوگوں کا انحصار حکومت پر بڑھتا جارہا ہے۔

موقع کوئی بھی ہو، فہرست میں ان کا معاملہ حساسیت کی جگہ ہی پائے گا۔ حالانکہ پیداوار میں سہولتیں دے کر اور ان کی حوصلہ افزائی کے اقدامات سے، ان کے تحفظات دور کیے جاسکتے ہیں۔

نقطہ سادہ سا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ آزادانہ اور نارمل تجارت پر پیش رفت میں کوئی بڑی رکاوٹ حائل نہیں ماسوائے اُن لوگوں کے تحفظات کے، جو ہندوستان کے ساتھ تمام تر تعلقات میں الجھاؤ کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

اُلجھاؤ کو سلجھانے کی کڑی لڑائی لڑنے کے بعد اب معاملات کامیابی سے اپنے اختتام کی طرف بڑھ چکے ہیں۔ ہمیں تجارت، شراکت اور تعلقات کے اس درخت کا پھل کھانے کے لیے ذرا سی برداشت اور حوصلے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔


مضمون نگار صحافی ہیں اور معیشت ان کا ماہرانہ موضوع ہے۔

[email protected]

Twitter: @khurramhusain

ترجمہ: مختار آزاد