ابھی یا کبھی نہیں

15 مارچ 2013

musharraf-reut-290

سابق صدر پاکستان اور فوجی حکمران جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اسمبلیوں کی تحلیل کے ایک ہفتے بعد یعنی 24 مارچ کو پاکستان واپس آ رہے ہیں۔

یہ وقت ان کیلیے موزوں ہے یا نہیں، یہ کہنا تو قبل از وقت ہو گا لیکن ان کا یہ دورہ مکمل طور پر سیاسی نوعیت کا ہو گا اور جیسا کہ سابق صدر پہلی مارچ کو دبئی میں کی گئی پریس کانفرنس میں بتا چکے ہیں کہ آنے والے انتخابات میں اپنی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔

انہوں نے پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب میں ملک کی صورتحال کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے انتہائی افسوس ہوتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری وطن واپسی انتہائی اہم ہے اور اسی لیے میں اپنے ضرور واپس آؤں گا۔

ریٹائرڈ جنرل کے اس اعلان کے ساتھ ہی مکتلف سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں، جس میں ان کے خلاف زیر التوا کیسز سرفہرست ہے، اس حوالے سے بھی سوالات کیے جا رہے ہیں کہ کیا ان کی پارٹی الیکشن میں اچھا پرفارم کر سکے گی اور ان کے سرزمین پر قدم رکھتے ہی کس قسم کی سیاسی صورتحال پیدا ہو گی؟۔

سابق صدر کے خلاف درج کیسز کا ذکر کیا جائے تو اس میں سرفہرست سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور  نواب اکبر بگٹی کا قتل ہے جبکہ ان پر لال مسجد آپریشن میں بھی براہ راست ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اس تناظر مین خود ساختہ جلاوطن سابق صدر کی وطن واپسی پر حکومت ان کیخلاف اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر سکتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سابق صدر کے اعلان کے بعد گزشتہ دنوں سینیٹ میں بھی کافی ہنگامہ ہوا تھا۔

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رجا ربانی نے قانون دانوں کو یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ سال سابق صدر کیخلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کی گئی تھی۔

مشرف کے حامی یقینی طور پر ان باتوں سے خوش نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے خیال میں جہاں تک امن وامان، تحفظ ار برداشت کی بات ہے تو یہ سب چیزیں مشرف سے بہتر کوئی ہینڈل نہیں کر سکتا۔

جہاں کچھ لوگوں کی یہ رائے ہے تو دوسری جانب کچھ لوگوں کو خطرہ ہے ہے سابق صدر کی وطن واپسی کے ساتھ ہی ملک افرا تفریح کا شکار ہو سکتا ہے خصوصاً اس موقع پر ان کی آمد کو بہت سے لوگ شکوک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں جبکہ یہاں یہ بات بی انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی کہ کیا انہیں الیکشن میں حصہ لینے پر کسی قسم کی اختلاف رائے یا قدوغن کا سامنا تو نہیں کرنا پڑے گا۔

ان تمام سوالات اور آل پاکستان کی بڑھتی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا مشرف واپس پاکستان آئیں گے؟

کیا وہ الیکشن کیلیے ایک قابل قبول امیدوار ہوں گے؟ سابق ملٹری ڈکٹیٹر نے آج سے پہلے کبھی بھی عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور ا دفععہ ایسا کرنے کی صورت میں بھرپور قانونی داؤ پیچ درکار ہو گی۔

تبصرے (3) بند ہیں

Aamir Munir Mar 20, 2013 04:04pm
General Musarif is a real leader.
Ali Khan Mar 22, 2013 04:53am
Pervaiz Musharaf will not come to Paksitan ever.
abdulrana Mar 23, 2013 09:40pm
Any one leave his country to save his neck should not allow to come back ?